خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
اموی خاندان کے ایک عظیم فرزند، امیر المؤمنین عبد الملک بن مروان بن حکم، کا تعلق قریش کے باوقار قبیلہ بنو امیہ سے تھا۔ آپ 26 ہجری (بمطابق 646 عیسوی) میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد، مروان بن حکم، خود بھی ایک نامور صحابی اور بعد ازاں چوتھے اموی خلیفہ تھے۔ آپ کی والدہ کا نام عائشہ بنت معاویہ بن مغیرہ تھا۔ عبد الملک نے اپنی ابتدائی زندگی مدینہ کے علمی ماحول میں گزاری، جہاں انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان و ادب میں گہرا علم حاصل کیا۔ آپ اپنی ذہانت، تقویٰ اور علم و فضل کی وجہ سے معروف تھے اور انہیں ‘فقیہ مدینہ’ اور ‘حکیم قریش’ کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت نے آپ کی شخصیت کو مزید نکھارا، اور آپ نے کبار صحابہ سے براہ راست علم حاصل کیا۔
خلافت سے قبل کی خدمات اور ذمہ داریاں
چونکہ عبد الملک بن مروان کی ولادت اسلام کے بعد ہوئی تھی، لہٰذا وہ پیدائشی مسلمان تھے۔ آپ نے خلافت سنبھالنے سے قبل، اپنے والد مروان بن حکم کے دورِ خلافت میں کئی اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں اور امورِ مملکت کا گہرا تجربہ حاصل کیا۔ آپ مدینہ منورہ میں اپنے والد کے قائم مقام کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے اور مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں بھرپور حصہ لیا۔ اس دور میں آپ کا شمار مدینہ کے سرکردہ علماء، فقہاء اور دانشوروں میں ہوتا تھا۔ آپ کی یہ ابتدائی خدمات خلافت کے بڑے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد بنیں۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
عبد الملک بن مروان نے 65 ہجری (685 عیسوی) میں اپنے والد کی وفات کے بعد خلافت کی بھاری ذمہ داری سنبھالی۔ اس وقت مسلم دنیا سخت داخلی انتشار، جسے ‘فتنہ ثانیہ’ کہا جاتا ہے، کا شکار تھی، اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت حجاز سمیت ایک وسیع علاقے میں قائم تھی۔ عبد الملک نے غیر معمولی عزم، سیاسی بصیرت اور فوجی مہارت کے ساتھ اس صورتحال کا سامنا کیا۔
- اتحادِ امت: آپ نے طویل اور مشکل جدوجہد کے بعد عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی اور 73 ہجری (692 عیسوی) تک تمام مسلم علاقوں کو دوبارہ اموی خلافت کے زیرِ نگیں متحد کر دیا۔ یہ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے، جس سے امت کو انتشار سے نجات ملی۔
- معاشی و انتظامی اصلاحات: آپ نے اسلامی دنیا کی پہلی خالص اسلامی کرنسی (دینار) 74 ہجری (693 عیسوی) میں جاری کی، جس پر اسلامی کلمات کندہ تھے۔ اس سے قبل بازنطینی اور ساسانی سکے رائج تھے۔ آپ نے دیوان (سرکاری محکموں) میں عربی کو سرکاری زبان قرار دیا اور تمام سرکاری ریکارڈز کو عربی میں منتقل کرنے کا حکم دیا، جس سے عربی زبان کو سرکاری حیثیت ملی اور انتظامی امور میں سہولت پیدا ہوئی۔ آپ نے ایک منظم ڈاک کا نظام قائم کیا اور ٹیکس کے نظام میں بھی اصلاحات کیں۔
- تعمیراتی منصوبے: آپ کے دورِ خلافت کا ایک عظیم الشان تعمیراتی کارنامہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں ‘قبة الصخرة’ (ڈوم آف دی راک) کی تعمیر ہے، جو آج بھی اسلامی فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔
- علم و ادب کی سرپرستی: خود ایک عالم فاضل ہونے کے ناطے، آپ نے علماء و فضلاء کی قدر کی اور علمی سرپرستی فرمائی۔ آپ کے دربار میں کئی نامور علماء موجود تھے۔
- فوجی فتوحات: آپ کے دور میں بازنطینی سلطنت کے خلاف فوجی مہمات جاری رہیں اور شمالی افریقہ میں قرطاجنہ پر دوبارہ قبضہ کیا گیا، جو اندلس کی فتوحات کی راہ ہموار کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ مشرق میں بھی اسلامی لشکروں نے پیش قدمی جاری رکھی۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
عبد الملک بن مروان نے 21 سال تک خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اور 86 ہجری (705 عیسوی) میں دمشق میں وفات پائی۔ آپ کو دمشق کے مشہور باب الصغیر قبرستان میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے ولید اول خلیفہ بنے۔
عبد الملک بن مروان کا دورِ خلافت اموی سلطنت کا ایک ‘سنہرا دور’ مانا جاتا ہے۔ آپ نے ایک مضبوط مرکزی حکومت قائم کی اور اسلامی ریاست کو داخلی خلفشار سے نکال کر استحکام اور عظمت بخشی۔ آپ کی اصلاحات اور تعمیراتی منصوبوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیادوں کو مستحکم کیا۔ آپ کی انتظامی صلاحیتیں اور بصیرت بلا شبہ تاریخ اسلام میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن الاثیر (اسد الغابة)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
مبارک اقوال و ارشادات
مجھ پر ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ اگر مجھ سے کہا جاتا کہ حکومت کو ہاتھ میں لو تو میں انکار کر دیتا، اب ایسا وقت آ گیا ہے کہ اگر مجھ سے کہا جائے کہ چھوڑ دو تو میں نہیں چھوڑوں گا
میں نے کوئی شخص نرم خوئی سے حکومت کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے مگر اس کے معاملات بگڑ گئے ہیں، اور میں نے کوئی شخص سختی سے حکومت کرتے ہوئے نہیں دیکھا مگر اس کا رعب اور وقار قائم رہا ہے
