محدثین کرام و ائمہ صحاح ستہ

خواجہ معین الدین چشتی اجمیری

« معين الدين حسن بن غياث الدين السجزي الحسيني الچشتي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت 537 ہجری (مطابق 1142ء) کو سجستان (سیستان) کے قصبے سنجر میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب والد گرامی کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، اسی وجہ سے آپ حسنی و حسینی سید ہیں۔ آپ کے والد غیاث الدین حسن ایک متمول اور زاہد انسان تھے۔ آپ کے بچپن میں ہی ملک میں تاتاریوں کی غارت گری شروع ہو گئی، جس کے دوران آپ کے والدین کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ورثے میں ملی ایک باغ اور پن چکی سے آپ نے زندگی کا آغاز کیا، لیکن جلد ہی ایک مجذوب حضرت ابراہیم قندوزی کے زیرِ اثر آپ کے دل میں دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو گئی اور آپ نے سب کچھ راہِ خدا میں صدقہ کر کے حصولِ علم کا سفر اختیار کیا۔

روحانی سفر اور بیعت و خلافت

علم کی پیاس بجھانے کے لیے آپ نے بخارا اور سمرقند کا سفر کیا، جہاں قرآن مجید حفظ کیا اور مروجہ علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کی۔ اس کے بعد آپ عراق اور خراسان کی طرف نکلے۔ قصبہ ہارون میں آپ کی ملاقات مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمۃ اللہ علیہ سے ہوئی، جن کے دستِ حق پرست پر آپ نے بیعت کی۔ آپ نے تقریباً بیس برس اپنے مرشد کی خدمت میں گزارے اور سلوک کی کٹھن منزلیں طے کیں۔ مرشدِ کامل نے آپ کی روحانی استعداد کو دیکھتے ہوئے خرقۂ خلافت عطا کیا اور مخلوقِ خدا کی ہدایت کے لیے رخصت فرمایا۔ اس سفر کے دوران آپ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حاضری دی، جہاں بارگاہِ رسالت ﷺ سے آپ کو ‘سلطان الہند’ کا لقب اور ہندوستان کی ولایت کا روحانی اشارہ ملا۔

ہندوستان میں آمد اور اشاعتِ اسلام

مدینہ منورہ سے بشارت پانے کے بعد آپ لاہور، ملتان اور دہلی سے ہوتے ہوئے راجستھان کے مرکز ‘اجمیر’ پہنچے۔ اس وقت اجمیر ہندو راجہ پرتھوی راج چوہان کا دارالحکومت تھا اور وہاں مسلمانوں کا داخلہ انتہائی مشکل تھا۔ آپ نے اپنے پرامن کردار، بے مثال حسنِ اخلاق، غریب پروری اور روحانی تصرفات کے ذریعے مقامی آبادی کے دلوں کو مسخر کیا۔ آپ کی مجلس میں رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر ہر انسان کو پناہ ملتی تھی۔ آپ کی اسی بے پناہ شفقت کی وجہ سے مقامی لوگوں نے آپ کو ‘غریب نواز’ کا لقب دیا۔ آپ کی مساعیِ جمیلہ سے لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے اور پورے برصغیر میں کفر و شرک کے اندھیرے چھٹ گئے اور توحید کا علم بلند ہوا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

خواجہ معین الدین چشتی نے ہندوستان میں سلسلہ عالیہ چشتیہ کی بنیاد رکھی، جس نے بعد میں برصغیر پاک و ہند کی اسلامی شناخت کی تشکیل میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے تصوف کو خانقاہوں سے نکال کر عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔ آپ کا لنگر خانہ چوبیس گھنٹے کھلا رہتا تھا جہاں ہر طبقے کے غریب و نادار لوگ کھانا کھاتے تھے۔ آپ نے اسلام کی اشاعت طاقت یا شمشیر کے بجائے اخلاق، محبت، رواداری اور مساوات کے ذریعے کی۔ صوفیانہ روایات کے مطابق آپ مروجہ دینی علوم (تفسیر، حدیث اور فقہ) کے بھی بحرِ بے کنار تھے اور شریعت و طریقت کا حسین امتزاج تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

آپ کا وصال مبارک 6 رجب المرجب 633 ہجری (مطابق 1236ء) کو اجمیر شریف میں ہوا۔ وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک تقریباً 96 سال تھی۔ منقول ہے کہ جب آپ کے حجرے کا دروازہ کھولا گیا تو آپ کی پیشانی مبارک پر نور سے لکھا ہوا تھا: "حبیب اللہ مات فی حب اللہ” (اللہ کا حبیب اللہ کی محبت میں وفات پا گیا)۔ آپ کا مزار اقدس ‘درگاہ اجمیر شریف’ کے نام سے دنیا بھر کے زائرین کا مرکزِ عقیدت ہے جہاں آج بھی بلا امتیازِ مذہب و ملت لاکھوں لوگ فیض یاب ہوتے ہیں۔ آپ کی قائم کردہ چشتیہ روایت نے بابا فرید، خواجہ نظام الدین اولیاء اور صابر کلیری جیسے عظیم اولیاء پیدا کیے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امیر خورد کرمانی (سیر الاولیاء)
  • شیخ عبد الحق محدث دہلوی (اخبار الاخیار فی اسرار الابرار)
  • داراشکوہ قادری (سفینۃ الاولیاء)
  • ابو الفضل (آئینِ اکبری)
  • پروفیسر خلیق احمد نظامی (تاریخِ مشائخِ چشت)

مبارک اقوال و ارشادات

درویش وہ ہے جس کی سخاوت دریا جیسی، شفقت سورج جیسی اور عاجزی زمین جیسی ہو۔

خدا کی محبت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انسان اس کی فرماں برداری میں مگن رہے اور مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنا فرض سمجھے۔

گناہوں میں سب سے بڑا گناہ کسی مسلمان بھائی کو بے آبرو کرنا یا اس کا دل دکھانا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خواجہ معین الدین چشتی اجمیری

لقب و کنیت: غریب نواز، سلطان الہند، خواجۂ خواجگان، معین الحق، عطائے رسول، وارثِ نبی، ابو الفضل
قبیلہ: ساداتِ حسینی (نسبی تعلق حضرت امام حسینؓ اور حضرت امام حسنؓ سے ہے)
سن پیدائش و وفات: ولادت: 537ھ / 1142ء | وفات: 6 رجب 633ھ / 1236ء
مقام تدفین: مزار اقدس، درگاہ اجمیر شریف، راجستھان، بھارت
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com