Sahaba (صحابی)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (سید القراء)

« أُبَيّ بْن كَعْب بْن قَيْس بْن عُبَيْد بْن زَيْد بْن مُعَاوِيَة بْن عَمْرو بْن مَالِك بْن النَّجَّار الأَنْصَارِي الخَزْرَجِي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو النجار سے تھا، جو کہ رسول اللہ ﷺ کا ننھیالی خاندان بھی تھا۔ آپ کی ولادت ہجرتِ نبوی سے قبل یثرب (مدینہ منورہ) میں ہوئی۔ آپ کا شمار مدینہ کے ان چند چیدہ چیدہ افراد میں ہوتا تھا جو اسلام کی آمد سے قبل بھی لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور علم و دانش میں ممتاز مقام رکھتے تھے۔ آپ کا قبیلہ بنو النجار علم و فضل اور شجاعت میں ہمیشہ پیش پیش رہا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر مکہ مکرمہ جا کر اسلام قبول کیا۔ وہ ان 73 انصار میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور مدینہ آمد پر جان نثاری کا عہد کیا۔ مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد آپ کاتبینِ وحی کے زمرے میں شامل ہوئے اور مدینہ میں سب سے پہلے کاتبِ وحی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ جب بھی وحی نازل ہوتی، رسول اللہ ﷺ آپ کو طلب فرماتے اور آپ نہایت باریک بینی اور خشوع کے ساتھ اسے تحریر فرماتے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا امتیاز ان کا علمِ قرآن اور تجوید و قرأت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا: "أقرؤهم أبي” (تم میں سب سے بہترین قاری ابی بن کعب ہے)۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورہ لم یکن الذین کفروا سناؤں۔” حضرت ابی بن کعب نے حیرت اور خوشی سے پوچھا: "یا رسول اللہ! کیا اللہ نے (اپنے عرش پر) میرا نام لیا ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں۔” یہ سن کر حضرت ابی بن کعب کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہو گئے۔

عہدِ فاروقی میں جب تراویح کی باجماعت نماز کا آغاز ہوا، تو سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا امام مقرر کیا، جس سے ان کے علمی و قرآنی مقام کا ثبوت ملتا ہے۔ وہ ان چار جلیل القدر صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ظاہری حیاتِ مبارکہ ہی میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں جب قرآن مجید کے سرکاری نسخے تیار کیے جا رہے تھے، تو حضرت ابی بن کعب اس کمیٹی کے سربراہ اور املا کروانے والے بنیادی رکن تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے سالِ وفات میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ ایک قول کے مطابق آپ کی وفات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری ایام (22 ھ) میں ہوئی اور خود سیدنا عمر نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ دوسرا اور زیادہ مستند قول یہ ہے کہ آپ کا وصال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تقریباً 30 ھ میں ہوا۔ آپ کو مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے علمِ قرأت، تفسیر اور فقہ کی صورت میں امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم علمی ورثہ چھوڑا، جس سے آج تک مفسرین اور قراء استفادہ کر رہے ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، جلد 1، ترجمہ ابی بن کعب)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 1، سوانح ابی بن کعب)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة، تذکرہ ابی بن کعب)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، واقعاتِ خلافتِ عمر و عثمان رضی اللہ عنہم)

مبارک اقوال و ارشادات

مؤمن کی چار علامتیں ہیں: اگر وہ مصیبت میں مبتلا ہو تو صبر کرتا ہے، اگر اسے نعمت ملے تو شکر کرتا ہے، جب بات کرتا ہے تو سچ بولتا ہے، اور جب فیصلہ کرتا ہے تو عدل کرتا ہے۔

علم کو سیکھو اور اس پر عمل کرو، کیونکہ علم صرف جاننے کا نام نہیں بلکہ اس پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے۔

دنیا کی لذتیں ختم ہونے والی ہیں اور اس کا حساب باقی رہنے والا ہے، جبکہ آخرت کا ثواب دائمی ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ (سید القراء)

لقب و کنیت: ابو المنذر، ابو الطفيل | القاب: سَیِّدُ الْقُرَّاء، کاتبِ وحی، سید المسلمین
قبیلہ: انصار، قبیلہ خزرج (بنو النجار)
سن پیدائش و وفات: وفات: 22ھ یا 30ھ / 643ء یا 650ء (ولادت: ہجرت سے قبل مدینہ منورہ میں)
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com