خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
خلیفہ ابو العباس عبد اللہ السفاح کا تعلق تاریخِ اسلام کے معزز ترین خاندان بنو ہاشم سے تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی چوتھی نسل سے تھے۔ ان کی ولادت 104 ہجری میں حمیمہ (موجودہ اردن) کے مقام پر ہوئی، جو اس وقت دعوتِ عباسیہ کا خفیہ مرکز تھا۔ ان کی والدہ کا نام ريطہ بنت عبيد اللہ الحارثیہ تھا۔ ابو العباس نے ایک ایسے علمی اور سیاسی ماحول میں پرورش پائی جہاں بنو امیہ کے خلاف ایک منظم تحریک خفیہ طور پر جڑیں پکڑ رہی تھی۔ وہ نہایت فصیح و بلیغ، پختہ عزم کے مالک اور مہم جو طبیعت کے حامل تھے۔
تحریکِ عباسیہ کا عروج اور خلافت کا قیام
جب اموی خلافت اپنے زوال کے قریب پہنچی تو عباسیوں کی خفیہ تحریک کے قائد اور ابو العباس کے بڑے بھائی، ابراہیم الامام کو اموی خلیفہ مروان الحمار نے گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ وفات سے قبل ابراہیم الامام نے ابو العباس کو اپنا جانشین نامزد کیا اور خاندان کو کوفہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ کوفہ پہنچنے پر عباسی داعی ابو سلمہ خلال نے ان کا استقبال کیا۔ 12 ربیع الاول 132 ہجری کو کوفہ کی مسجدِ جامع میں ابو العباس السفاح کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور انہوں نے اپنا پہلا تاریخی خطبہ دیا، جس میں انہوں نے بنو امیہ کے مظالم کا ذکر کیا اور عباسی خلافت کے آغاز کا اعلان کیا۔
نمایاں کارنامے، فتوحات اور دورِ حکومت
ابو العباس السفاح کی خلافت کا سب سے بڑا کارنامہ اموی سلطنت کا خاتمہ اور عباسی سلطنت کی مضبوط بنیادیں رکھنا تھا۔ ان کے چچا عبد اللہ بن علی نے تاریخی ‘معرکہ زاب’ (132ھ) میں اموی خلیفہ مروان ثانی کو شکستِ فاش دی، جس کے بعد اموی اقتدار کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ سفاح نے اپنے دورِ حکومت میں باغیوں اور مخالفین کا بے رحمی سے خاتمہ کیا، جس کی وجہ سے انہیں ‘السفاح’ (خون بہانے والا یا کثرت سے مال عطا کرنے والا) کا لقب ملا۔ انہوں نے حیرہ اور بعد میں الانبار کو دار الخلافہ بنایا۔ ان کے مختصر چار سالہ دورِ حکومت میں سلطنت میں امن و امان قائم ہوا اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کی گئی۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
خلیفہ ابو العباس السفاح کا انتقال ذوالحجہ 136 ہجری (754ء) میں صرف 32 سال کی عمر میں چیچک کے مرض کے باعث الانبار (عراق) میں ہوا۔ انہوں نے اپنی وفات سے قبل اپنے بھائی ابو جعفر المنصور کو اپنا ولی عہد نامزد کیا، جنہوں نے بعد میں عباسی سلطنت کو حقیقی استحکام اور وسعت دی۔ السفاح کی خلافت کا دورانیہ مختصر تھا لیکن وہ تاریخِ اسلام میں ایک نئے دور (عصرِ عباسی) کے بانی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی قائم کردہ سلطنت نے اگلی پانچ صدیوں تک اسلامی دنیا کی قیادت کی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 10، حوادث سن 132-136ھ)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، طبقه رابعه، سوانح ابو العباس السفاح)
- ابن الاثیر الجزری (الكامل في التاريخ، جلد 5)
- ابن خلدون (تاريخ ابن خلدون، مقدمہ و جلدِ ثالث)
مبارک اقوال و ارشادات
میں سفاح (سخاوت کرنے والا اور تلوار اٹھانے والا) ہوں اور انتقام لینے والا مددگار ہوں۔ (ان کے تاریخی خطبہ کوفہ کا اقتباس)
سلطنت کی بقا عدل و انصاف کی پاسداری اور مفسدین کی سرکوبی میں پوشیدہ ہے۔
