خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان عبد الحمید ثانی

« السلطان عبد الحميد الثاني بن عبد المجيد الأول العثماني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان عبد الحمید ثانی سلطنتِ عثمانیہ کے 34ویں سلطان اور اسلامی تاریخ کے آخری بااختیار خلیفہ تھے۔ آپ 21 ستمبر 1842ء کو دارالخلافہ استنبول میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان عبد المجید اول تھے۔ آپ نے انتہائی سخت اور کٹھن حالات میں پرورش پائی۔ انہوں نے دینی علوم، عربی، فارسی، فرانسیسی زبان، تاریخ اور فنِ حرب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بچپن ہی سے آپ کی طبیعت سنجیدہ، مدبرانہ اور صوفیانہ رنگ لیے ہوئے تھی۔ آپ کا تعلق سلسلہ شاذلیہ کے ممتاز صوفی بزرگوں سے تھا، جس نے آپ کی روحانی اور اخلاقی زندگی پر گہرے نقوش ثبت کیے۔

تخت نشینی اور سلطنت کی حالتِ زار

سلطان عبد الحمید ثانی 31 اگست 1876ء کو ایسے وقت میں تخت نشین ہوئے جب سلطنتِ عثمانیہ انتہائی نازک دور سے گزر رہی تھی۔ اندرونی طور پر باغی تحریکیں (خاص طور پر بلقان میں) اور بیرونی طور پر یورپی استعماری طاقتیں سلطنت کو تقسیم کرنے کے درپے تھیں۔ مالیاتی طور پر سلطنت دیوالیہ پن کے قریب تھی اور یورپی ممالک اسے "یورپ کا مردِ بیمار” (Sick Man of Europe) کہتے تھے۔ آپ نے عنانِ اقتدار سنبھالتے ہی غیر معمولی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلطنت کا پہلا تحریری دستور (قانونِ اساسی) نافذ کیا اور پارلیمنٹ کا قیام عمل میں لایا، لیکن بعد میں ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے اقتدار کی باگ ڈور براہِ راست اپنے ہاتھ میں لے لی۔

نمایاں کارنامے، علمی و اسلامی خدمات اور خلافت کا دفاع

سلطان عبد الحمید ثانی کے 33 سالہ دورِ حکومت میں بے شمار اصلاحات اور کارنامے انجام دیے گئے، جن میں نمایاں درج ذیل ہیں:

  • تحریکِ اتحادِ اسلامی (Pan-Islamism): آپ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو خلافت کے پرچم تلے متحد کرنے کے لیے ایک عظیم مہم شروع کی، جس کے دور رس اثرات برصغیر پاک و ہند، وسطی ایشیا اور افریقہ تک پہنچے۔
  • حجاز ریلوے (Hejaz Railway): دمشق سے مدینہ منورہ تک حجاز ریلوے کا قیام آپ کا سب سے بڑا تاریخی و تزویراتی کارنامہ ہے۔ اس کا مقصد حجاجِ کرام کو سفری سہولت فراہم کرنا اور حجازِ مقدس کے دفاع کو مضبوط بنانا تھا، جو کہ مکمل طور پر اسلامی دنیا کے چندوں سے تعمیر کی گئی۔
  • دفاعِ فلسطین: صیہونی تحریک کے بانی تھیوڈور ہرٹزل نے جب سلطنت کے تمام بیرونی قرضے اتارنے کے عوض فلسطین میں یہودیوں کے لیے زمین کا مطالبہ کیا، تو سلطان نے اسے تاریخی الفاظ کے ساتھ مسترد کر دیا اور بیت المقدس کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
  • تعلیمی اور مواصلاتی انقلاب: انہوں نے سلطنت بھر میں مدارس، یونیورسٹیوں (بشمول جامعہ استنبول)، ہسپتالوں، اور تار گھروں (Telegraph lines) کا ایک جال بچھایا جس سے مواصلاتی نظام جدید خطوط پر استوار ہوا۔

سقوطِ خلافت کی سازشیں اور معزولی

سلطان کی اسلامی پالیسیوں، صیہونیت کی مخالفت اور یورپی ممالک کے عزائم کی راہ میں حائل ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف اندرونی و بیرونی سازشیں عروج پر پہنچ گئیں۔ صیہونیوں، فری میسنز اور مغربی طاقتوں نے مل کر "نوجوانانِ ترک” (Young Turks) اور "اتحاد و ترقی کمیٹی” کو سلطان کے خلاف استعمال کیا۔ بالآخر 27 اپریل 1909ء کو ایک انتہائی مشکوک اور جبری فتوے کے ذریعے آپ کو معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ آپ کی معزولی درحقیقت خلافتِ عثمانیہ کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی جس کے بعد اگلی چند دہائیوں میں عالمِ اسلام بکھر کر رہ گیا۔

وصال اور تاریخی میراث

سلطان عبد الحمید ثانی نے اپنی زندگی کے آخری سال قید و بند اور کڑی نگرانی میں گزارے۔ بالآخر 10 فروری 1918ء کو جنگِ عظیم اول کے اختتام کے قریب، استنبول کے بیلر بیئی محل میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کا جنازہ انتہائی شان و شوکت اور عوامی رنج و ملال کے ساتھ اٹھایا گیا اور آپ کو استنبول کے تاریخی قبرستان میں ان کے دادا سلطان محمود ثانی کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ مورخین انہیں "آخری عظیم عثمانی” تسلیم کرتے ہیں جنہوں نے دم توڑتی ہوئی خلافت کو تین دہائیوں تک سہارا دیے رکھا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ڈاکٹر علی محمد الصلابی (الدولة العثمانية: عوامل النهوض وأسباب السقوط)
  • محمد فرید بک المحامی (تاريخ الدولة العلية العثمانية)
  • اورخان محمد علی (السلطان عبد الحميد الثاني: حياته وعصره)
  • سلطان عبد الحمید ثانی (مذكراتي السياسية – مکتوبات و ڈائری)
  • یلمار عوزتونا (تاريخ الدولة العثمانية)

مبارک اقوال و ارشادات

میں فلسطین کی ایک بالشت زمین بھی صیہونیوں کے ہاتھ فروخت نہیں کروں گا، کیونکہ یہ میری ملکیت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی امانت ہے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے خون بہایا ہے۔

اگر خلافتِ عثمانیہ کا یہ درخت کٹ بھی جائے، تب بھی اس کے بیج دنیا بھر میں بکھر کر ایک دن دوبارہ تناور درخت بنیں گے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان عبد الحمید ثانی

لقب و کنیت: خادم الحرمین الشریفین، خلیفۃ المسلمین، الغازی، السلطان معظم، آخری عظیم عثمانی خلیفہ، ابو الہدیٰ
قبیلہ: خاندانِ آلِ عثمان (ترک قبیلہ قائی)
سن پیدائش و وفات: 16 شعبان 1258 ھ – 28 ربیع الثانی 1336 ھ / 21 ستمبر 1842ء – 10 فروری 1918ء
مقام تدفین: مقبرہ سلطان محمود ثانی، دیوان اوغلو، استنبول، ترکی
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com