خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
تقی الدین محمد بن معروف شامی عثمانی دورِ خلافت کے عظیم ترین سائنسدانوں، ریاضی دانوں، فلکیات دانوں اور موجدین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کی ولادت 932 ہجری (مطابق 1526ء) میں شام کے تاریخی شہر دمشق میں ہوئی۔ آپ کا تعلق علمی و معزز خاندان بنو اسد سے تھا۔ آپ کے والد معروف بن احمد خود ایک جید عالم دین تھے۔ تقی الدین نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی اور پھر دمشق، قاہرہ اور استنبول کے نامور شیوخ سے تفسیر، حدیث، فقہ، ریاضی، طبیعیات اور فلکیات کی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے دمشق اور مصر میں بحیثیت قاضی (جج) خدمات بھی سرانجام دیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف سائنسی علوم بلکہ اسلامی فقہ اور شریعت پر بھی کامل دسترس رکھتے تھے۔
قسطنطنیہ آمد اور رصد گاہ کا قیام
تقی الدین شامی کی علمی شہرت جب سلطنت عثمانیہ کے دارالخلافہ استنبول (قسطنطنیہ) پہنچی، تو سلطان سلیم ثانی اور بعد ازاں سلطان مراد ثالث نے انہیں شاہی دربار میں مدعو کیا۔ 1571ء میں انہیں سلطنت عثمانیہ کا ‘منجم باشی’ (Chief Astronomer) مقرر کیا گیا۔ تقی الدین کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ 1577ء میں استنبول میں ایک عظیم الشان رصد گاہ (Observatory) کا قیام تھا، جسے ‘رصد گاہِ تقی الدین’ کہا جاتا ہے۔ یہ رصد گاہ اپنے وقت میں دنیا کی جدید ترین رصد گاہوں میں سے ایک تھی، جہاں انہوں نے اپنے خود ساختہ اور انتہائی دقیق فلکیاتی آلات نصب کیے۔ ان کے تیار کردہ آلات اس دور کے نامور یورپی ماہرِ فلکیات ٹائیکو براہے (Tycho Brahe) کے آلات سے کہیں زیادہ درست اور جدید تھے۔
نمایاں سائنسی کارنامے اور ایجادات
تقی الدین شامی کا شمار دنیا کے اولین موجدین میں ہوتا ہے جنہوں نے بھاپ کی طاقت (Steam Power) کا عملی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنی کتاب ‘الطرق السنیہ فی الآلات الروحانیہ’ میں ایک ایسے سٹیم ٹربائن کا خاکہ اور طریقہ کار لکھا جو بھاپ کی مدد سے گھومتا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وقت کی پیمائش کے لیے انتہائی جدید میکانیکی گھڑی (Mechanical Clock) ایجاد کی، جو گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈوں کی درست نشاندہی کرتی تھی۔ فلکیات میں انہوں نے ‘سدرۃ المنتہیٰ’ کے نام سے فلکیاتی جدول (Zij) مرتب کیا، جس نے سیاروں کی گردش کی پیمائش کو انتہائی آسان اور درست بنا دیا۔ انہوں نے طب، مابعد الطبیعیات، ریاضی اور بصریات (Optics) پر بھی گراں قدر تصانیف چھوڑیں۔
وفات اور علمی میراث
عظیم مسلم سائنسدان اور مفکر تقی الدین شامی نے 993 ہجری (مطابق 1585ء) میں استنبول میں وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ اگرچہ حاسدین اور بعض سیاسی و مذہبی مصلحتوں کے تحت ان کی قائم کردہ عظیم رصد گاہ کو ان کی زندگی کے آخری ایام میں منہدم کر دیا گیا، لیکن ان کی تصانیف اور ایجادات نے آنے والی صدیوں میں سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ تاریخِ سائنس کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ اگر تقی الدین کی رصد گاہ قائم رہتی تو عالمِ اسلام سائنسی ترقی میں یورپ سے کہیں آگے ہوتا۔ ان کی علمی خدمات کو آج بھی دنیا بھر کے سائنسدان اور مؤرخین انتہائی احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
مستند تاریخی و علمی حوالہ جات
- کاتب چلپی (کشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون)
- ابن العماد الحنبلي (شذرات الذهب في أخبار من ذهب)
- پروفیسر ڈاکٹر فواد سیزگین (تاریخ نگارشات عربی – شعبہ فلکیات و ریاضی)
- ڈاکٹر سلیم الحسنی (1001 Inventions: The Enduring Legacy of Muslim Civilization)
مبارک اقوال و ارشادات
فلکیاتی مشاہدات میں معمولی سی غفلت بھی نتائج کو حقیقت سے کوسوں دور کر دیتی ہے، اس لیے آلات کی صحت ناگزیر ہے۔
علم ریاضی محض ہندسوں کا کھیل نہیں، بلکہ یہ کائنات کے تکوینی نظام کی لغت ہے۔
قوتِ محرکہ (بھاپ) کی توانائی کو کام میں لا کر ایسے آلات بنانا ممکن ہے جو انسانی مشقت کو آسان کر دیں۔
