خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
خلیفہ سلیمان بن عبد الملک بن مروان بن حکم بن ابی العاص اموی قرشی کی ولادت تقریباً 54 ہجری (بمطابق 674ء) میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ وہ بنو امیہ کے جلیل القدر حکمران عبد الملک بن مروان کے بیٹے اور ولید بن عبد الملک کے سگے بھائی تھے۔ ان کی والدہ کا نام ولادہ بنت عباس عبسی تھا۔ سلیمان بن عبد الملک کی تربیت دمشق کے شاہی محل اور مدینہ منورہ کے علمی ماحول میں ہوئی۔ وہ فصاحت و بلاغت، سخاوت اور شجاعت میں ممتاز مقام رکھتے تھے اور اپنے دور کے جید علماء اور فقہاء کی صحبت میں رہے۔
عہدِ خلافت اور نمایاں فتوحات و کارنامے
سلیمان بن عبد الملک اپنے بھائی ولید بن عبد الملک کی وفات کے بعد جمادی الآخرہ 96 ہجری میں مسندِ خلافت پر فائز ہوئے۔ ان کا دورِ حکومت اگرچہ مختصر (تقریباً پونے تین سال) تھا، لیکن یہ فتوحات اور انتظامی اصلاحات کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے دور کا سب سے بڑا عسکری کارنامہ بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا تاریخی محاصرہ تھا، جس کی قیادت ان کے بھائی مسلمہ بن عبد الملک نے کی۔ اس کے علاوہ یزید بن مہلب کی قیادت میں جرجان اور طبرستان کے علاقوں میں نمایاں فتوحات حاصل ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بھائی ولید کے دور کے سخت گیر گورنروں کے اثر و رسوخ کو کم کیا اور مظلوموں کی داد رسی کی۔
مفتاح الخير: اوصاف، فضائل اور عمر بن عبدالعزیز کی نامزدگی
تاریخِ اسلام میں سلیمان بن عبد الملک کو ‘مفتاح الخير’ (بھلائی کی چابی) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے حجاج بن یوسف کے مقرر کردہ ظالم گورنروں کو معزول کیا، قید خانوں سے ہزاروں بے گناہ قیدیوں کو رہا کروایا، اور سلطنت میں عدل و انصاف کا بول بالا کیا۔ ان کا سب سے عظیم اور تاریخی کارنامہ اپنی وفات کے وقت اپنے چچا زاد بھائی عمر بن عبد العزیز کو اپنا جانشین نامزد کرنا تھا۔ مشہور تابعی فقیہ رجاء بن حیوۃ کی مشاورت سے کیا گیا یہ فیصلہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہوا، جس نے خلافتِ راشدہ کی یاد تازہ کر دی۔
وفات اور تاریخی میراث
سلیمان بن عبد الملک کا وصال صفر 99 ہجری (بمطابق ستمبر 717ء) میں دابق (شمالی شام/حلب کے قریب) کے مقام پر ہوا، جہاں وہ روم کی مہمات کی نگرانی کر رہے تھے۔ ان کی عمر مبارک وفات کے وقت تقریباً 45 سال تھی۔ ان کی نمازِ جنازہ عمر بن عبد العزیز نے پڑھائی اور وہ دابق ہی کے مقام پر دفن ہوئے۔ ان کی تاریخی میراث میں عدل و انصاف کی بحالی، قسطنطنیہ کا عسکری عزم، اور سب سے بڑھ کر خلافتِ راشدہ ثانی (عہدِ عمر بن عبد العزیز) کی راہ ہموار کرنا شامل ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام ابن جریر الطبری (تاريخ الرسل والملوك)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
- ابن الاثیر الجزری (الكامل في التاريخ)
- ابن قتیبہ دینوری (الامامة والسياسة)
مبارک اقوال و ارشادات
خدا کی قسم! دنیا ایک دھوکے کا گھر ہے، اور موت ہر ایک کو پا کر رہے گی۔ خوش بخت وہ ہے جو اپنے رب کو راضی کر کے رخصت ہوا۔
عمر بن عبد العزیز کو خلیفہ نامزد کرتے ہوئے فرمایا: 'میں نے تمہارے لیے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس سے اللہ تم سب کی اصلاح فرمائے گا اور فتنوں کا خاتمہ کرے گا۔'
