خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
ام المومنین حضرت سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا مکمل نام میمونہ بنت حارث بن حزن بن بجیر بن الہزم بن رؤیبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ الہلالیہ تھا۔ آپ کا تعلق مشہور قبیلہ بنو ہلال سے تھا، جو قبیلہ عامر بن صعصعہ کی ایک اہم شاخ تھی۔ آپ کی والدہ کا نام ہند بنت عوف تھا۔ آپ کی کئی بہنیں تھیں جو اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، جن میں ام المومنین حضرت زینب بنت خزیمہ (جو آپ کی اخیافی بہن تھیں، یعنی ماں شریک)، حضرت اسماء بنت عمیس (حضرت جعفر بن ابی طالب اور پھر حضرت ابوبکر صدیق کی زوجہ)، حضرت سلمیٰ بنت عمیس (حضرت حمزہ بن عبدالمطلب کی زوجہ) اور حضرت لبابہ کبریٰ (حضرت عباس بن عبدالمطلب کی زوجہ اور عبداللہ بن عباس کی والدہ) شامل ہیں۔ ان خواتین کے ذریعے آپ ﷺ کی متعدد صحابہ کرام سے قرابت داری قائم ہوئی۔ آپ کی ولادت ہجرت سے تقریباً 30 سال قبل (594ء) مکہ مکرمہ میں ہوئی۔
آپ کی پہلی شادی مسعود بن عمرو الثقفی سے ہوئی، جنہوں نے آپ کو طلاق دے دی۔ دوسری شادی ابو رہم بن عبدالعزیٰ عامری سے ہوئی، جو بعد میں وفات پا گئے اور آپ بیوہ ہو گئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا اصل نام بَرَّہ تھا، مگر رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام تبدیل فرما کر ‘میمونہ’ رکھا۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مکہ میں ہی اوائل اسلام میں ایمان قبول فرمایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا ان ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں جنہوں نے اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا کی دوسری شوہر کی وفات کے بعد، آپ کی بڑی بہن حضرت لبابہ بنت حارث (جو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں) اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے نکاح کا پیغام بھیجا۔ یہ 7 ہجری کا واقعہ ہے جب رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضاء کے لیے مکہ تشریف لائے تھے اور واپسی پر ‘سرف’ کے مقام پر تھے (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک وادی ہے)۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی معرفت پیشکش قبول فرمائی اور سرف ہی کے مقام پر، حج سے فراغت کے بعد، آپ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی آخری زوجہ مطہرہ تھیں۔ یہ نکاح بنو ہلال قبیلے کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بنا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے ‘ام المومنین’ کی حیثیت سے اسلامی معاشرے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی سب سے بڑی فضیلت رسول اللہ ﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل کرنا ہے۔
- علم و روایتِ حدیث: آپ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے 13 احادیث روایت کیں، جن میں سے چند صحیحین (بخاری و مسلم) میں بھی موجود ہیں۔ یہ احادیث زیادہ تر عبادات، خاص طور پر طہارت اور نماز سے متعلق ہیں۔ آپ کے تلامذہ میں بڑے بڑے صحابہ و تابعین شامل تھے جن میں آپ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن شداد، یزید بن اصم اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود وغیرہ نمایاں ہیں۔
- تقویٰ اور صلہ رحمی: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے بارے میں فرمایا: "کَانَتْ مِنْ أَتْقَانَا لِلّٰهِ وَأَوْصَلَنَا لِلرَّحِمِ” (ہم میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والی تھیں۔) یہ شہادت آپ کے اعلیٰ اخلاق اور دینداری کی دلیل ہے۔
- عبادت و زہد: آپ رضی اللہ عنہا کثرت سے نوافل ادا فرماتیں اور روزہ رکھتیں تھیں۔ آپ کی زندگی سادگی، تقویٰ اور زہد کا نمونہ تھی۔
- رسول اللہ ﷺ کی آخری زوجہ: آپ رضی اللہ عنہا کو یہ خصوصی شرف حاصل ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کی آخری زوجہ تھیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ہی ازواج مطہرات میں سے سب سے آخر میں وصال فرمانے والی تھیں۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
ام المومنین حضرت سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا وصال 51 ہجری (671ء) میں ہوا، جب آپ کی عمر مبارک 80 یا 81 سال تھی۔ یہ وہی مقام ‘سرف’ تھا جہاں رسول اللہ ﷺ نے آپ سے نکاح فرمایا تھا۔ آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ آپ کو سرف ہی میں دفن کیا جائے۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پڑھائی اور خود قبر میں اتر کر دفن کرنے کا انتظام فرمایا۔
آپ کی زندگی، تقویٰ، صلہ رحمی، علم حدیث کی روایت اور رسول اللہ ﷺ سے آپ کے گہرے تعلق کی ایک روشن مثال ہے۔ آپ کی میراث امت مسلمہ کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا سرچشمہ رہے گی، بالخصوص آپ کی روایت کردہ احادیث مبارکہ طہارت، نماز اور روزمرہ زندگی کے احکام کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کا مقام تدفین ‘سرف’ آج بھی آپ کی یادگار کے طور پر موجود ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن الاثیر (اسد الغابة)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ)
مبارک اقوال و ارشادات
1. میں اور نبی کریم ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔
2. آپ ﷺ نے سرف ہی میں مجھ سے نکاح کیا تھا اور اسی سرف میں آپ ﷺ نے مجھے دفنایا۔
