خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان شمس الدین التمش (جنہیں ايلتتمش بھی لکھا جاتا ہے) وسطی ایشیا کے معزز ترک قبیلے ‘البری’ کے ایک سردار ایلام خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن ہی سے انتہائی حسین، ذہین اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی ان صفات کی وجہ سے ان کے بھائی ان سے حسد کرنے لگے اور انہوں نے یوسف علیہ السلام کی تاریخ دہراتے ہوئے انہیں بچپن میں ہی ایک تاجر کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ مختلف ہاتھوں سے بکتے ہوئے بالآخر وہ غزنی پہنچے جہاں ان کی علم و فضل اور عسکری صلاحیتوں کے چرچے عام ہوئے۔ ان کی غیر معمولی ذہانت کو دیکھ کر دہلی کے بانی سلطان قطب الدین ایبک نے انہیں خرید لیا اور اپنی آغوشِ تربیت میں لے کر ان کی بہترین علمی و عسکری تربیت فرمائی۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
التمش پیدائشی مسلمان تھے اور انہوں نے انتہائی متقی اور صالح ماحول میں پرورش پائی۔ شہاب الدین غوری کے خلاف کھوکھروں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے التمش نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی اس جرات مندی سے متاثر ہو کر سلطان شہاب الدین غوری نے قطب الدین ایبک کو حکم دیا کہ التمش کو غلامی سے آزاد کر دیا جائے۔ چنانچہ انہیں باقاعدہ آزاد کر کے بدایوں کا گورنر مقرر کیا گیا۔ قطب الدین ایبک نے ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر اپنی بیٹی کی شادی بھی ان سے کر دی۔ ایبک کی اچانک وفات کے بعد سلطنتِ دہلی زوال کا شکار ہونے لگی، تو سلطنت کے مقتدر امرا اور علمائے کرام نے متفقہ طور پر التمش کو تختِ دہلی پر بیٹھنے کی دعوت دی۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
سلطان شمس الدین التمش کو تاریخِ اسلام میں ‘سلطنتِ دہلی کا حقیقی بانی’ مانا جاتا ہے۔ انہوں نے بکھری ہوئی اسلامی مقبوضات کو ایک مستحکم مرکزیت عطا کی۔ ان کے دور کے چند عظیم الشان کارنامے درج ذیل ہیں:
1۔ خلافتِ بغداد سے سندِ حکومت: 1229ء میں عباسی خلیفہ المستنصر باللہ نے انہیں ‘سلطانِ اعظم’ کا خطاب اور خلعتِ فاخرہ عطا کی، جس سے سلطنتِ دہلی کو پوری اسلامی دنیا میں ایک قانونی اور مذہبی حیثیت حاصل ہو گئی۔
2۔ منگول فتنے کا سدِ باب: چنگیز خان کی قیادت میں جب منگولوں نے خوارزم شاہی سلطنت کو تباہ کیا، تو التمش نے کمالِ تدبر اور سفارتی حکمتِ عملی سے دہلی کو منگولوں کی تباہ کاریوں سے بچا لیا۔
3۔ تعمیراتی سرگرمیاں: انہوں نے قطب مینار کی تعمیر کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، مسجد قوت الاسلام کی توسیع کی، اور دہلی میں ‘مدرسہ ناصریہ’ قائم کیا جو علم و ہنر کا گہوارہ بنا۔
4۔ اسلامی سکّہ رائج کرنا: التمش پہلے ترک حکمران تھے جنہوں نے عربی طرز پر خالص چاندی کا ‘تکہ’ اور تانبے کا ‘جیتل’ نامی سکہ جاری کیا، جس نے برصغیر کی معیشت کو مستحکم کیا۔
وہ انتہائی شب بیدار، باوضو رہنے والے اور صوفیائے کرام بالخصوص خواجہ معین الدین چشتی اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے عقیدت مند تھے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سلطان التمش نے تقریباً 26 سال انتہائی عدل و انصاف اور دبدبے کے ساتھ حکومت کی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ علیل ہو گئے اور بالآخر 20 شعبان 633ھ بمطابق 28 اپریل 1236ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں نئی دہلی میں قطب منار کے قریب مہرولی کے تاریخی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ ان کا مزار آج بھی زائرین اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی رضیہ سلطانہ تخت نشین ہوئیں جو برصغیر کی پہلی نامور مسلم خاتون حکمران بنیں۔ سلطان التمش کی قائم کردہ سلطنت نے برصغیر میں اگلی کئی صدیوں تک مسلم اقتدار اور اسلامی ثقافت کی مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- منہاج سراج جوزجانی (طبقاتِ ناصری – معاصر تاریخی ماخذ)
- ابن بطوطہ (رحلہ ابن بطوطہ / عجائب الاسفار)
- ضیاء الدین برنی (تاریخ فیروز شاہی)
- ملا عبدالقادر بدایونی (منتخب التواریخ)
- فرشتہ (تاریخ فرشتہ / گلشنِ ابراہیمی)
مبارک اقوال و ارشادات
سلطنتوں کا اصل استحکام فوج کی کثرت سے نہیں بلکہ رعایا کے ساتھ عدل و انصاف اور علمائے دین کی تکریم سے ہوتا ہے۔
میں نے ہمیشہ خدا کے عاجز بندے کی حیثیت سے حکومت کرنے کی کوشش کی ہے، اور میرا سر خلافتِ بغداد کے سامنے ہمیشہ تسلیمِ نیاز کے لیے جھکا رہے گا۔
دہلی کی سرزمیں پر اسلام کا پرچم لہرانا میری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ اور قلبی سکون ہے۔
