صوفیائے کرام و اولیائے عظام

خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی

« محمد بن أحمد بن علي البخاري البدايوني المعروف بنظام الدين أولياء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان المشائخ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوبِ الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت 27 صفر المظفر 636 ہجری کو ہندوستان کے تاریخی شہر بدایوں میں ہوئی۔ آپ کا نسب مبارک واسطوں سے امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے ملتا ہے۔ آپ کے دادا خواجہ علی بخاری اور نانا خواجہ عرب بخارا سے ہجرت کر کے پہلے لاہور اور بعد میں بدایوں تشریف لائے تھے۔ ابھی آپ کی عمر محض پانچ سال ہی تھی کہ آپ کے والدِ ماجد حضرت سید احمد رحلت فرما گئے۔ آپ کی پرورش آپ کی پرہیزگار والدہ محترمہ سیدہ زلیخا صاحبہ نے فرمائی، جنہوں نے آپ کی مادی اور روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دی اور کڑے معاشی حالات کے باوجود علم کی شمع روشن رکھی۔

بیعت و خلافت اور مجاہداتِ نفس

ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کرنے کے بعد آپ مزید تحصیلِ علم کے لیے علم و ادب کے مرکز دہلی تشریف لائے۔ یہاں آپ نے وقت کے نامور علما بشمول مولانا کمال الدین زاہد سے علمِ حدیث اور فقہ میں کمال حاصل کیا۔ 20 سال کی عمر میں علمِ ظاہر کی تکمیل کے بعد آپ کے دل میں تصوف کی تڑپ پیدا ہوئی۔ آپ پاکپتن (اجودھن) تشریف لے گئے اور برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ بابا فرید نے آپ کے باطنی کمالات کو بھانپتے ہوئے طویل چلیوں، شدید ریاضتوں اور مجاہداتِ نفس کے بعد اپنی خلافتِ خاصہ اور سلسلہ چشتیہ کی سجادہ نشینی سے سرفراز فرمایا اور دہلی جا کر خلقِ خدا کی ہدایت کا حکم دیا۔

نمایاں کارنامے، علمی و روحانی خدمات اور تعلیمات

خواجہ نظام الدین اولیاء نے دہلی کے مضافات میں غیاث پور کے مقام پر اپنی خانقاہ قائم کی، جو صدیوں تک علم، معرفت، لنگر اور انسانی ہمدردی کا سب سے بڑا مرکز بنی رہی۔ آپ کی خانقاہ کا دروازہ امیر و غریب، ہندو و مسلم، سب کے لیے یکساں کھلا رہتا تھا۔ آپ نے تصوف کو ظاہری رسم و رواج سے نکال کر عملی خدمتِ خلق اور باطنی پاکیزگی کا نام دیا۔ آپ کے عہد میں دہلی کے سلطانوں (جیسے جلال الدین خلجی، علاؤ الدین خلجی اور غیاث الدین تغلق) نے بارہا آپ کی خانقاہ پر تسلط قائم کرنے یا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن آپ نے ہمیشہ سلاطینِ وقت سے دوری اختیار رکھی اور فرمایا: ‘میری خانقاہ کے دو دروازے ہیں، اگر بادشاہ ایک دروازے سے آئے گا تو میں دوسرے دروازے سے باہر چلا جاؤں گا۔’ آپ نے علمِ حدیث کی تدریس، سماعِ صالح اور محبتِ الٰہی کا پیغام عام کیا جس کی بدولت لاکھوں لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء نے تقریباً نصف صدی سے زائد عرصے تک مخلوقِ خدا کی رہنمائی فرمانے کے بعد 18 ربیع الثانی 725 ہجری (بمطابق 1325ء) کو غیاث پور، دہلی میں وصال فرمایا۔ آپ کی وفات پر آپ کے چہیتے مرید اور برصغیر کے نامور شاعر حضرت امیر خسرو صدمے سے نڈھال ہو گئے اور محض چند ماہ بعد ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ آپ کا مزارِ اقدس آج بھی دہلی میں مرجعِ خلائق ہے جہاں روزانہ ہزاروں عقیدت مند بلا تفریقِ مذہب و ملت حاضری دیتے ہیں۔ آپ کا قائم کردہ چشتیہ سلسلہ آج بھی برصغیر میں محبت، امن اور رواداری کا سب سے بڑا مظہر ہے۔

مستند تاریخی و تذکراتی مراجع

  • سیر الاولیاء: تصنیف سید محمد مبارک علوی کرمانی المعروف امیر خورد (سلطان المشائخ کے حالات پر سب سے قدیم اور معتبر ترین کتاب)
  • اخبار الاخیار فی اسرار الابرار: شیخ عبدالحق محدث دہلوی (جس میں آپ کے احوال اور علمی مرتبے پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے)
  • فوائد الفؤاد: ملفوظاتِ خواجہ نظام الدین اولیاء مرتبہ امیر حسن سجزی دہلوی (برصغیر میں ملفوظاتی ادب کی سب سے مستند دستاویز)
  • سیر العارفین: حامد بن فضل اللہ جمالی

مبارک اقوال و ارشادات

1. اگر کوئی تمہاری راہ میں کانٹے بچھائے اور تم بھی کانٹے بچھاؤ تو دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی، اس لیے تم اس کے جواب میں پھول بچھاؤ۔

2. قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بندہ سب سے پیارا ہوگا جس نے بندگانِ خدا کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا اور انہیں خوشی پہنچائی۔

3. سچی محبت اور تصوف نام ہے اپنے محبوب (اللہ) کی رضا کی خاطر اپنی نفسانی خواہشات کو مکمل طور پر قربان کر دینے کا۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی

لقب و کنیت: ابو البقاء، نظام الدین، محبوبِ الٰہی، سلطان المشائخ، شیخ المشائخ، زر زری بخش
قبیلہ: ساداتِ حسینی (اصل بخارا، ہجرت بدایوں، ہندوستان)
سن پیدائش و وفات: 636 ھ – 18 ربیع الثانی 725 ھ / 1238ء – 1325ء
مقام تدفین: غیاث پور (موجودہ بستی نظام الدین)، دہلی، بھارت
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com