خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان الب ارسلان سلجوقی

« عضد الدولة أبو شجاع ألب أرسلان محمد بن جغري بك داود بن میکائیل بن سلجوق »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان الب ارسلان سلجوقی خاندان کے بانی سلجوق بن دقاق کی چوتھی نسل سے تھے۔ وہ چغری بیگ کے صاحبزادے اور عظیم سلجوقی فرماں روا طغرل بیگ کے بھتیجے تھے۔ آپ کی ولادت جمادی الآخر 420ھ (مطابق 1029ء) میں ہوئی۔ ان کا اصل نام محمد تھا، جبکہ ان کی شجاعت، دلیری اور غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر انہیں ‘الب ارسلان’ کا لقب دیا گیا جس کا ترکی زبان میں مطلب ‘بہادر شیر’ ہے۔ بچپن ہی سے ان کی تربیت ایک مجاہد اور مدبر کے طور پر کی گئی۔ انہوں نے اپنے والد چغری بیگ کی نگرانی میں متعدد جنگی مہمات میں حصہ لیا اور اپنی شمشیر زنی اور عسکری حکمتِ عملی کا لوہا منوایا۔ طغرل بیگ کی وفات کے بعد سلجوقی سلطنت کے تخت و تاج کے لیے کچھ اندرونی اختلافات پیدا ہوئے، لیکن الب ارسلان نے اپنی فہم و فراست اور عسکری قوت سے ان پر قابو پا لیا اور 456ھ میں سلجوقی سلطنت کے دوسرے باقاعدہ سلطان کے طور پر تخت نشین ہوئے۔

تخت نشینی اور داخلی فتوحات

تخت نشین ہوتے ہی سلطان الب ارسلان نے سلطنت کو مستحکم کرنے کی طرف توجہ دی۔ انہوں نے تاریخِ اسلام کے مایہ ناز مدبر اور عالم خواجہ نظام الملک طوسی کو اپنا وزیرِ اعظم مقرر کیا، جنہوں نے سلطنت کے انتظام و انعام کو سنوارنے اور علمی بیداری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ الب ارسلان نے سب سے پہلے خراسان، ماوراء النہر اور فارس کے علاقوں میں سر اٹھانے والی بغاوتوں کو کچلا۔ اس کے بعد انہوں نے عیسائی بازنطینی سلطنت (بائیزنطائن) کی سرحدوں پر واقع اہم قلعوں کو فتح کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے جارجیا (جرجستان) اور ارمنستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں پر لشکر کشی کی اور ان کے مضبوط قلعوں پر قبضہ کر کے عیسائی طاقتوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ ان فتوحات نے بائیزنطائن سلطنت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

معرکہ ملاذکرد اور عظیم الشان فتح

سلطان الب ارسلان کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ 463ھ (مطابق 1071ء) کا ‘معرکہ ملاذکرد’ ہے۔ بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ رومانوس چہارم (Romanus IV) نے مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد (بعض روایات کے مطابق دو لاکھ) کا جدید ترین مصلح لشکر تیار کیا۔ اس کے مقابلے میں سلطان الب ارسلان کے پاس صرف پندرہ سے بیس ہزار جانثار مجاہدین تھے۔ ملاذکرد (موجودہ مشرقی ترکی میں واقع) کے میدان میں دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں۔ سلطان نے جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد گریہ و زاری کے ساتھ اللہ کے حضور فتح کی دعا کی۔ انہوں نے سفید لباس زیب تن کیا اور فرمایا کہ اگر میں شہید ہو جاؤں تو یہی میرا کفن ہوگا۔ اس معرکے میں مسلمانوں نے حیرت انگیز عسکری چالوں (جنہیں تاتاری پسپائی کی چال کہا جاتا ہے) کے ذریعے رومی لشکر کے پرخچے اڑا دیے۔ رومی شہنشاہ رومانوس کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فتح نے اناطولیہ (موجودہ ترکی) کے دروازے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے لیے کھول دیے اور یہی جنگ سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد بننے کا سبب بنی۔

علم پروری، عادلانہ نظام اور شہادت

سلطان الب ارسلان جہاں ایک بے مثل جرنیل تھے، وہاں وہ انتہائی رحمدل، عادل اور علم پرور حکمران بھی تھے۔ انہوں نے مفتوحہ رومی شہنشاہ کے ساتھ نہایت شریفانہ سلوک کیا اور اسے فدیہ لے کر آزاد کر دیا۔ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں مساجد، مدارس، ہسپتال اور سرائے تعمیر کروائیں۔ ان کے دور کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ‘نظامیہ مدارس’ کا قیام ہے، جن کی بنیاد ان کے وزیر نظام الملک طوسی نے رکھی اور جہاں امام غزالی اور امام الحرمین الجوینی جیسے ائمہ نے تدریس کے فرائض سرانجام دیے۔ سلطان ربیع الاول 465ھ میں ماوراء النہر کی ایک مہم کے دوران ایک قیدی گورنر یوسف الخوارزمی کے قاتلانہ حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے اور چند دن بعد جامِ شہادت نوش کر گئے۔ انہیں مرو میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ان کی قبر پر یہ کتبہ کندہ کیا گیا: ‘جس نے الب ارسلان کا جاہ و جلال دیکھا ہے، وہ مرو آ کر دیکھے کہ وہ اب مٹی کے نیچے سو رہا ہے۔’

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ، ذکر احوال السلجوقیہ و الب ارسلان)
  • ابن کثیر الدمشقی (البدایہ والنہایہ، جلد 12، حوادثِ سنہ 463ھ و 465ھ)
  • شمس الدین الذہبی (سیر اعلام النبلاء، سوانح الب ارسلان)
  • جلال الدین السیوطی (تاریخ الخلفاء، باب الدولہ السلجوقیہ)
  • ابن خلکان (وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان)

مبارک اقوال و ارشادات

ہم ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کی محبت کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا ہے۔ ہم دنیا کی طمع کے لیے نہیں بلکہ محض اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرتے ہیں۔

(معرکہ ملاذکرد کے موقع پر): 'آج یہاں کوئی سلطان نہیں ہے اور نہ ہی کوئی محکوم، میں تمہارے ساتھ مل کر لڑوں گا، اگر میں شہید ہو جاؤں تو یہی سفید لباس میرا کفن ہوگا۔'

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان الب ارسلان سلجوقی

لقب و کنیت: ابو شجاع، عضد الدولة، الب ارسلان (بہادر شیر)، السلطان العادل، فاتحِ اناطولیہ
قبیلہ: سلجوقی خاندان (اوغوز ترکوں کا قنیق قبیلہ)
سن پیدائش و وفات: 420ھ – 465ھ / 1029ء – 1072ء
مقام تدفین: مرو، مضافاتِ خراسان (موجودہ ترکمانستان)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com