صحابیات و امہات المؤمنین

حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا

« فاطمة بنت الخطاب بن نفيل القرشية العدوية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کا تعلق مکہ کے معزز اور باوقار قبیلے قریش کی شاخ بنو عدی سے تھا۔ آپ مکہ کے سردار خطاب بن نفیل کی بیٹی اور تاریخِ اسلام کی عظیم ترین شخصیت، خلیفہ دوم امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سگی ہمشیرہ تھیں۔ آپ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کا نکاح عشرہ مبشرہ (دنیا میں جنت کی بشارت پانے والے دس صحابہ) میں شامل جلیل القدر صحابی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے ہوا، جو کہ آپ کے چچا زاد بھی تھے۔ حضرت فاطمہ بنت خطاب فہم و فراست، عزم و استقلال اور علم و حکمت میں اپنے خاندان کی دیگر خواتین میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔

قبولِ اسلام اور تاریخی واقعہ

حضرت فاطمہ بنت خطاب اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہما مکہ کے ان اولین لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے دعوتِ حق کے آغاز میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ ان کا اسلام لانا مکہ میں خفیہ رکھا گیا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسلام کے شدید ترین مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ تاریخِ اسلام کا وہ عظیم موڑ جس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی بدل دی، حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کے گھر ہی پر پیش آیا۔

حضرت عمر فاروق جب رسول اللہ ﷺ کو نعوذ باللہ شہید کرنے کے ارادے سے نکلے، تو راستے میں نعیم بن عبداللہ نے انہیں بتایا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید بن زید اپنا آبائی دین چھوڑ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر غصے سے مغلوب ہو کر اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ اس وقت جلیل القدر صحابی حضرت خبّاب بن الارت رضی اللہ عنہ انہیں سورہ طٰہٰ کی تلاوت کروا رہے تھے۔ حضرت عمر کی آہٹ سن کر حضرت خباب چھپ گئے اور صحیفہ بھی چھپا دیا گیا۔

حضرت عمر نے کلام کی آواز سن لی تھی، انہوں نے غصے میں اپنے بہنوئی سعید بن زید کو مارنا شروع کر دیا۔ جب حضرت فاطمہ بنت خطاب اپنے شوہر کو بچانے کے لیے آگے بڑھیں تو غصے میں لال پیلے عمر نے ان کے چہرے پر بھی ضرب لگائی، جس سے ان کے چہرے سے خون بہہ نکلا۔ اس نازک ترین موقع پر حضرت فاطمہ نے انتہائی جرأت، ایمانی استقامت اور فخر کے ساتھ فرمایا: ‘اے عمر! ہم سچے دل سے ایمان لا چکے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اب تم سے جو بن پڑتا ہے کر لو، ہم اسلام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔’

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ ان کی وہی جرأت اور استقلال تھا جس نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جبار اور قوی شخص کے دل کو پگھلا دیا۔ بہن کے چہرے سے بہتا ہوا خون اور ان کے ایمان افروز الفاظ دیکھ کر حضرت عمر فاروق شرمندہ ہو گئے اور ان کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ انہوں نے نرمی سے کہا کہ مجھے وہ صحیفہ دکھاؤ جو تم پڑھ رہے تھے۔ حضرت فاطمہ نے کمالِ بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم شرک کی وجہ سے ناپاک ہو اور اسے صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں، پہلے غسل کر کے آؤ۔ حضرت عمر نے غسل کیا، اور جب سورہ طٰہٰ کی ابتدائی آیات تلاوت کیں، تو ان کا دل پگھل گیا اور وہ پکار اٹھے کہ ‘یہ کلام کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔’ اور اسی وقت رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح حضرت فاطمہ بنت خطاب مکہ کے مسلمانوں کے لیے فتحِ مبین اور حضرت عمر کے قبولِ اسلام کا سبب بنیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا نے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور اسلامی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ وہ زہد و تقویٰ، سخاوت اور بلند اخلاق کا عملی نمونہ تھیں۔ ان کا وصال فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت یا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت کے دوران مدینہ منورہ میں ہوا اور انہیں جنت البقیع کے تاریخی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تاریخِ اسلام انہیں ہمیشہ ایک ایسی جری، صابرہ اور عظیم خاتون کے طور پر یاد رکھے گی جن کے عزمِ صمیم نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، جلد 8، تذکرہ فاطمہ بنت الخطاب)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، سیرت عمر بن الخطاب و سعید بن زید)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة، تذکرہ فاطمہ بنت الخطاب)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، باب اسلام عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ)

مبارک اقوال و ارشادات

١. "اے عمر! اگر حق تمہارے دین کے علاوہ کہیں اور ہے تو میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"

٢. "تم شرک کی حالت میں نجس (ناپاک) ہو، اور اس پاک صحیفے (قرآن) کو صرف وہی چھو سکتا ہے جو پاک ہو۔"

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا

لقب و کنیت: أم جميل (ام جمیل)، أخت الفاروق (ہمشیرہ فاروقِ اعظم)
قبیلہ: قریش، بنو عدی
سن پیدائش و وفات: تقریباً 35 قبل ہجرت – 20 ہجری / 588ء – 641ء (تخمینی)
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com