Sahaba (صحابی)

حضرت ابو درداء عامر بن مالک رضی اللہ عنہ (حکیم الامت)

« أبو الدرداء عويمر بن مالك (وقيل عامر) بن قيس بن ثعلبة الخزرجي الأنصاري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کا اصل نام عویمر تھا، تاہم بعض مؤرخین نے آپ کا نام عامر بن مالک بھی لکھا ہے۔ آپ مدینہ منورہ کے مشہور قبیلے خزرج کی شاخ بنو ثعلبہ بن عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی ولادت ہجرتِ نبوی سے تقریباً 38 برس قبل مدینہ منورہ میں ہوئی۔ اسلام لانے سے قبل آپ مدینہ کے ایک کامیاب اور نامور تاجر تھے اور اپنی دیانت داری و شرافت کے لیے مشہور تھے، اور اپنے گھر میں ایک خاص بت کی پوجا کیا کرتے تھے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر کے فوراً بعد اسلام قبول کیا۔ ان کے قبولِ اسلام کا واقعہ انتہائی دلچسپ ہے۔ ان کے قریبی دوست حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے (جو پہلے اسلام لا چکے تھے) ان کی عدم موجودگی میں ان کے گھر جا کر ان کے بت کو توڑ دیا۔ جب ابو درداء گھر واپس آئے اور ٹوٹے ہوئے بت کو دیکھا تو پہلے غصہ ہوئے، لیکن پھر سوچا کہ اگر اس بت میں کوئی طاقت ہوتی تو یہ خود کو بچا لیتا۔ اس فکرِ سلیم نے ان کے دل کی کایا پلٹ دی، اور وہ فوراً بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ اسلام لانے کے بعد انہوں نے تجارت کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا اور خود کو عبادت، زہد، اور تحصیلِ علم کے لیے وقف کر دیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو درداء کو ‘حکیم الامت’ (امت کا دانا) کا معزز لقب عطا فرمایا۔ آپ ان چند برگزیدہ صحابہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے عہدِ رسالت ہی میں مکمل قرآن مجید حفظ کر لیا تھا اور اس کے درس و تدریس میں مشغول ہو گئے تھے۔ آپ انتہائی عابد و زاہد اور متقی انسان تھے۔ خلافتِ فاروقی میں جب شام فتح ہوا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ کو دمشق کا قاضی (چیف جسٹس) مقرر کیا۔ آپ دمشق کی جامع مسجد میں قرآن و حدیث کا درس دیا کرتے تھے، جہاں ایک وقت میں سیکڑوں طلبہ ان سے فیض یاب ہوتے تھے۔ علمِ رجال اور تاریخِ اسلامی میں انہیں قراءت اور فقہ کا امام تسلیم کیا جاتا ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سنہ 32 ہجری (تقریباً 652ء) میں دمشق، شام میں وفات پائی۔ وفات کے وقت آپ کی عمر مبارک تقریباً 70 برس تھی۔ وفات کے وقت آپ نے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں آخرت کا سفر کیا، اور اپنی اولاد کو صرف تقویٰ کی وصیت کی۔ آپ کا مزارِ اقدس دمشق کی تاریخی فصیل کے باہر ‘باب الصغیر’ کے قبرستان کے قریب واقع ہے، جو آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)

مبارک اقوال و ارشادات

1. 'تفکر کی ایک گھڑی رات بھر کے قیام (عبادت) سے بہتر ہے۔'

2. 'تم اس وقت تک عالم نہیں بن سکتے جب تک علم پر عمل نہ کرو، اور تمہارا علم تمہارے لیے وبال ہے اگر تم نے اس پر عمل نہ کیا۔'

3. 'لوگو! علم سیکھو اس سے پہلے کہ وہ اٹھا لیا جائے، اور علم کا اٹھ جانا اہل علم کی موت ہے۔'

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ابو درداء عامر بن مالک رضی اللہ عنہ (حکیم الامت)

لقب و کنیت: ابو الدرداء (کنیت)، حکیم الامت، سید القراء، قاضیِ شام (القاب)
قبیلہ: انصار (قبیلہ خزرج، بنو ثعلبہ بن عدی)
سن پیدائش و وفات: 38 قبل ہجری – 32 ہجری / 586ء – 652ء
مقام تدفین: دمشق، شام (باب الصغیر)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com