صحابیات و امہات المؤمنین

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا

« الربيع بنت معوذ بن الحارث (عفراء) الأنصارية الخزرجية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کا تعلق مدینہ منورہ کے معزز انصاری قبیلے خزرج کی شاخ بنو عدی بن النجار سے تھا۔ ان کے والد گرامی حضرت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ ان جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے غزوہ بدر میں اسلام کے بدترین دشمن ابو جہل کو جہنم واصل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور خود بھی اسی جنگ میں شہادت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام ام یزید بنت قیس تھا۔ حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کی ولادت ہجرتِ نبوی سے قبل مدینہ منورہ میں ہوئی۔ وہ ایک ایسے علمی اور جہادی گھرانے میں پروان چڑھیں جہاں قربانی اور عشقِ رسول ﷺ کو اولین درجہ حاصل تھا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاندان کے ساتھ ابتدائی دور ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ انہوں نے بیعتِ رضوان کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی، جسے قرآن مجید میں ‘شجرہء رضوان’ کے تحت اللہ تعالی کی رضا کا پروانہ قرار دیا گیا ہے۔ ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی، تو انہوں نے خواتین کی تعلیم و تربیت اور سماجی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کا گھر علم و فضل کا گہوارہ تھا، جہاں خود رسول اللہ ﷺ بسا اوقات تشریف لاتے اور ان کے خاندان پر شفقت فرماتے تھے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کا شمار ان بہادر اور جری صحابیات میں ہوتا ہے جنہوں نے میدانِ جنگ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے غزوہ احد، غزوہ خیبر اور دیگر معرکوں میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی۔ ان کا بنیادی کام زخمی مجاہدین کو ابتدائی طبی امداد دینا، پیاسوں کو پانی پلانا اور شہداء و زخمیوں کو مدینہ منورہ منتقل کرنا تھا۔

علم الحدیث اور فقہ میں ان کا مقام نہایت بلند ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے وضو اور نماز کے طریقے کی بہترین راویہ مانی جاتی ہیں۔ جلیل القدر صحابہ جیسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ممتاز تابعین ان سے وضوئے نبوی کا طریقہ سیکھنے کے لیے ان کے پاس حاضر ہوتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کی علمی ثقاہت کی بنا پر ان سے مسائل دریافت فرماتے تھے، جو ان کے علمی مرتبے کی صریح دلیل ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے طویل عمر پائی۔ مؤرخین کے مطابق ان کا وصال امیر معاویہ یا یزید بن معاویہ کے دورِ حکومت (تقریباً 45ھ سے 73ھ کے درمیان) میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ انہیں مدینہ کے تاریخی قبرستان ‘جنت البقیع’ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی علمی اور عملی زندگی رہتی دنیا تک کی خواتین کے لیے شجاعت، سخاوت، فہمِ دین اور حبِ رسول ﷺ کا ایک لازوال نمونہ ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الاصابة فی تمييز الصحابة، ترجمہ نمبر 11181
  • امام شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، جلد 2، سوانح ربیع بنت معوذ
  • ابن الاثیر الجزری، اسد الغابة فی معرفة الصحابة، تذکرہ ربیع بنت معوذ
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، جلد 8 (تذکرہ نساء الانصار)
  • البخاری، صحیح البخاری (کتاب الجہاد والسیر، باب غزوہ النساء وقتالهن مع الرجال)

مبارک اقوال و ارشادات

1. "ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتی تھیں، مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں، ان کی خدمت کرتی تھیں اور زخمیوں اور شہداء کو مدینہ منورہ واپس لاتی تھیں۔"

2. "اگر تم رسول اللہ ﷺ کی زیارت کرتے تو تمہیں یوں محسوس ہوتا جیسے چمکتا ہوا سورج طلوع ہو رہا ہو۔"

3. "رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے وضو فرمایا، اور سر کا مسح اس طرح کیا کہ ہاتھ پیچھے سے آگے اور آگے سے پیچھے لے گئے تاکہ پورا سر احاطہ میں آ جائے۔"

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا

لقب و کنیت: ام عمارہ (بعض کتب میں)، محدثہ، مجاہدہ، جلیلہ، فاضلہ، خادمہء رسول ﷺ
قبیلہ: انصار (قبیلہ خزرج، بنو النجار)
سن پیدائش و وفات: وفات: تقریباً 45ھ تا 73ھ (بمطابق 665ء تا 693ء) | پیدائش: ہجرت سے قبل (مدینہ منورہ)
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com