Sahaba (صحابی)

حضرت واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ (اصحاب صفہ)

« واثلة بن الأسقع بن عبد العزى بن عبد ياليل بن ناشب بن غيرة بن سعد بن ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة الليثي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا تعلق عرب کے نامور اور معزز قبیلے بنو لیث سے تھا، جو قبیلہ کنانہ کی ایک ممتاز شاخ ہے۔ ان کا پورا نسب واثلہ بن اسقع بن عبد العزیٰ بن عبد یالیل بن ناشب بن غیرہ بن سعد بن لیث لیثی کنانی ہے۔ ان کا نسب مبارک رسول اللہ ﷺ کے جدِ امجد ‘کعب بن لوئی’ پر جا کر رسول اللہ ﷺ سے مل جاتا ہے۔ حضرت واثلہ کی ولادت ہجرتِ مدینہ سے تقریباً بیس سال قبل مدینہ منورہ کے قریبی دیہات میں ہوئی۔ ان کا خاندان متوسط اور معزز صحرائی عربوں میں شمار ہوتا تھا، اور وہ بچپن ہی سے فصاحت و بلاغت اور دلیری جیسی اعلیٰ صفات کے مالک تھے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ایک انتہائی جذباتی اور ایمان افروز واقعہ ہے۔ سنہ 9 ہجری میں جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کی تیاری فرما رہے تھے، تو حضرت واثلہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے دستِ حق پرست پر بیعتِ اسلام کی۔ اس وقت ان کے پاس غزوے میں شرکت کے لیے نہ تو کوئی سواری تھی اور نہ ہی زادِ راہ۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا: ‘کون ہے جو مجھے اپنے اونٹ پر سوار کرے گا اور اس کے بدلے غنیمت میں سے میرا حصہ لے گا؟’ اس پر مدینہ کے ایک انصاری صحابی (کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ) نے انہیں اپنی سواری پر بٹھانے کی حامی بھری۔ حضرت واثلہ نے غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کی معیت میں بھرپور شرکت کی اور واپسی پر جب غنیمت کا حصہ ملا تو وہ اپنے محسن انصاری کے پاس لائے، لیکن اس مخلص انصاری نے یہ کہتے ہوئے لینے سے انکار کر دیا کہ ‘میں نے یہ دنیا کے لیے نہیں بلکہ آخرت کے اجر کے لیے کیا تھا’۔ اسلام لانے کے بعد واثلہ بن اسقع نے مدینہ میں مستقل سکونت اختیار کی اور ‘اصحابِ صفہ’ کے مقدس گروہ میں شامل ہو کر علم و عرفان کے سرچشمے سے سیراب ہونے لگے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا شمار ان جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علمِ دین کی نشر و اشاعت اور جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف کر دیا۔ وہ اصحابِ صفہ کے اہم رکن تھے اور مسجدِ نبوی کے چبوترے پر رہ کر شب و روز بارگاہِ رسالت سے علم حاصل کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی ذاتی خدمت گزاری کا شرف بھی حاصل رہا۔
فضائل و مناقب کے لحاظ سے وہ ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ وہ مشہورِ زمانہ ‘حدیثِ کساء’ (پنجتن پاک کی فضیلت پر مبنی حدیث) کے راویوں میں سے ایک ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کو سیدہ فاطمہ، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم پر چادر تانتے اور ان کے حق میں دعا فرماتے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد انہوں نے فتوحاتِ شام میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ معرکہ یرموک اور فتحِ دمشق کے موقع پر مجاہدین کے ہراول دستے کا حصہ تھے۔ بعد ازاں وہ شام ہی کے شہر حمص اور پھر بیت المقدس میں مقیم ہو گئے اور وہاں علم کا ایک بڑا مرکز قائم کیا۔ ان سے شامی تلامذہ کی ایک کثیر تعداد نے احادیثِ رسول ﷺ روایت کیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے ایک نہایت طویل اور بابرکت عمر پائی۔ وہ کثرتِ عبادت اور زہد و تقویٰ کے مجسمہ تھے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ نابینا ہو گئے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کے علمی اور دعوتی حلقے میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ان کا وصالِ باکمال عبدالملک بن مروان کے عہدِ خلافت میں سنہ 83 ہجری (بعض روایات کے مطابق 85 ہجری) میں ہوا۔ وصال کے وقت ان کی عمر مبارک تقریباً 105 سال تھی۔ ان کی تدفین دمشق (یا ایک راجح قول کے مطابق بیت المقدس، فلسطین) میں ہوئی۔ تاریخِ اسلام میں انہیں شام میں وفات پانے والے آخری صحابہ کرام میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی علمی میراث کتبِ حدیث میں محفوظ ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الاصابة في تمييز الصحابة، جلد 6، ترجمہ واثلہ بن الاسقع۔
  • امام شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، جلد 3، سوانح واثلہ بن الاسقع۔
  • ابن الاثیر الجزری، اسد الغابة في معرفة الصحابة، جلد 5، ذکر واثلہ بن الاسقع۔
  • ابن کثیر، البداية والنهاية، جلد 9، حوادث سنہ 83 ہجری۔

مبارک اقوال و ارشادات

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: 'اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اس پر رحم فرمائے اور تمہیں اس مصیبت میں مبتلا کر دے۔'

میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں تین سال تک قیام کیا، آپ کے ساتھ نمازیں پڑھیں اور آپ کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔

علم کا اٹھ جانا یہ ہے کہ اس کے سیکھنے اور سکھانے والے دنیا سے رخصت ہو جائیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ (اصحاب صفہ)

لقب و کنیت: أبو شداد (ابو شداد)، وقيل أبو الأسقع، وقيل أبو قرصافة | صاحبِ صفہ، خادمِ رسول ﷺ، فقیہ الشام
قبیلہ: بنو لیث (شاخِ قبیلہ کنانہ)
سن پیدائش و وفات: 20 قبل ہجرت – 83 ہجری / 602ء – 702ء
مقام تدفین: بیت المقدس (یا دمشق)، شام
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com