خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کا مکمل نام ام حرام بنت ملحان بن خالد بن زید بن حرام الانصاریہ النّجاریہ ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، جو انصار کے معزز قبائل میں سے تھا۔ آپ کی والدہ کا نام ملیکہ بنت مالک تھا۔ آپ کی بہن حضرت ام سلیم بنت ملحان تھیں، جو مشہور صحابی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ اس طرح حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں۔ آپ کی شادی جلیل القدر صحابی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ حضور نبی کریم ﷺ سے آپ کا بہت قریبی اور محرمانہ رشتہ تھا، اگرچہ آپ نہ تو آپ ﷺ کی رضاعی خالہ تھیں اور نہ نسبی۔ لیکن آپ ﷺ کثرت سے ان کے گھر تشریف لے جاتے، ان کے ہاں کھانا کھاتے اور بعض اوقات قیلولہ بھی فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ کا یہ طرز عمل ان کے بلند مقام اور خاندانی شرافت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ کی ولادت ہجرت سے قبل مدینہ منورہ میں ہوئی، تاہم سن ولادت کے بارے میں مستند تاریخی روایات میں صراحت نہیں ملتی۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا ان خوش نصیب خواتین میں سے تھیں جنہوں نے مدینہ منورہ میں اسلام کی ابتدائی ساعتوں میں ہی ایمان قبول کیا۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی نبوت پر دل و جان سے لبیک کہا اور اپنی زندگی کو دین اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد آپ نے بحیثیت ایک مخلص صحابیہ، نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کی خدمت میں گرانقدر حصہ لیا۔ آپ کا گھر رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک پرسکون ٹھکانہ تھا جہاں آپ ﷺ آرام فرماتے اور کھانا تناول فرماتے تھے۔ آپ اس خدمت کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھتیں اور نہایت محبت و عقیدت سے رسول اللہ ﷺ کی مہمان نوازی کرتی تھیں۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کا سب سے نمایاں کارنامہ اور فضیلت اس مشہور حدیث سے وابستہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور قیلولہ فرمایا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے مسکرانے کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میری امت کے کچھ لوگ سمندر کی پیٹھ پر جہاد کے لیے سفر کر رہے ہیں، وہ تخت نشین بادشاہوں کی طرح سمندر کی موجوں پر تیر رہے ہیں۔“ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان میں سے بنا دے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان میں سے ہے۔“ پھر آپ ﷺ دوبارہ سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو پھر مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے دوبارہ وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے پھر وہی خواب بیان کیا۔ انہوں نے پھر درخواست کی کہ ”یا رسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان میں سے بنا دے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پہلوں میں سے ہو گی۔“ یہ آپ کی بہت بڑی فضیلت تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو بحری جہاد کے اولین شہداء میں سے ہونے کی بشارت دی۔ یہ حدیث آپ کی بلند ہمتی، جذبہ جہاد اور اللہ کی راہ میں شہادت کی آرزو کو ظاہر کرتی ہے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
رسول اللہ ﷺ کی یہ بشارت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پوری ہوئی۔ 28 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 29 ہجری) میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں کا پہلا بحری بیڑا بحیرہ روم میں جہاد کے لیے قبرص روانہ ہوا۔ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس مہم میں شامل ہوئیں۔ یہ وہی مہم تھی جس کی بشارت رسول اللہ ﷺ نے دی تھی۔ قبرص پہنچ کر یا ساحل پر اترتے ہوئے آپ اپنی سواری سے گر پڑیں اور وہیں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یوں آپ اس بشارت کے مصداق بنیں کہ ”تم پہلوں میں سے ہو گی۔“ آپ کا مزار آج بھی جزیرہ قبرص کے شہر لارناکا کے قریب ایک زیارت گاہ کے طور پر موجود ہے جسے ‘ہالہ سلطان تکیہ’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ کی شہادت اسلام کی تاریخ میں خواتین کی جہادی روح اور دین کے لیے قربانی کی ایک روشن مثال ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن الاثیر (اسد الغابة)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
- امام بخاری (صحیح بخاری)
- امام مسلم (صحیح مسلم)
مبارک اقوال و ارشادات
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان میں سے (سمندری جہاد کرنے والوں میں) سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔
ایک اور روایت میں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے ان میں سے بنا دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم پہلوں میں سے ہو گی۔
