خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان رکن الدین مسعود سلجوقی

« ركن الدين مسعود بن قلج أرسلان الأول السلجوقي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان رکن الدین مسعود سلجوقی (مسعود اول) سلاجقہ روم کے چوتھے نامور سلطان اور غازی حکمران تھے۔ آپ سلجوقی خاندان کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جس نے اناطولیہ (موجودہ ترکی) میں اسلامی حکومت قائم کی۔ آپ کی ولادت تقریباً 488 ہجری (1095ء) میں ہوئی۔ آپ کے والد سلطان قلج ارسلان اول تاریخِ اسلام کے عظیم مجاہد تھے جنہوں نے پہلی صلیبی جنگ کے دوران عیسائی لشکروں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ 1107ء میں والد کی وفات کے بعد سلجوقی سلطنت شدید انتشار کا شکار ہو گئی اور مسعود اول کو اقتدار حاصل کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرنی پڑی۔ بالآخر 1116ء میں اپنے خسر ملک غازی دانشمد کی مدد سے آپ قونیہ کے تخت پر متمکن ہوئے اور قونیہ کو مستقل طور پر سلطنت کا دارالخلافہ قرار دیا۔

سلطنت کا استحکام اور انتظامِ حکومت

تخت نشینی کے وقت اناطولیہ کے مسلمان بکھرے ہوئے تھے اور بازنطینی سلطنت (Byzantine Empire) اور صلیبی ریاستیں مسلسل مسلمانوں پر حملہ آور تھیں۔ سلطان رکن الدین مسعود نے انتہائی حکمتِ عملی سے کام لیتے ہوئے پہلے داخلی انتشار کو ختم کیا۔ انہوں نے اپنی قلمرو میں عدل و انصاف کا نظام قائم کیا، علمائے کرام اور صوفیائے عظام کو اپنے دربار سے وابستہ کیا اور اناطولیہ کے خطے میں اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ انہوں نے مساجد، مدارس، سرائے اور شفا خانے قائم کیے جس کے باعث قونیہ علم و ادب کا مرکز بن گیا اور ارد گرد کے مسلم علاقوں سے کثیر تعداد میں فقہاء اور علماء نے یہاں ہجرت کی۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب (دفاعِ اسلام اور دوسری صلیبی جنگ)

سلطان رکن الدین مسعود کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ دوسری صلیبی جنگ (Second Crusade) میں عالمِ اسلام کا دفاع ہے۔ 1147ء میں جب جرمنی کے شہنشاہ کونراڈ سوم (Conrad III) اور فرانس کے بادشاہ لوئی ہفتم (Louis VII) لاکھوں کا لشکر لے کر شام اور فلسطین پر قبضے کے ارادے سے نکلے، تو اناطولیہ کے راستے میں سلطان مسعود ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ اکتوبر 1147ء میں معرکہ دوریلیوم (Battle of Dorylaeum) کے مقام پر سلطان مسعود کی قیادت میں سلجوقی مجاہدین نے جرمن فوج کو عبرتناک شکست دی اور ان کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس کے بعد فرانسیسی فوج کو بھی زبردست جانی نقصان اٹھانا پڑا، جس کی وجہ سے یہ صلیبی مہم مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ اس عظیم الشان فتح نے عالمِ اسلام کو صلیبیوں کے خوف سے نجات دلائی اور مسلم دنیا میں سلطان کا وقار بے حد بلند ہو گیا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

سلطان رکن الدین مسعود نے تقریباً چالیس سال تک نہایت کامیابی، عدل اور شجاعت کے ساتھ حکومت کرنے کے بعد شعبان 551 ہجری (1156ء) میں وفات پائی۔ وفات سے قبل انہوں نے اپنے بیٹے عز الدین قلج ارسلان دوم کو اپنا جانشین نامزد کیا، جنہوں نے آگے چل کر اپنے والد کے مشن کو کامیابی سے جاری رکھا۔ سلطان مسعود کو قونیہ کی تاریخی علاء الدین مسجد کے احاطے میں واقع شاہی مقبرے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی تاریخی میراث یہ ہے کہ انہوں نے اناطولیہ کو ہمیشہ کے لیے ایک پائیدار مسلم خطہ بنا دیا، جس کی بنیادوں پر بعد میں خلافتِ عثمانیہ جیسی عظیم سلطنت کھڑی ہوئی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ (حالاتِ سلاجقہ روم)
  • عماد الدین الاصفہانی، تاریخ دولة آل سلجوق
  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ (وفیات 551 ہجری)
  • پروفیسر ڈاکٹر علی محمد الصلابی، دولة السلاجقة و حروبہم مع الصلیبیین
  • شہاب الدین النویری، نہایۃ الارب فی فنون الادب

مبارک اقوال و ارشادات

رعایا کی حفاظت اور شریعتِ اسلامیہ کا نفاذ ہی ایک مسلم حکمران کا اولین فرض ہے۔

صلیبیوں کے سیلابِ بلا کو روکنے کے لیے مسلم سلاطین کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان رکن الدین مسعود سلجوقی

لقب و کنیت: رکن الدین، ابو الفتح، سلطانِ روم، غازی
قبیلہ: سلجوقی خاندان (اوغوز ترک، قنق قبیلہ)
سن پیدائش و وفات: 488ھ – 551ھ / 1095ء – 1156ء
مقام تدفین: علاء الدین مسجد، قونیہ، ترکی
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com