خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان صلاح الدین ایوبی

« الملك الناصر أبو المظفر صلاح الدين يوسف بن أيوب بن شاذي بن مروان التكريتي الكردي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان صلاح الدین یوسف بن ایوب کی ولادت 532 ہجری (1137 عیسوی) میں عراق کے شہر تکریت میں ہوئی۔ آپ کا تعلق کردش قبیلہ رواویہ سے تھا، جو ہذبانی کردوں کی ایک شاخ تھی۔ آپ کے والد نجم الدین ایوب اور چچا اسد الدین شیرکوہ دونوں بااثر اور بہادر فوجی کمانڈر تھے۔ یہ دونوں بھائی زنگی سلطنت کے عظیم حکمران نورالدین زنگی کے ماتحت خدمات انجام دیتے تھے۔ صلاح الدین نے اپنی ابتدائی زندگی دمشق اور بعد میں قاہرہ میں گزاری، جہاں انہیں فوجی اور انتظامی امور کی تربیت دی گئی۔ آپ کی پرورش خالص اسلامی ماحول میں ہوئی اور آپ نے شجاعت، تقویٰ اور عدل کی صفات اپنے والدین اور چچا سے ورثے میں پائیں۔

558 ہجری (1164 عیسوی) میں، نورالدین زنگی نے اپنے چچا اسد الدین شیرکوہ کو مصر میں فاطمی خلافت کے انتشار سے فائدہ اٹھانے اور صلیبیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا۔ صلاح الدین نے اس مہم میں اپنے چچا کے ساتھ شرکت کی۔ کئی مہمات اور فوجی کامیابیوں کے بعد، شیرکوہ مصر کے وزیر بن گئے، لیکن جلد ہی وفات پا گئے۔ ان کی وفات کے بعد 564 ہجری (1169 عیسوی) میں صلاح الدین کو مصر کا وزیر مقرر کیا گیا۔

علمی مقام، کارنامے اور خدمات

سلطان صلاح الدین ایوبی کی شخصیت بیک وقت ایک عظیم سپہ سالار، مدبر حکمران، عادل قاضی اور علوم و فنون کے سرپرست کے طور پر ابھری۔ مصر کا وزیر بننے کے بعد، آپ نے بتدریج فاطمی خلافت کو ختم کیا جو اپنے آخری سانسیں لے رہی تھی، اور مصر میں عباسی خلافت کو دوبارہ قائم کر کے سنی اسلام کو فروغ دیا۔ اس کے بعد، آپ نے شام کو بھی نورالدین زنگی کے وارثوں سے حاصل کر کے مصر اور شام کو ایک طاقتور اسلامی سلطنت کے تحت متحد کیا۔

آپ کے سب سے عظیم کارناموں میں صلیبیوں کے خلاف جہاد کا از سر نو آغاز اور بیت المقدس کی آزادی شامل ہے۔ آپ نے 25 ربیع الثانی 583 ہجری (4 جولائی 1187 عیسوی) کو حطین کے میدان میں صلیبی افواج کو ایک فیصلہ کن شکست دی، جسے تاریخ میں ‘جنگ حطین’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس عظیم فتح کے بعد، آپ نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھا اور 27 رجب 583 ہجری (2 اکتوبر 1187 عیسوی) کو تقریباً 88 سال کے صلیبی قبضے کے بعد بیت المقدس کو فتح کر کے عالم اسلام کو ایک نئی زندگی اور امید بخشی۔

بیت المقدس کی فتح کے بعد، یورپی طاقتوں نے تیسری صلیبی جنگ کا آغاز کیا جس کی قیادت انگلستان کے بادشاہ رچرڈ شیر دل کر رہے تھے۔ اس طویل اور کٹھن جنگ میں سلطان صلاح الدین نے غیر معمولی صبر، شجاعت اور فوجی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ اگرچہ عکا کا شہر صلیبیوں کے ہاتھوں چلا گیا، لیکن سلطان نے بیت المقدس کو مکمل طور پر صلیبیوں کے قبضے سے محفوظ رکھا اور یروشلم میں مسلمانوں کا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ آپ نے متعدد مدارس، مساجد، شفاخانے اور علمی مراکز قائم کیے، جن سے اسلامی علوم کی ترویج ہوئی۔ آپ کا دور عدل و انصاف، امن و امان اور علمی ترقی کا دور تھا۔

فضائل، مناقب اور اوصاف حمیدہ

سلطان صلاح الدین ایوبی کی شخصیت کمالات اور اوصاف حمیدہ کا مجموعہ تھی۔ آپ انتہائی دیندار، پرہیزگار اور سادہ زندگی بسر کرنے والے حکمران تھے۔ آپ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ وفات کے وقت آپ کے ذاتی خزانے میں چند درہم اور دینار سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ آپ کے عدل و انصاف کا چرچا عام تھا، اور آپ مظلوموں کی فریاد سنتے اور ان کا حق دلاتے۔

