Sahaba (صحابی)

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (میزبان رسول اللہ ﷺ)

« أبو أيوب خالد بن زيد بن كليب الخزرجي الأنصاري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے معزز قبیلہ خزرج کے خاندان بنو نجار سے تھا۔ آپ کا نسب خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبد عوف بن غنم بن مالک بن النجار ہے۔ بنو نجار وہ قبیلہ تھا جس سے نبی کریم ﷺ کا ننھیالی رشتہ بھی تھا (عبد المطلب کی والدہ سلمیٰ بنت عمرو اسی قبیلے سے تھیں)۔ آپ کی ولادت ہجرتِ نبوی سے تقریباً چالیس سال قبل مدینہ میں ہوئی۔ آپ کا شمار مدینہ کے ان چند مقتدر اور بااثر افراد میں ہوتا تھا جو پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور علم و دانش میں بلند مقام رکھتے تھے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اسلام کی دعوت پہنچتے ہی لبیک کہا۔ آپ ان خوش نصیب انصار میں شامل تھے جنہوں نے ‘بیعتِ عقبہ ثانیہ’ میں مکہ جا کر نبی کریم ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی اور مدینہ میں اسلام کی ترویج کا عہد کیا۔ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو ہر انصاری کی یہ شدید خواہش تھی کہ آپ ﷺ ان کے گھر قیام فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی (قصواء) کو آزاد چھوڑ دیا اور فرمایا کہ یہ اللہ کی طرف سے مامور ہے۔ اونٹنی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان کے سامنے جا کر بیٹھ گئی۔ اس طرح آپ کو ‘میزبانِ رسول ﷺ’ ہونے کا وہ عظیم اور ابدی شرف حاصل ہوا جو کائنات میں کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ آپ ﷺ نے تقریباً سات ماہ تک حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر میں قیام فرمایا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تمام غزوات بشمول بدر، احد، خندق، اور بیعتِ رضوان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ انتہائی دلیر، حق گو اور زاہد انسان تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی آپ کا جہادی جذبہ سرد نہیں ہوا۔ عہدِ خلفائے راشدین میں آپ نے اہم خدمات انجام دیں۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ ان کے مخلص ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور آپ نے جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ مدینہ منورہ کی عارضی گورنری بھی آپ کے سپرد کی گئی۔ آپ کا علمی مرتبہ بھی بہت بلند تھا؛ کثیر تعداد میں صحابہ اور تابعین نے آپ سے احادیثِ نبوی روایت کی ہیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آخری معرکہ قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کا محاصرہ تھا۔ سن 52 ہجری میں، انتہائی ضعیف العمری (تقریباً 92 سال کی عمر) کے باوجود، آپ نے امیرِ لشکر یزید بن معاویہ کی قیادت میں رومی سلطنت کے دارالحکومت کے خلاف مہم میں شرکت کی۔ سفر کے دوران آپ شدید بیمار ہو گئے۔ جب آپ سے آخری وصیت کا پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ‘جب میں فوت ہو جاؤں، تو میرا جنازہ اٹھا کر دشمن کی سرزمین میں جہاں تک ممکن ہو سکے آگے لے جانا، اور مجھے قسطنطنیہ کی دیواروں کے سائے تلے دفن کرنا۔’ چنانچہ مسلمانوں نے رومی فوج کی صفوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو دیوارِ قسطنطنیہ کے بالکل قریب دفن کیا۔ رومیوں نے بھی آپ کی قبر کی عظمت کو تسلیم کیا اور بعد کے ادوار میں وہاں ایک عظیم الشان مسجد اور مقبرہ (ایوب سلطان مسجد) تعمیر کیا گیا جو آج بھی استنبول، ترکی میں زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 2)
  • ابن الاثیر الجزری (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، واقعات سن 52 ہجری)

مبارک اقوال و ارشادات

رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں کسی غزوہ سے پیچھے رہنا میرے ایمان کے خلاف تھا۔

جب تک دین کا نظام اہل اور متقی لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو دین سے خوفزدہ نہ ہو، لیکن جب یہ نااہلوں کے ہاتھ میں چلا جائے تو پھر دین پر آنسو بہاؤ۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (میزبان رسول اللہ ﷺ)

لقب و کنیت: ابو ایوب (کنیت)، میزبانِ رسول ﷺ، سید الانصار، انصاری مدنی (القاب)
قبیلہ: انصار (قبیلہ خزرج، بنو نجار)
سن پیدائش و وفات: 40 قبل ہجرت – 52 ہجری / 582ء – 672ء
مقام تدفین: استنبول (قدیم قسطنطنیہ)، ترکی (دیوارِ قسطنطنیہ کے قریب)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com