خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان ظاہر رکن الدین بیبرس

« الملك الظاهر ركن الدين بيبرس العلائي البندقداري الصالحي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان ظاہر رکن الدین بیبرس تقریباً 1223ء (620 ہجری) میں دشتِ قبچاق (موجودہ قازقستان و جنوبی روس کا درمیانی علاقہ) کے ایک ترک خاندان میں پیدا ہوئے۔ تاتاریوں کے حملوں کے دوران انہیں بچپن میں قیدی بنا لیا گیا اور غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔ دمشق اور بعد ازاں قاہرہ کے بازاروں سے گزرتے ہوئے، ان کی غیر معمولی جسمانی ساخت، ذہانت اور جنگی صلاحیتوں کو بھانپ کر ایوبی سلطنت کے امیر علاء الدین بندقدار نے انہیں خریدا۔ اسی مناسبت سے وہ ‘البندقداري’ کہلائے۔ بعد میں وہ ایوبی سلطان الملک الصالح نجم الدین ایوب کے خاص مملوک دستے ‘الممالیک الصالحیہ’ کا حصہ بنے اور اپنی شجاعت اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر تیزی سے ترقی کرتے ہوئے فوج کے سپہ سالار بن گئے۔

مملوک سلطنت کا قیام اور عسکری خدمات

رکن الدین بیبرس نے تاریخِ اسلام کے نازک ترین موڑ پر اپنے جوہر دکھائے۔ 1250ء میں جب ساتویں صلیبی جنگ کے دوران فرانس کے بادشاہ لوئی نہم نے مصر پر حملہ کیا، تو بیبرس نے معرکہ منصورہ میں صلیبیوں کو بدترین شکست دی اور فرانسیسی بادشاہ کو قیدی بنا لیا۔ مصر میں ایوبی سلطنت کے خاتمے اور مملوک سلطنت کے قیام میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ 1258ء میں جب ہلاکو خان نے بغداد کو تباہ کر دیا اور تاتاری لشکر شام کو روندتا ہوا مصر کی طرف بڑھا، تو بیبرس نے مملوک سلطان سیف الدین قطز کی سرکردگی میں 1260ء میں ‘معرکہ عین جالوت’ کی قیادت کی۔ اس تاریخی معرکے میں بیبرس نے تاتاریوں کے ناقابلِ شکست ہونے کے افسانے کو خاک میں ملا دیا اور عالمِ اسلام کو ایک یقینی تباہی سے بچا لیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

سلطان قطز کے بعد بیبرس مصر اور شام کے سلطان بنے۔ ان کا دورِ حکومت (1260ء تا 1277ء) اسلامی تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ انہوں نے تاتاریوں کے خلاف مسلسل جنگیں لڑیں اور انہیں شام سے پیچھے دھکیل دیا۔ صلیبیوں کے مضبوط ترین گڑھ ‘انطاکیہ’ کو 1268ء میں فتح کر کے انہوں نے صلیبیوں کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی۔ عسکری فتوحات کے ساتھ ساتھ، انہوں نے قاہرہ میں عباسی خلافت کو دوبارہ قائم کیا جس سے مملوک سلطنت کو عظیم مذہبی و سیاسی جواز حاصل ہوا۔ انہوں نے مصر اور شام میں عدالتی نظام کی اصلاح کی، چاروں مذاہبِ فقہ کے لیے الگ قاضی مقرر کیے، نہریں کھدوائیں، ڈاک کا جدید نظام رائج کیا، اور دمشق کی عظیم مسجدِ ظاہریہ اور قاہرہ کی جامع بیبرس جیسی شاندار عمارتیں تعمیر کروائیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

سلطان ظاہر رکن الدین بیبرس نے اپنی پوری زندگی اسلام کے دفاع اور تاتاری و صلیبی فتنوں کے استیصال میں گزاری۔ 27 محرم 676ھ (1 جولائی 1277ء) کو دمشق میں ایک عسکری مہم سے واپسی پر ان کا انتقال ہوا۔ انہیں دمشق کے قلب میں واقع ان کے اپنے قائم کردہ کتب خانہ ‘المکتبہ الظاہریہ’ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اسلامی تاریخ میں انہیں ‘مجددِ ملت’ اور ‘فاتحِ اعظم’ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جن کے عزم و ہمت نے زوال پذیر مسلم دنیا کو دوبارہ عروج بخشا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد 13، حوادثِ سنہ 676ھ)
  • المقريزی، السلوك لمعرفة دول الملوك (احوالِ سلطنتِ بیبرس)
  • ابن عبد الظاہر، الروض الزاهر في سيرة الملك الظاهر (سوانحِ سلطان بیبرس)
  • الذہبی، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام (وفیاتِ 676ھ)

مبارک اقوال و ارشادات

اگر میں اپنی عسکری مہمات اور فوج کے ساتھ میدانِ کارزار میں نہ نکلتا، تو تاتاری اور صلیبی شام اور مصر کو صفحہ ہستی سے مٹا چکے ہوتے۔

سلطنت کی بقا اور کامیابی کا راز فوج کی کثرت میں نہیں، بلکہ رعایا کے ساتھ عدل اور شریعتِ محمدیہ کے نفاذ میں پوشیدہ ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان ظاہر رکن الدین بیبرس

لقب و کنیت: ابو الفتوح، الملك الظاهر، ركن الدين، قاهر التتار والصليبيين، بطل الإسلام
قبیلہ: قبچاق ترکی (دشتِ قبچاق، وسطی ایشیا کا ترک قبیلہ)
سن پیدائش و وفات: 620ھ – 27 محرم 676ھ / 1223ء – 1 جولائی 1277ء
مقام تدفین: المکتبہ الظاہریہ، دمشق، شام
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com