صحابیات و امہات المؤمنین

حضرت شفاء بنت عبداللہ عدویہ رضی اللہ عنہا

« الشفاء بنت عبد الله بن عبد شمس بن خلف بن شداد القرشية العدوية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت شفاء بنت عبداللہ عدویہ رضی اللہ عنہا کا تعلق قبیلہ قریش کی معزز شاخ بنو عدی سے تھا۔ آپ کا نسب اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں اور ان معدودے چند شخصیات میں شامل تھیں جو زمانہ جاہلیت میں بھی لکھنا پڑھنا جانتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو اسلام کی پہلی خاتون معلمہ اور مدبرہ ہونے کا منفرد مقام حاصل ہوا۔ آپ کے والد کا نام عبداللہ بن عبد شمس اور والدہ کا نام فاطمہ بنت وہب تھا۔ آپ کی شادی ابو حثمہ بن حذیفہ عدوی سے ہوئی، جن سے آپ کے نامور بیٹے سلیمان بن ابی حثمہ پیدا ہوئے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت شفاء رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ میں ہی دعوت اسلام کے ابتدائی دور میں دینِ حق کو قبول کیا۔ وہ اولین مہاجرات میں سے تھیں جنہوں نے راہِ خدا میں مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ ہجرت کی۔ وہ نہایت ذہین، دانشمند، پروقار اور عاقلہ خاتون تھیں۔ مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد رسول اللہ ﷺ اکثر ان کے گھر تشریف لاتے اور ان کی علمی و فکری آراء کو اہمیت دیتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی رہائش اور علمی خدمات کے اعتراف میں مدینہ میں ایک گھر بھی عنایت فرمایا جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ مقیم رہیں۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت شفاء بنت عبداللہ کو تاریخ اسلام میں کئی ایسے منفرد اعزازات حاصل ہیں جو کسی دوسری خاتون کے حصے میں نہیں آئے:
1۔ پہلی خاتون معلمہ: انہوں نے ام المؤمنین حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس تعلیمی خدمت کو بے حد پسند فرمایا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
2۔ امورِ سلطنت اور احتسابِ بازار (الحسبة): حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت شفاء کی علمی قابلیت، دیانت اور اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر انہیں مدینہ منورہ کے بازار (مارکیٹ) کا نگران (انسپکٹر) مقرر کیا۔ یہ تاریخ اسلام میں کسی بھی خاتون کو انتظامی، تجارتی اور احتسابی امور کا سربراہ مقرر کیے جانے کا پہلا اور سب سے مستند تاریخی واقعہ ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہم تجارتی اور انتظامی معاملات میں اکثر ان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا نے طویل اور بابرکت عمر پائی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے آخری حصے (تقریباً 20 ہجری مطابق 641ء) میں وفات پائی۔ آپ کو مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان ‘جنت البقیع’ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ نے علم، تدریس اور انتظامی امور میں جو اعلیٰ مثالیں قائم کیں، وہ رہتی دنیا تک مسلم خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ سے مروی احادیث کی تعداد کتبِ حدیث میں بارہ (12) ہے، جنہیں امام بخاری، امام مسلم اور دیگر محدثین نے اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، تذکرہ الشفاء بنت عبداللہ)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 2)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
  • ابن سعد (الطبقات الکبری، تذکرہ نساء المهاجرات)

مبارک اقوال و ارشادات

1۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں فرمایا: "خدا کی قسم! جب عمر بات کرتے تو سناتے، جب چلتے تو تیزی سے چلتے، اور جب مارتے تو درد ناک مارتے (یعنی وہ حقیقی قوت اور زہد کے مالک تھے)۔"

2۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "کیا تم حفصہ کو نملہ (جلد کی بیماری) کا دم نہیں سکھا دیتیں، جس طرح تم نے اسے لکھنا سکھایا ہے؟"

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت شفاء بنت عبداللہ عدویہ رضی اللہ عنہا

لقب و کنیت: أم سليمان (ام سلیمان)، معلمۃ الاسلام، پہلی خاتون معلمہ و بازار کی نگران
قبیلہ: قریش، بنو عدی (بنو عدی بن کعب)
سن پیدائش و وفات: وفات: تقریباً 20 ہجری / 641ء (عہدِ خلافتِ فاروقی)
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com