Sahaba (صحابی)

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ

« أبو نجيح العرباض بن سارية السلمي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کا تعلق عرب کے مشہور اور معزز قبیلے بنو سلیم سے تھا۔ ان کا پورا نام عرباض بن ساریہ السلمی اور کنیت ابو نجیح ہے۔ ان کی ولادت ہجرتِ مدینہ سے قبل مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیانی علاقے میں ہوئی۔ ان کا بچپن اور جوانی کا دور انتہائی سادگی اور عسرت میں گزرا۔ وہ اپنے قبیلے کے ان مقتدر اور سلیم الطبع لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے بہت جلد حق کی آواز پر لبیک کہا اور اسلام کی آغوش میں آ گئے۔

قبولِ اسلام اور اصحابِ صفہ میں شمولیت

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں ہی داعیِ اسلام کی پکار پر لبیک کہا۔ ہجرت کے بعد وہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور خود کو مکمل طور پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اور صحبت کے لیے وقف کر دیا۔ وہ مدینہ منورہ میں ‘اصحابِ صفہ’ کے معزز گروہ میں شامل ہوئے، جو مسجدِ نبوی کے چبوترے پر قیام پذیر رہتے اور دن رات قرآن و حدیث سیکھنے میں مشغول رہتے تھے۔ مالی تنگ دستی اور فقر و فاقہ کے باوجود ان کا دل ایمان کے نور سے منور تھا۔ وہ ان جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جو ہمہ وقت بارگاہِ رسالت میں حاضر رہتے اور ہر غزوہ و مہم میں شرکت کے آرزومند رہتے تھے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی سورہ توبہ کی آیت نمبر 92 میں مذکور ‘البکّائون’ (رونے والوں) میں شامل ہیں۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ مجاہدین کے لیے سواریوں کا انتظام فرما رہے تھے، تو حضرت عرباض اور ان کے چند ساتھی بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تاکہ انہیں بھی سواری مل سکے اور وہ جہاد میں شریک ہو سکیں۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس تمہارے لیے کوئی سواری نہیں ہے، تو یہ صحابہ اس غم میں روتے ہوئے واپس لوٹے کہ ان کے پاس اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور جہاد میں شرکت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ قرآن مجید نے ان کے اس سچے جذبے اور آنسوؤں کو ابدی فضیلت کا درجہ دیتے ہوئے ان کی تعریف فرمائی۔

ان کی فضیلت کا ایک اور بڑا پہلو ان سے مروی وہ حدیثِ مبارکہ ہے جسے ‘حدیثِ عرباض بن ساریہ’ کہا جاتا ہے۔ یہ حدیث عقیدہ و منہج اور اتباعِ سنت کا عظیم ترین دستور مانی جاتی ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے اختلاف کے وقت سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے کو مضبوطی سے تھامنے اور بدعتوں سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فتوحاتِ شام میں بھرپور حصہ لینے کے لیے شام منتقل ہو گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا آخری حصہ حمص (شام) میں گزارا، جہاں وہ لوگوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے رہے۔ آپ انتہائی عابد و زاہد شخص تھے اور کثرت سے اللہ کی بارگاہ میں شہادت اور طویل عمر کی دعا مانگا کرتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کر سکیں۔ بالآخر، اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے دورِ حکومت میں، تقریباً 75 ہجری (694 عیسوی) میں شام کے شہر حمص میں آپ کا وصال ہوا اور وہیں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ ان کا علمی اور ایمانی ورثہ آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، (الاصابة في تمييز الصحابة)، جلد 4، ترجمہ نمبر 5493
  • امام شمس الدین الذہبی، (سير أعلام النبلاء)، جلد 3، سوانح حضرت عرباض بن ساریہ
  • ابن الاثیر الجزری، (اسد الغابة في معرفة الصحابة)، جلد 3، سوانح عرباض بن ساریہ
  • ابن کثیر الدمشقی، (البداية والنهاية)، جلد 9، وفاتِ صحابہ کے واقعات

مبارک اقوال و ارشادات

1. رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسا بلیغ خطبہ دیا جس سے دل دہل گئے اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو الوداعی خطبہ معلوم ہوتا ہے، آپ ہمیں کیا وصیت فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں تقویٰ الٰہی اختیار کرنے اور سمع و طاعت کی وصیت کرتا ہے۔

2. میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت بھی لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی اپنی مٹی (تخلیق کے ابتدائی مراحل) میں تھے۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ

لقب و کنیت: ابو نجیح، البکّاء (جہاد کے شوق میں رونے والے)، صاحبِ موعظہِ بلیغہ
قبیلہ: بنو سلیم (قبیلہ سلیم)
سن پیدائش و وفات: وفات: 75ھ / 694ء (پیدائش: قبل از ہجرت)
مقام تدفین: حمص، شام
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com