Sahaba (صحابی)

حارثہ بن مالک رضی اللہ عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہ کا مکمل نام حارثہ بن النعمان بن نافع بن زید بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن النجار الانصاری الخزرجی ہے۔ آپ کا تعلق مدینہ منورہ کے خزرج قبیلے کے بنو نجار خاندان سے تھا، جو انصار کے ایک ممتاز اور بااثر قبائل میں شمار ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان چند عظیم صحابہ کرام میں سے ہیں جن کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے خصوصی طور پر فرمایا اور جنہیں ایمان و یقین کی بلندیوں پر فائز قرار دیا۔ بعض اوقات "حارثہ بن مالک” کا نام بھی بعض تذکروں میں ملتا ہے، تاہم مستند تاریخی روایات اور کتب صحابہ (جیسے الاصابہ فی تمییز الصحابہ، الاستیعاب، اسد الغابہ) کے مطابق وہ شخصیت جن کے گہرے ایمان، قربانیوں اور رسول اللہ ﷺ سے قربت کے واقعات کثرت سے منقول ہیں، وہ حضرت حارثہ بن النعمان ہی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کو آپ کی والہانہ خدمتِ دین، عسکری شجاعت اور خاص طور پر آپ کی والدہ سے بے پناہ حسن سلوک کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور زمانہ جاہلیت سے ہی شریف النفس اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے سے قبل حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی دعوت کے ذریعے اسلام مدینہ میں پھیلنا شروع ہوا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اسلام قبول فرما لیا۔ آپ ان سابقون الاولون میں سے تھے جنہوں نے ہجرت سے قبل ہی اسلام کی روشنی کو دل میں بسا لیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلامی معاشرے کی تشکیل میں بھرپور حصہ لیا اور ہجرت کے بعد نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد نبوی کے قریب ہی تھا، جس کی وجہ سے آپ کو نبی اکرم ﷺ سے خصوصی قربت حاصل ہوئی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کارناموں اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام غزوات، بشمول غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شرکت فرمائی اور اپنی شجاعت و بہادری کا لوہا منوایا۔ آپ رضی اللہ عنہ کی نمایاں خدمات اور خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • ایمان و یقین کا اعلیٰ مقام: آپ رضی اللہ عنہ کا سب سے مشہور واقعہ وہ ہے جب رسول اللہ ﷺ نے آپ سے پوچھا: "کیف أصبحت يا حارثة؟” (اے حارثہ! تم نے صبح کیسے کی؟) تو آپ نے عرض کیا: "أَصْبَحْتُ مُؤْمِنًا حَقًّا” (میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں سچا مؤمن ہوں)۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا ہے تمہارے ایمان کی حقیقت؟” تو آپ نے عرض کیا: "كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَرْشِ رَبِّي بَارِزًا، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ فِيهَا، وَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَهْلِ النَّارِ يَتَصَارَخُونَ فِيهَا” (مجھے ایسے لگتا ہے جیسے میں اپنے رب کا عرش کھلا دیکھ رہا ہوں، اور جیسے میں اہل جنت کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، اور جیسے میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ چیخ و پکار کر رہے ہیں)۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "يَا حَارِثَةُ عَرَفْتَ فَاثْبُتْ” (اے حارثہ! تم نے پہچان لیا، پس ثابت قدم رہو)۔ یہ حدیث آپ کے ایمان کے بلند مقام اور یقین کامل کی واضح دلیل ہے۔ (سنن الترمذی)
  • رسول اللہ ﷺ سے قربت اور سخاوت: آپ رضی اللہ عنہ نے بارہا اپنے گھر نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے وقف کیے اور خود دوسرے گھروں میں منتقل ہوتے رہے۔ صحیح بخاری میں ذکر ہے کہ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے مزید کمروں کی ضرورت پیش آئی تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت حارثہ سے کہا کہ وہ اپنی زمین دے دیں۔ آپ نے بخوشی دی اور بعد میں کئی مرتبہ یہ پیشکش کی۔ آپ کا گھر بیت نبوی کے اتنا قریب تھا کہ آپ کو "نبی اکرم ﷺ کے پڑوسی” کا لقب بھی حاصل تھا۔
  • والدہ کی خدمت: حضرت حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کی زندہ مثال تھے۔ مشہور ہے کہ آپ اپنی والدہ کے ہاتھ سے کھانا کھاتے اور اگر وہ کسی چیز کی خواہش کرتیں تو آپ اس چیز کو نکال کر والدہ کے سامنے پیش کرتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس صفت کو بہت سراہا تھا۔
  • مسجد نبوی کی تعمیر میں حصہ: آپ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع اور تعمیر میں بھی بھرپور حصہ لیا، لکڑیاں اور پتھر فراہم کیے۔
  • بینائی کا زوال اور جنت کی بشارت: آپ رضی اللہ عنہ آخری عمر میں بینائی سے محروم ہو گئے تھے، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے آپ کو جنت کی بشارت دی تھی۔

میراث اور وصال

حضرت حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وفات پائی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی ایمان کی پختگی، حضور اکرم ﷺ سے بے مثال محبت اور اہل خانہ سے حسن سلوک کا ایک روشن باب ہے۔ آپ کی اولاد میں بھی کئی مشہور محدثین اور راوی شامل ہوئے، جنہوں نے دین اسلام کی خدمت جاری رکھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی میراث میں سب سے نمایاں آپ کا وہ یقین کامل ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے سراہا اور آپ کی والدہ سے حسن سلوک کی وہ مثال ہے جو آج بھی فرزندان توحید کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح بخاری (کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب حارثہ بن النعمان)
  • سنن الترمذی (کتاب صفۃ القیامہ والرقائق والورع، حدیث نمبر 2528)
  • مسند احمد
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ از ابن حجر عسقلانی
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب از ابن عبدالبر
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ از ابن اثیر
  • سیر اعلام النبلاء از امام ذہبی
  • تاریخ طبری
  • البدایہ والنہایہ از ابن کثیر

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حارثہ بن مالک رضی اللہ عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com