Sahaba (صحابی)

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ (زاہد صحابہ)

« أبو ذر جندب بن جنادة بن سفيان الغفاري الكناني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو غفار سے تھا، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تجارتی شاہراہ پر آباد تھا۔ ان کا اصل نام جندب بن جنادہ تھا۔ عہدِ جاہلیت میں ان کا قبیلہ قافلوں کو لوٹنے اور رہزنی کے لیے بدنام تھا، لیکن حضرت ابو ذر غفاری کی طبیعت ابتدا ہی سے سلیم اور بت پرستی سے بیزار تھی۔ انہوں نے بعثتِ نبوی سے قبل ہی بتوں کی پوجا چھوڑ دی تھی اور خدائے واحد کی عبادت شروع کر دی تھی۔ وہ ایک ایسے مصلح مزاج انسان تھے جو سچائی کی تلاش میں سرگرداں رہتے تھے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

جب مکہ مکرمہ میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبریں عام ہوئیں، تو حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی انیس کو تحقیق کے لیے مکہ بھیجا۔ بھائی کی واپسی پر تسلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود مکہ روانہ ہوئے اور کعبہ کے سائے میں کئی روز گزارے۔ آخر کار حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی رہنمائی میں وہ دربارِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ وہ اسلام لانے والے ابتدائی پانچ افراد میں شامل ہیں، اسی لیے انہیں ‘خامس الاسلام’ کہا جاتا ہے۔ قبولِ اسلام کے فوراً بعد انہوں نے حرمِ مکہ میں مشرکینِ قریش کے سامنے اعلانیہ کلمہ حق بلند کیا، جس پر انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی مداخلت سے ان کی جان بچائی گئی۔ بعد ازاں، حضور ﷺ کے حکم پر وہ اپنے قبیلے میں واپس چلے گئے اور وہاں دعوتِ دین کا کام شروع کیا، جس کے نتیجے میں پورا قبیلہ غفار اور قبیلہ اسلم دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ زہد، تقویٰ، اور سچائی کا وہ بلند پایہ استعارہ ہیں جن کی مثال تاریخِ اسلام میں نایاب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی سچائی کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا تھا: ‘آسمان نے کبھی ایسے شخص پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی ایسے شخص کو اٹھایا جو ابو ذر سے زیادہ سچا ہو’ (ترمذی)۔ وہ مال و دولت جمع کرنے کے سخت خلاف تھے اور اسے امت کے لیے فتنہ سمجھتے تھے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب ان کی سواری کمزور ہو کر پیچھے رہ گئی، تو انہوں نے اپنا سامان پیٹھ پر لادا اور پیدل ہی لشکرِ اسلام سے جا ملے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں دور سے دیکھ کر فرمایا تھا: ‘اللہ ابو ذر پر رحم کرے، وہ اکیلا چلتا ہے، اکیلا مرے گا، اور قیامت کے دن اکیلا ہی اٹھایا جائے گا’۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

عہدِ عثمانی میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اور حاکمِ شام حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین جمعِ مال اور زہد کے معاملے پر فکری اختلاف پیدا ہوا۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ ضرورت سے زائد مال جمع کرنا گناہ ہے، جب کہ دیگر صحابہ کا خیال تھا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد حلال مال رکھنا جائز ہے۔ اس اختلاف کے بعد وہ مدینہ تشریف لائے اور پھر خلیفہِ وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی رضامندی سے مدینہ کے نواح میں واقع صحرائی علاقے ‘الربذہ’ میں گوشہ نشین ہو گئے۔ وہیں 32 ہجری میں نہایت کسمپرسی اور تنہائی کی حالت میں ان کا وصال ہوا۔ ان کی تجہیز و تکفین کے وقت وہاں سے گزرنے والے مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قافلے نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ان کے کفن و دفن کا انتظام کیا۔ حضرت ابو ذر غفاری کی زندگی آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سادگی، بے باکی، اور سچی ایمانی غیرت کا عظیم نمونہ ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، (الاصابة فی تمييز الصحابة، جلد 7، تذکرہ جندب بن جنادہ)
  • امام شمس الدین الذہبی، (سير أعلام النبلاء، جلد 2، سوانح ابو ذر الغفاری)
  • ابن الاثیر الجزری، (اسد الغابة فی معرفة الصحابة، جلد 5)
  • ابن کثیر الدمشقی، (البداية والنهاية، جلد 7، واقعات 32 ہجری)

مبارک اقوال و ارشادات

1. 'لوگو! اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر لو، ایک حصہ طلبِ حلال کے لیے اور دوسرا حصہ آخرت کی تیاری کے لیے، تیسرا حصہ تمہیں نقصان پہنچائے گا۔'

2. 'مجھ سے میرے خلیل ﷺ نے سات وصیتیں فرمائیں جن میں سب سے اول یہ ہے کہ میں غریبوں سے محبت کروں اور ان کے قریب رہوں۔'

3. 'دنیا مسافر کا سایہ ہے، عقل مند اس عارضی مقام سے سچی محبت نہیں کرتا۔'

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ (زاہد صحابہ)

لقب و کنیت: ابو ذر (کنیت) / زاہدِ صحابہ، مسیح الاسلام، خامس الاسلام (القابات)
قبیلہ: بنو غفار (بنو کنانہ کی ایک مشہور شاخ)
سن پیدائش و وفات: وفات: 32 ہجری / 652 عیسوی (پیدائش: قبل از ہجرت، تاریخ غیر متعین لیکن اندازاً 40 قبل ہجرت)
مقام تدفین: الربذہ (مدینہ منورہ کے قریب مضافاتی صحرا)، سعودی عرب
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com