خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت ام عمارہ نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کا تعلق انصارِ مدینہ کے معزز قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، جو کہ مدینہ منورہ کے معزز ترین قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کا مکمل نسب نسیبہ بنت کعب بن عمرو بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم بن مازن بن النجار الأنصارية الخزرجية ہے۔ بنو نجار وہ قبیلہ تھا جس سے نبی کریم ﷺ کے ناناؤں کا تعلق تھا۔ آپ کی ولادت ہجرتِ مدینہ سے کافی عرصہ قبل مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ ان ابتدائی خواتین میں سے ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔
آپ کی ابتدائی زندگی اسلام کی آمد اور مدینہ منورہ میں اس کی ترویج کے دور سے ہم آہنگ ہے۔ آپ ان دو خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے بیعتِ عقبہ ثانیہ (13 نبوی) میں شرکت کی اور نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ اس وقت آپ کے ساتھ ام منیع اسماء بنت عمرو رضی اللہ عنہا تھیں۔ یہ آپ کے پختہ ایمان اور دین کے لیے عزمِ صمیم کی دلیل ہے۔ آپ نے دو شادیاں کیں؛ پہلی زید بن عاصم سے جن سے حبیب بن زید اور عبداللہ بن زید پیدا ہوئے، اور دوسری غزیہ بن عمرو سے جن سے تمیم اور خولہ پیدا ہوئیں۔ آپ کے تمام صاحبزادگان نے اسلام کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
علمی مقام، کارنامے اور خدمات
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا کا علمی مقام اس حیثیت سے ہے کہ آپ نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے فیض حاصل کیا۔ آپ کی مرویات کی تعداد کم سہی، مگر ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آپ سے 2 احادیث مروی ہیں جو سنن ترمذی اور سنن ابن ماجہ جیسی کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔ ان احادیث میں ایک جہاد اور خواتین کے کردار سے متعلق ہے، اور دوسری عمومی تعلیمات سے متعلق۔
آپ کے کارنامے اسلام کی تاریخ میں سونے سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ نے متعدد غزوات میں شرکت کی، جن میں غزوہ احد، بیعت رضوان، غزوہ حدیبیہ، غزوہ خیبر، فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ یمامہ نمایاں ہیں۔
- غزوہ احد (3 ہجری): یہ آپ کا سب سے بڑا اور یادگار کارنامہ تھا۔ جب مسلمان شکست کھا کر منتشر ہو رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ چند صحابہ کے ساتھ میدان میں تنہا رہ گئے تھے، اس وقت حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر اور دو بیٹوں کے ساتھ مل کر رسول اللہ ﷺ کا بھرپور دفاع کیا۔ آپ نے تلوار سے لڑائی کی، تیر چلائے اور ڈھال کا کام کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کی بہادری کو دیکھ کر فرمایا: "میں نے دائیں بائیں جس طرف بھی دیکھا، اسے میری حفاظت میں لڑتے ہوئے پایا۔” اس غزوہ میں آپ کو 12 زخم آئے، ایک زخم آپ کے کندھے پر ایسا لگا کہ ایک سال تک اس کا علاج ہوتا رہا۔ آپ کی ایک ٹانگ پر زخم آیا اور رسول اللہ ﷺ کو بچاتے ہوئے آپ کا بازو زخمی ہوا، لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری۔ آپ کی استقامت کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے آپ اور آپ کے اہل خانہ کے لیے دعا فرمائی کہ "اے اللہ! انہیں جنت میں میرا ساتھی بنا۔”
- غزوہ یمامہ (12 ہجری): یہ آپ کی آخری بڑی شرکت تھی۔ اس وقت آپ کی عمر زیادہ تھی، مگر مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں جب آپ کا بیٹا حبیب بن زید، جو رسول اللہ ﷺ کا قاصد تھا، مسیلمہ کے ہاتھوں انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا، تو آپ نے اس کا بدلہ لینے کی قسم کھائی۔ اس جنگ میں آپ نے براہ راست حصہ لیا اور اپنے ایک ہاتھ سے محروم ہو گئیں۔ آپ کے دوسرے بیٹے عبداللہ بن زید نے اس جنگ میں آپ کو لڑتے ہوئے دیکھا۔ آپ کی قربانی اور عزم نے صحابہ کرام میں نیا ولولہ پیدا کیا۔
فضائل، مناقب اور اوصاف حمیدہ
