خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان محی الدین محمد اورنگزیب عالمگیر کی ولادت 15 ذوالقعدہ 1027ھ بمطابق 3 نومبر 1618ء کو داہود (گجرات، ہندوستان) میں ہوئی۔ وہ مغل شہنشاہ شاہجہاں اور ملکہ ممتاز محل کے تیسرے بیٹے تھے۔ اورنگزیب بچپن ہی سے انتہائی ذہین، سنجیدہ مزاج اور مذہبی رجحان کے مالک تھے۔ انہوں نے روایتی مغل شہزادوں کے برعکس عیش و عشرت سے دور رہ کر علومِ اسلامیہ کی تحصیل پر توجہ مرکوز کی۔
ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت سلطنت کے نامور علماء کی زیرِ نگرانی ہوئی۔ انہوں نے قرآن مجید حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ علمِ حدیث، فقہ حنفی، عربی، فارسی اور ترکی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ تصوف اور اخلاقیات سے انہیں گہرا لگاؤ تھا، جس کے باعث انہوں نے سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم بزرگوں، خاص طور پر مجدد الف ثانی کے صاحبزادے شیخ محمد معصوم سرہندی سے بیعت و ارادت کا رشتہ قائم کیا اور ان سے سلوک کی منازل طے کیں۔
مذہبی رجحان اور ابتدائی خدمات
اورنگزیب عالمگیر نے تخت نشینی سے قبل ہی اپنی عسکری اور انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا تھا۔ وہ دکن کے صوبہ دار رہے، جہاں انہوں نے معاشی اور انتظامی اصلاحات نافذ کیں۔ مغل دربار میں درپیش سیاسی بحران اور اپنے بھائی داراشکوہ کے الحادی و غیر اسلامی افکار (جیسے نظریہء جوگ وششت اور صلحِ کل کی آڑ میں اسلام مخالف سرگرمیاں) کو دیکھتے ہوئے اورنگزیب نے دینِ اسلام کے تحفظ اور شریعت کی بالادستی کے لیے علمِ جہاد بلند کیا۔
سنہ 1068ھ (1658ء) میں انہوں نے تختِ حکومت سنبھالا اور ‘ابو المظفر محی الدین محمد اورنگزیب عالمگیر’ کا لقب اختیار کیا۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی دربار سے غیر اسلامی رسومات (جیسے جھروکہ درشن، نوروز کا تہوار، اور بادشاہ کو سجدہ تعظیمی) کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے شراب نوشی، قمار بازی اور دیگر منکرات پر سختی سے پابندی عائد کی اور محتسبین مقرر کیے تاکہ معاشرے کی اخلاقی اصلاح کی جا سکے۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
سلطان اورنگزیب عالمگیر کا سب سے بڑا اور ناقابلِ فراموش کارنامہ ‘الفتاویٰ الہندیہ’ المعروف ‘فتاویٰ عالمگیری’ کی تدوین ہے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ججوں اور مفتیوں کے لیے متفقہ شرعی احکام تک رسائی مشکل ہے، چنانچہ انہوں نے ہندوستان اور عرب کے پچاس نامور حنفی فقہاء کی ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی شیخ نظام برہانپوری کو سونپی گئی۔ اس عظیم علمی منصوبے پر اس وقت کے لاکھوں روپے خرچ ہوئے، اور فقہ حنفی کا ایک ایسا جامع انسائیکلوپیڈیا تیار ہوا جو آج بھی پوری اسلامی دنیا میں مستند مانا جاتا ہے۔
ان کے دورِ حکومت میں مغل سلطنت اپنی تاریخ کی سب سے بڑی وسعت کو پہنچ گئی، جو کابل سے لے کر آسام تک اور کشمیر سے لے کر راس کماری تک پھیلی ہوئی تھی۔ انہوں نے جزیہ دوبارہ نافذ کیا تاکہ غیر مسلم رعایا کے تحفظ کے بدلے اسلامی قانون کے مطابق فنڈز جمع کیے جا سکیں، جبکہ مسلمانوں پر زکوٰۃ و عشر کا نظام لاگو کیا۔ وہ ذاتی زندگی میں انتہائی زاہد اور متقی تھے؛ شاہی خزانے سے ایک روپیہ بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتے تھے، بلکہ ٹوپیاں سی کر اور قرآن مجید کی خطاطی کر کے اپنا ذاتی خرچ چلاتے تھے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سلطان اورنگزیب عالمگیر نے تقریباً 50 سال تک عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنے کے بعد 28 ذوالقعدہ 1118ھ بمطابق 3 مارچ 1707ء کو احمد نگر (دکن) میں وفات پائی۔ ان کی وصیت کے مطابق، انہیں خلد آباد (اورنگ آباد) میں حضرت شیخ زین الدین شیرازی کے مزار کے احاطے میں نہایت سادگی سے دفن کیا گیا۔ ان کی قبر پر کوئی مزار یا چھت نہیں بنائی گئی، بلکہ صرف کچی مٹی اور سبزہ ہے، جو ان کی درویش صفت زندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ان کی وفات کے بعد مغل سلطنت زوال کی طرف مائل ہو گئی، کیونکہ ان کے بعد کوئی بھی ان جیسا باصلاحیت اور متقی حکمران پیدا نہ ہو سکا۔ اورنگزیب عالمگیر کو اسلامی تاریخ میں ‘عمر ثانی’ کی مانند ایک مصلح اور مجاہد اعظم کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جنہوں نے برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی شمع کو دوبارہ روشن کیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- محمد ساقی مستعد خان، ‘مآثرِ عالمگیری’ (فارسی مآخذ)
- خافی خان نظام الملک، ‘منتخب اللباب’ (ہم عصر تاریخ)
- علامہ شبلی نعمانی، ‘اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر’
- سید ابوالحسن علی ندوی، ‘تاریخِ دعوت و عزیمت’ (جلد پنجم)
- ڈاکٹر جادوناتھ سرکار، ‘ہسٹری آف اورنگزیب’ (پانچ جلدیں)
مبارک اقوال و ارشادات
حکومت اللہ کی امانت ہے اور بادشاہ رعایا کا چوکیدار ہے۔ اگر چوکیدار ہی غفلت کا شکار ہو جائے تو سلطنت برباد ہو جاتی ہے۔
میری وفات کے بعد میری قبر پر کوئی قبہ یا پکی عمارت نہ بنائی جائے، مجھے میری ٹوپیاں سی کر اور قرآن مجید کی کتابت سے حاصل کردہ حلال کمائی سے کفن دیا جائے۔
حاکمِ وقت کا اصل کام شریعتِ مطہرہ کا نفاذ اور مظلوم کو ظالم کے چنگل سے نجات دلانا ہے۔
