خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان سلیم اول یاوز فاتح مصر و شام

« السلطان الغازي سليم الأول بن بايزيد الثاني بن محمد الفاتح العثماني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان سلیم اول (یاوز سلیم) کی ولادت 10 اکتوبر 1470ء (874ھ) کو اماسیہ، اناطولیہ میں ہوئی۔ آپ عثمانی سلطنت کے نویں سلطان تھے۔ آپ کے والد سلطان بايزيد ثانی اور دادا سلطان محمد فاتح (فاتحِ قسطنطنیہ) تھے۔ آپ کی والدہ عائشہ خاتون تھیں۔ بچپن ہی سے سلیم اول نہایت نڈر، جری، اور غیر معمولی تنظیمی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انہوں نے مذہبی علوم، شمشیر زنی، سیاسیات اور عسکری علوم میں مہارت حاصل کی۔ شہزادگی کے دور میں انہیں ترابزون کا گورنر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے صفوی سلطنت کی سرحدوں پر گہری نظر رکھی اور اپنی غیر معمولی عسکری مہارت کا لوہا منوایا۔

تخت نشینی اور داخلی فتوحات

سلطان سلیم اول کی تخت نشینی 1512ء میں ہوئی۔ ان کے دور میں مشرقی سرحدوں پر شیعی صفوی سلطنت کے بانی شاہ اسماعیل صفوی کی ریشہ دوانیاں عروج پر تھیں، جو اناطولیہ میں نظریاتی بغاوتیں بھڑکا رہے تھے۔ سلطان سلیم نے سلطنت کو داخلی انتشار سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ انہوں نے 1514ء میں شیخی خلافت کے دعویداروں کے خلاف تاریخی ‘جنگ چالدران’ لڑی۔ اس معرکے میں سلطان نے صفوی فوج کو بدترین شکست دی اور ان کے دارالحکومت تبریز پر قبضہ کر لیا۔ اس عظیم فتح نے عثمانی سلطنت کے مشرقی سرحدوں کو طویل عرصے کے لیے محفوظ کر دیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب (فتحِ مصر و شام اور خلافت)

سلطان سلیم اول کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ مملوک سلطنت کا خاتمہ اور حرمین الشریفین کی تولیت حاصل کرنا ہے۔ 1516ء میں ‘معرکہ مرج دابق’ (شام) میں انہوں نے مملوک سلطان قانصوہ غوری کو شکست دی، جس کے نتیجے میں شام، فلسطین اور لبنان عثمانی قلمرو میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد 1517ء میں ‘معرکہ ریدانیہ’ میں مملوکوں کے آخری سلطان طومان بائی کو شکست دے کر مصر فتح کر لیا۔ مصر کی فتح کے بعد عباسی خلافت کے آخری رسمی خلیفہ المتوکل علی اللہ الثالث نے خلافت کے تمام تبرکات، جن میں رسول اللہ ﷺ کی تلوار اور چادر (خرقہ شریف) شامل تھے، سلطان سلیم اول کے سپرد کر دیے۔ اس طرح خلافت باقاعدہ طور پر آلِ عثمان کی طرف منتقل ہو گئی اور سلطان سلیم پہلے عثمانی خلیفہ بنے۔ مکہ کے شریف نے کعبہ کی چابیاں سلطان کے حوالے کیں، جس پر سلطان نے عاجزی اختیار کرتے ہوئے ‘حاکم الحرمین’ کے بجائے ‘خادم الحرمین الشریفین’ کا لقب اختیار کیا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

سلطان سلیم اول محض 8 سال کی قلیل مدت تک تخت نشین رہے، لیکن ان آٹھ سالوں میں انہوں نے عثمانی سلطنت کا رقبہ دو گنا سے زیادہ کر دیا (تقریباً 32 لاکھ مربع کلومیٹر سے بڑھا کر 65 لاکھ مربع کلومیٹر کر دیا)۔ انہوں نے نہ صرف اسلامی دنیا کو ایک پرچم تلے اکٹھا کیا بلکہ آنے والے وقتوں کے لیے عثمانی خلافت کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ سلطان کا وصال 22 ستمبر 1520ء (926ھ) کو ہوا، جب وہ ہنگری کی مہم کی تیاری کر رہے تھے۔ انہیں استنبول میں سپردِ خاک کیا گیا جہاں ان کے عظیم بیٹے سلطان سلیمان قانونی نے ان کے مزار پر ‘یاوز سلیم مسجد’ تعمیر کروائی۔ ان کا دور شجاعت، فتوحات اور ملوکیت کے خاتمے کا سنہرا باب ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام محمد بن احمد بن ایاس الحنفی (بدائع الزهور في وقائع الدهور) – مملوک سلطنت کے خاتمے اور سلطان سلیم کی آمد کا آنکھوں دیکھا حال
  • محمد فرید بک المحامی (تاريخ الدولة العلية العثمانية) – عثمانی سلطنت کی مستند تاریخ
  • ڈاکٹر علی محمد الصلابی (الدولة العثمانية: عوامل النهوض وأسباب السقوط)
  • ابن عماد الحنبلي (شذرات الذهب في أخبار من ذهب) – وفیات سنہ 926ھ کا تذکرہ

مبارک اقوال و ارشادات

1. "میرے لیے مکہ اور مدینہ کا حاکم (حاکم الحرمین) کہلانے سے زیادہ باعثِ شرف 'خادم الحرمین الشریفین' (حرمین کا خادم) کہلانا ہے۔"

2. "جب تک سلطنتِ اسلامیہ کے تمام اقطار میں عدل و انصاف اور شریعتِ محمدی کا نفاذ مکمل نہیں ہو جاتا، میری تلوار میان میں نہیں جائے گی۔"

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان سلیم اول یاوز فاتح مصر و شام

لقب و کنیت: یاوز (قہار/سخت گیر)، فاتح مصر و شام، خادم الحرمین الشریفین، خلیفہ اول (عثمانی سلسلہ)، غازی
قبیلہ: خاندانِ عثمان (عثمانی خاندان - ترک اوغوز کا قبیلہ قائی)
سن پیدائش و وفات: 874 ھ - 926 ھ / 1470ء - 1520ء
مقام تدفین: یاوز سلیم مسجد، استنبول، ترکی
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com