حضرت ام عمارہ رضی اللہ عنہا اپنے ایمان کی پختگی، بے مثال بہادری، صبر، استقامت اور رسول اللہ ﷺ سے والہانہ محبت کے لیے جانی جاتی ہیں۔
- شجاعت و بہادری: غزوہ احد اور یمامہ میں آپ کی جنگی مہارت اور جرات کی مثالیں اسلامی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ آپ نے میدان جنگ میں تلوار اور تیر اندازی میں مردوں سے بڑھ کر حصہ لیا اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا حق ادا کیا۔
- قربانی کا جذبہ: آپ نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے اپنے بیٹوں کی شہادت اور اپنے جسمانی نقصانات کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ آپ کے بیٹے حبیب بن زید کی شہادت پر آپ نے صبر کیا اور ان کے قاتل سے بدلہ لینے کے لیے غزوہ یمامہ میں شریک ہو کر قربانی کی ایک اور مثال قائم کی۔
- دینی غیرت اور علم کا شوق: آپ وہ خاتون تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ "کیا عورتوں کے لیے کوئی خاص حصہ نہیں؟” اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی وہ آیات نازل فرمائیں جن میں مرد و زن کو نیک اعمال کے اجر میں برابر قرار دیا گیا۔ یہ آپ کے دینی شعور اور مساوات کے لیے فکری بیداری کا ثبوت ہے۔
- رسول اللہ ﷺ کی محبوبیت: رسول اللہ ﷺ نے آپ کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا اور آپ اور آپ کے اہل خانہ کے لیے جنت میں رفاقت کی دعا فرمائی۔ یہ آپ کے عظیم مرتبے کی واضح دلیل ہے۔
وفات، تدفین اور تاریخی میراث
حضرت ام عمارہ نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا نے غزوہ یمامہ کے بعد، ممکنہ طور پر 13 ہجری کے قریب، وفات پائی۔ آپ کی وفات کا مقام نجد یا اس کے آس پاس کا علاقہ تھا جہاں غزوہ یمامہ لڑا گیا۔ بعض روایات میں آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہونے کا ذکر ملتا ہے، مگر زیادہ تر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کی وفات نجد میں ہوئی اور وہیں دفن کی گئیں۔
آپ کی وفات ایک مجاہدہ اور صادق الایمان خاتون کی حیثیت سے ہوئی جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی زندگی مسلم خواتین کے لیے شجاعت، استقامت، علم دوستی اور دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کا روشن مینار ہے۔ آپ کی مثال مسلمانوں کو یہ درس دیتی ہے کہ جب دین کو ضرورت ہو تو مرد و زن شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔ آپ اسلامی تاریخ کی ان عظیم خواتین میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ اسلام میں عورتوں کو بھی مردوں کی طرح جہاد اور دفاعِ دین میں حصہ لینے کی اجازت ہے اور اس پر اجرِ عظیم حاصل ہوتا ہے۔ آپ کی تاریخی میراث آج بھی مسلم معاشرے میں خواتین کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن الأثیر، عز الدین أبو الحسن علی بن أبی الکرم محمد بن محمد بن عبد الکریم بن عبد الواحد الشیبانی الجزری. (1994). أسد الغابة فی معرفة الصحابة. بیروت: دار الفکر.
- الذهبی، شمس الدین محمد بن أحمد بن عثمان بن قایماز. (1985). سیر أعلام النبلاء. بیروت: مؤسسة الرسالة.
- ابن عبد البر، أبو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد. (1992). الاستیعاب فی معرفة الأصحاب. بیروت: دار الجیل.
- ابن حجر العسقلانی، أحمد بن علی بن محمد. (1415 هـ). الإصابة فی تمییز الصحابة. بیروت: دار الکتب العلمیة.
- ترمذی، أبو عیسی محمد بن عیسی بن سَوْرة. (سنن الترمذی).
- ابن ماجہ، أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی. (سنن ابن ماجہ).
- واقدى، محمد بن عمر. (2000). کتاب المغازی. بیروت: دار الکتب العلمية.
مبارک اقوال و ارشادات
رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد میں آپ رضی اللہ عنہا کی بہادری دیکھ کر فرمایا: "میں نے دائیں بائیں جس طرف بھی دیکھا، اسے میری حفاظت میں لڑتے ہوئے پایا۔"
آپ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں دیکھتی ہوں کہ سب کچھ مردوں کے لیے بیان کیا جاتا ہے، عورتوں کے لیے تو کوئی چیز بیان نہیں کی جاتی؟" (اس کے بعد برابری کے حوالے سے آیات نازل ہوئیں)۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