آپ کی شجاعت بے مثال تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کے دل میں عفو و درگزر اور رحم دلی بھی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد، آپ نے شکست خوردہ صلیبیوں کے ساتھ جو حسن سلوک کیا، اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ آپ نے ان سب کو جان و مال کی امان دی اور باحفاظت شہر سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا۔ آپ کو جہاد فی سبیل اللہ سے گہری محبت تھی اور آپ نے اپنی پوری زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کر دی۔ آپ میں کبھی تکبر یا غرور پیدا نہیں ہوا، بلکہ آپ ہمیشہ عاجزی اور اللہ پر توکل کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے۔ آپ کی ان صفات کی وجہ سے نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم مورخین اور حتیٰ کہ آپ کے دشمن بھی آپ کی عظمت کے قائل تھے۔

وفات، تدفین اور تاریخی میراث

مسلم امت کا یہ عظیم مجاہد اور حکمران 27 صفر 589 ہجری (4 مارچ 1193 عیسوی) کو دمشق میں بخار کے باعث وفات پا گیا۔ آپ کی وفات پر عالم اسلام میں سوگ کا سماں چھا گیا، اور ہر آنکھ اشکبار تھی۔ آپ کو دمشق میں جامع اموی کے پہلو میں، مدرسہ عزیزیہ کے قریب دفن کیا گیا، جہاں آج بھی آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایوبی سلطنت کی بنیاد رکھی جس نے کئی دہائیوں تک مصر، شام اور جزیرہ نما عرب کے علاقوں پر حکومت کی۔ آپ کو اسلامی تاریخ میں ایک عظیم سپہ سالار، حکمران، اور سب سے بڑھ کر بیت المقدس کے فاتح کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نہ صرف ایک فوجی اور سیاسی رہنما تھے بلکہ اسلامی اتحاد، عدل و انصاف اور دین کی خدمت کی ایک زندہ علامت بن گئے۔ آپ کی میراث آج بھی مسلم دنیا کو اتحاد، جہاد اور اللہ کے راستے میں ثابت قدمی کا درس دیتی ہے۔ مغربی دنیا میں بھی آپ کو ایک قابل احترام، بہادر اور منصف مزاج دشمن کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن الاثیر، عز الدین ابو الحسن علی بن ابی الکرم، الکامل فی التاریخ۔
  • عماد الدین الکاتب الاصفہانی، الفتح القسي في الفتح القدسي۔
  • بہاء الدین ابن شداد، النوادر السلطانية والمحاسن اليوسفية (سيرة صلاح الدین)۔
  • ابو شامہ المقدسی، شہاب الدین عبد الرحمٰن بن اسماعیل، کتاب الروضتین فی اخبار الدولتین۔
  • المقریزی، تقی الدین احمد بن علی، المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار۔

مبارک اقوال و ارشادات

جب تک بیت المقدس صلیبیوں کے قبضے میں ہے، میرے لیے ہنسنا حرام ہے۔

اگر اللہ مجھے جہاد کے بعد جنت میں داخل نہ کرے تو اس سے بڑا میرا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

دنیا کی بادشاہت عارضی اور فانی ہے۔ اصل بادشاہت آخرت کی ہے۔

لوگوں کے ساتھ عدل کرو، ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم کی سزا دنیا اور آخرت دونوں میں ملتی ہے۔

میں نے اپنے دل کو بیت المقدس کی آزادی کے سوا ہر چیز سے روک رکھا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان صلاح الدین ایوبی

لقب و کنیت: ابو المظفر، الملک الناصر، صلاح الدین، السلطان، فاتح بیت المقدس، خادم الحرمین الشریفین (بسبب ان کی اسلامی خدمات)
قبیلہ: آپ کا تعلق کردش قبیلہ رواویہ سے تھا، جو کہ ہذبانی کردوں کی ایک شاخ تھی۔ ان کے آباء و اجداد کا تعلق آرمینیا کے علاقے دوین سے تھا۔
سن پیدائش و وفات: سن پیدائش: 532 ہجری / 1137 عیسوی (بمقام تکریت، عراق) سن وفات: 27 صفر 589 ہجری / 4 مارچ 1193 عیسوی (بمقام دمشق، شام)
مقام تدفین: آپ دمشق، شام میں جامع اموی کے پہلو میں، مدرسہ عزیزیہ کے قریب مدفون ہیں۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com