خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان سیف الدین قطز کا اصل نام محمود بن ممدود تھا اور وہ خوارزم شاہی سلطنت کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ سلطان جلال الدین خوارزم شاہ کے بھانجے تھے۔ جب چنگیز خان کی قیادت میں منگولوں نے خوارزم شاہی سلطنت کو نیست و نابود کیا، تو محمود کو قیدی بنا لیا گیا اور دمشق کے غلاموں کے بازار میں فروخت کر دیا گیا۔ ترکی زبان میں ان کا نام ‘قطز’ رکھا گیا جس کے معنی ‘وحشی کتا’ یا ‘غصیلے’ کے ہیں، کیونکہ وہ بچپن ہی سے غیر معمولی بہادری، دلیری اور خوددار طبع کے مالک تھے۔ دمشق سے انہیں مصر کے مملوک امیر عز الدین ایبک نے خرید لیا، جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر تیزی سے ترقی کرتے ہوئے سپہ سالار اور نائب السلطنت کے عہدے تک پہنچے۔
مصر میں سیاسی بحران اور تخت نشینی
مصر پر مملوک سلطنت قائم ہونے کے بعد، صیہونی اور منگول خطرات منڈلا رہے تھے۔ جب ہلاکو خان نے بغداد کو تباہ کر دیا اور خلافتِ عباسیہ کا خاتمہ کر کے شام پر قبضہ کر لیا، تو مصر اگلا ہدف تھا۔ اس نازک موڑ پر مصر کا سلطان ایک کم سن بچہ (منصور علی) تھا، جو اس عظیم طوفان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ سلطنتِ اسلامیہ کے دفاع اور تاتاریوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے، سیف الدین قطز نے 657ھ (1259ء) میں علما اور عمائدینِ سلطنت کی رضامندی سے عنانِ حکومت سنبھالی اور خود کو ‘الملک المظفر’ کے لقب سے سلطان اناؤنس کیا۔ انہوں نے سلطان العلماء شیخ العز بن عبد السلام کی فکری اور اخلاقی رہنمائی میں اندرونی اختلافات ختم کیے اور مصر کے وسائل کو جہاد کے لیے وقف کر دیا۔
معرکہ عین جالوت اور تاتاریوں کی شکستِ فاش
ہلاکو خان نے مصر کو ہتھیار ڈالنے کا ایک دھمکی آمیز خط بھیجا، جس میں تاتاریوں کی ناقابلِ شکست ہونے کا رعب جتایا گیا تھا۔ سلطان قطز نے تاتاری قاصدوں کو قتل کروا کر جنگ کا واضح پیغام دیا اور یہ ثابت کیا کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتے۔ 25 رمضان 658ھ (3 ستمبر 1260ء) کو فلسطین کے مقام ‘عین جالوت’ پر تاریخ کی سب سے فیصلہ کن جنگ لڑی گئی۔ تاتاریوں کے سامنے پہلی بار مسلم افواج ڈٹ گئیں۔ جب جنگ کے دوران ایک موقع پر اسلامی لشکر لڑکھڑانے لگا، تو سلطان قطز نے اپنا خود (ہیلمٹ) زمین پر پھینک دیا اور زور سے پکارا: "وا اسلاماہ! وا اسلاماہ!” اور خود لشکر کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔ اس عظیم شجاعت نے لشکرِ اسلام میں نئی روح پھونک دی اور منگول فوج کو ایسی عبرت ناک شکست ہوئی جس سے ان کی ناقابلِ شکست ہونے کا طلسم ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔
شہادت اور تاریخی و ایمانی میراث
عین جالوت کی عظیم تاریخی فتح حاصل کرنے کے بعد جب سلطان قطز قاہرہ واپس لوٹ رہے تھے، تو راستے میں ایک سیاسی سازش کا شکار ہو گئے۔ مملوک امراء کی باہمی رقابت اور غلط فہمیوں کی بنا پر، جن میں ظاہر بیبرس کا نام بھی لیا جاتا ہے، 15 ذوالقعدہ 658ھ کو انہیں شہید کر دیا گیا۔ سلطان قطز کا دورِ حکومت محض ایک سال کے قریب رہا، لیکن انہوں نے قلیل عرصے میں امتِ مسلمہ کو وہ جلا بخشی جس نے سقوطِ بغداد کے صدمے سے نڈھال مسلمانوں کو دوبارہ زندہ کر دیا۔ ان کی ایمانی غیرت اور جرأت مندی نے ملتِ اسلامیہ کو آنے والی کئی صدیوں تک تحفظ فراہم کیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 13)
- علامہ مقریزی (السلوك لمعرفة دول الملوك)
- ابن تغری بردی (النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة)
- امام ذہبی (تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام)
مبارک اقوال و ارشادات
1. "وا اسلاماہ! وا اسلاماہ! يا الله انصر عبدك قطز على التتار"
2. "جو لوگ جہاد سے پیچھے رہنا چاہتے ہیں وہ اپنے گھروں کو چلے جائیں، میں تنہا تاتاریوں کے سامنے جاؤں گا اور اپنی جان اسلام پر فدا کروں گا!"
3. "اگر ہم آج تاتاریوں کو نہ روک سکے، تو دنیا کی کوئی قوت مسلمانوں کو مٹنے سے نہیں بچا سکتی۔"
