خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا، اسلام کی ابتدائی اور عظیم المرتبت خواتین صحابیات میں سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب یوں ہے: اسماء بنت ابی بکر عبد اللہ بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ القرشیہ التیمیہ۔ آپ قریش کے قبیلہ بنو تیم سے تعلق رکھتی تھیں اور خلیفہ اول، یار غار رسول ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی والدہ کا نام قتیلہ بنت عبدالعزیٰ تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی علاتی بہن تھیں۔ ولادتِ نبوی ﷺ سے 27 سال قبل (تقریباً 595 عیسوی) مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ ابتدائی دور اسلام میں ہی مشرف بہ اسلام ہوئیں اور ان خوش نصیب افراد میں سے تھیں جنہوں نے اپنی آنکھوں سے اسلام کی ترویج اور عروج کا مشاہدہ کیا۔ آپ کا شمار ان سابقون الاولون میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں۔ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بعد جلد ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور یوں اسلام لانے والے چند ابتدائی افراد میں شامل ہو گئیں۔
علمی مقام، کارنامے اور خدمات
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا علمی مقام بہت بلند تھا، آپ رسول اکرم ﷺ اور اپنے والد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے براہ راست فیض یافتہ تھیں۔ آپ نے کئی احادیث روایت کیں جو کتبِ صحاح ستہ اور دیگر مسانید میں موجود ہیں۔ آپ کے مرویات کی تعداد تقریباً 58 ہے جن میں سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بھی کئی احادیث موجود ہیں۔ آپ سے آپ کے صاحبزادوں حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عروہ بن زبیر سمیت کئی جلیل القدر تابعین نے حدیث حاصل کی۔ آپ کی فقہی بصیرت اور مسائل دین پر گہری گرفت تھی، جس کی گواہی آپ کے تلامذہ نے دی ہے۔
آپ کی سب سے عظیم اور یادگار خدمت ہجرت مدینہ کے موقع پر ظاہر ہوئی۔ جب رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مکہ سے ہجرت فرما رہے تھے، تو آپ نے انتہائی حکمت، ذہانت اور جرأت مندی کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے اپنے والد اور رسول اللہ ﷺ کے لیے سفر کا زادِ راہ تیار کیا اور جب اسے باندھنے کے لیے کوئی چیز میسر نہ آئی تو اپنی کمر بند (نطاق) کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے سے زادِ راہ باندھا اور دوسرے کو اپنی کمر پر قائم رکھا۔ اس واقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے آپ کو "ذات النطاقین" (دو کمر بندوں والی) کا لقب عطا فرمایا، جو آپ کے فضائل میں ایک نمایاں شناخت بن گیا۔ اس واقعہ سے آپ کی بے پناہ قربانی، ایثار اور دین اسلام سے والہانہ محبت کا اظہار ہوتا ہے۔
آپ کی شادی مشہور صحابی، عشرہ مبشرہ میں سے حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور آپ کے بطن سے کئی اولاد ہوئی جن میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابی اور تابعی شامل تھے۔ آپ نے انتہائی صبر و استقامت سے اپنی زندگی گزاری، یہاں تک کہ اپنے شوہر کی زندگی میں گھریلو مشقتیں بھی برداشت کیں اور ان کے ساتھ ہجرت مدینہ بھی فرمائی۔ آپ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران ان کی مکمل حمایت کی اور جب حجاج بن یوسف نے مکہ کا محاصرہ کیا تو آپ نے اپنے بیٹے کو شاندار استقامت اور شہادت پر ابھارا۔ آپ کے مشورے نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو میدانِ جنگ میں ثابت قدم رکھا اور وہ مردانہ وار لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔
فضائل، مناقب اور اوصاف حمیدہ
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بے شمار فضائل اور اوصاف حمیدہ کی مالک تھیں۔ آپ کی سب سے بڑی شناخت "ذات النطاقین" کا لقب ہے جو خود رسول اکرم ﷺ نے آپ کو عطا فرمایا۔ یہ لقب آپ کی ہجرت کے سفر میں بے مثال جرات، ایثار اور قربانی کی علامت ہے۔ آپ انتہائی سخی تھیں۔ روایت ہے کہ آپ کبھی کچھ جمع کرکے نہ رکھتی تھیں، بلکہ جو کچھ ملتا فی سبیل اللہ خرچ کر دیتی تھیں۔ آپ بہت عابدہ و زاہدہ تھیں۔ آپ کی طبیعت میں صبر، استقامت، اور اللہ پر توکل غالب تھا۔ اپنی اولاد، خاص کر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو جس طرح آپ نے دین کی خاطر شہادت پر ابھارا، وہ آپ کے غیر متزلزل ایمان اور بے مثال بہادری کی دلیل ہے۔ حجاج کے جبر کے باوجود، آپ نے حق کی حمایت سے کبھی گریز نہ کیا۔ آپ کی وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً سو سال تھی لیکن آپ کی عقل و فہم پوری طرح سلامت تھی۔ آپ کی بصارت اگرچہ کمزور ہو چکی تھی لیکن آپ کی فہم و فراست میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
وفات، تدفین اور تاریخی میراث
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے طویل عمر پائی اور تقریباً 73 ہجری (692 عیسوی) میں، اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چند ہی دن بعد، مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ کی وفات سو سال کی عمر میں ہوئی، جبکہ آپ کا کوئی دانت نہیں گرا تھا اور نہ ہی آپ کی عقل میں کوئی فتور آیا تھا۔ آپ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ آپ کی زندگی خواتین عالم کے لیے قربانی، شجاعت، صبر اور ایمان باللہ کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔ آپ کی سیرت نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی کہ کس طرح ایک عورت اپنے کردار اور عزم سے امت کی تاریخ میں غیر فانی نقوش چھوڑ سکتی ہے۔ آپ کی سوانح عمری میں جرات، سخاوت، تقویٰ اور اللہ پر توکل کے ایسے واقعات موجود ہیں جو رہتی دنیا تک مشعل راہ رہیں گے۔ آپ کی خدمات و فضائل کا ذکر احادیث، سیرت کی کتب اور تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب ذات النطاقین.
- صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل أسماء بنت أبی بکر.
- سیر أعلام النبلاء للذهبی، جلد 3، صفحہ 235-252.
- الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب لابن عبد البر، جلد 4، صفحہ 1783-1786.
- الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر العسقلانی، جلد 8، صفحہ 9-11.
- طبقات ابن سعد، جلد 8، صفحہ 250-255.
- تاریخ الطبری، جلد 5، صفحہ 429-431.
مبارک اقوال و ارشادات
اے بیٹے! اگر تم حق پر ہو اور حق کی دعوت دے رہے ہو، تو پھر موت سے مت ڈرو۔ عزت کی موت بزدلی کی زندگی سے بہتر ہے۔ (یہ مشورہ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کی شہادت سے قبل دیا تھا)
موت ایک دفعہ آتی ہے، بار بار نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا رزق مقدر کر دیا ہے اور ہر ایک کی موت کا وقت مقرر کر دیا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
