خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کا اصل نام ‘فاختہ’ تھا (بعض روایات میں ہند بھی ملتا ہے)۔ آپ مکہ مکرمہ کے معزز ترین قبیلے بنو ہاشم میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد سیدنا ابو طالب بن عبد المطلب تھے جو رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا اور محافظ تھے، اور آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا تھیں۔ اس مبارک رشتے سے آپ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب، حضرت جعفر طیار اور حضرت عقیل رضی اللہ عنہم کی سگی بہن اور سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی چچیری بہن تھیں۔ آپ کا بچپن مکہ کے اسی ماحول میں گزرا جہاں اسلام کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ اسلام سے قبل آپ کی شادی مخزوم قبیلے کے رئیس ہبیرہ بن ابی وہب سے ہوئی، جس سے ان کے ہاں ہانی، جعدہ، عمر اور یوسف پیدا ہوئے۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے 8 ہجری میں فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ ان کے شوہر ہبیرہ بن ابی وہب کفر پر اصرار کرتے ہوئے نجران بھاگ گئے، جس کے باعث ان کا نکاح ختم ہو گیا۔ انہوں نے اسلام لانے کے بعد اپنے یتیم بچوں کی پرورش کی اور نہایت کسمپرسی کے باوجود ایمان پر ثابت قدم رہیں۔ فتح مکہ کے دن انہوں نے اپنے شوہر کے رشتہ داروں (حارث بن ہشام اور زہیر بن ابی امیہ) کو اپنے ہاں پناہ دی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ انہیں قتل کرنے کے لیے آگے بڑھے تو ام ہانی رضی اللہ عنہا نے خود کو ان کے درمیان حائل کر لیا اور رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں شکایت لے کر حاضر ہوئیں۔ اس موقع پر رحمتِ عالم ﷺ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "اے ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی، اسے ہم نے بھی پناہ دی”۔ یہ ان کی اسلام کے لیے والہانہ محبت اور بارگاہِ رسالت میں ان کی عظمت کی دلیل ہے۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے فضائل و مناقب میں سب سے بڑا اور منفرد اعزاز یہ ہے کہ مستند روایات کے مطابق، رسول اللہ ﷺ کا سفرِ معراج (اسراء و معراج) ان ہی کے گھر سے شروع ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ ان کا بے حد احترام فرماتے تھے۔ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے ان کے گھر غسل فرمایا اور آٹھ رکعت نمازِ چاشت ادا کی جسے محدثین ‘نمازِ فتح’ کا نام بھی دیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے قریشی خواتین کی تعریف میں ام ہانی کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ‘قریش کی خواتین بچوں پر سب سے زیادہ شفیق اور شوہر کے مال کی بہترین حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں’۔ آپ ﷺ نے انہیں نکاح کا پیغام بھی دیا تھا، لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی خاطر معذرت کر لی، جس پر آپ ﷺ نے ان کے اس ایثار کی تعریف فرمائی۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کا وصال امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، تقریباً 40 ہجری کے بعد مدینہ منورہ میں ہوا۔ انہوں نے مدینہ منورہ ہجرت کی تھی اور وہیں زندگی کے آخری ایام گزارے۔ علمی دنیا میں انہوں نے ایک عظیم وراثت چھوڑی۔ ان کی مرویات کی تعداد 46 ہے، جن میں نمازِ چاشت کی مشروعیت اور کیفیت سے متعلق ان کی روایت کو فقہ اسلامی میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ محدثین اور فقہاء نے ان کی روایات کو نہایت معتبر اور مستند مانا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن الاثیر (اسد الغابة في معرفة الصحابة)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
مبارک اقوال و ارشادات
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: 'قریش کو اللہ تعالیٰ نے ایسی خصلتوں سے فضیلت دی ہے جو ان کے علاوہ کسی میں نہیں...'۔
میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے میرے گھر غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے اس سے ہلکی لیکن مکمل رکوع و سجود والی نماز کبھی نہیں دیکھی۔
