صحابیات و امہات المؤمنین

ام المومنین حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا

« أم المؤمنين سَوْدَة بنت زمعة بن قيس بن عبد شمس بن عبد ود بن نصر بن مالك بن حسل بن عامر بن لؤي القرشية العامرية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

ام المومنین حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ بن قیس رضی اللہ عنہا کا تعلق قریش کے بنو عامر بن لؤی قبیلے سے تھا۔ آپ کے والد کا نام زمعہ بن قیس تھا اور والدہ کا نام شموس بنت قیس بن زید تھا۔ ولادت نبوت سے تقریباً ستر سال قبل (تقریباً 555ء) مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ اوائل زندگی میں آپ کا نکاح اپنے چچا زاد بھائی سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ سکران بن عمرو بھی سابقون الاولون میں سے تھے اور آپ نے بھی ابتداء ہی میں اسلام قبول فرمایا تھا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت سودہ اور ان کے شوہر سکران بن عمرو رضی اللہ عنہما نے مکہ مکرمہ میں ابتدائی دور ہی میں دعوت حق کو قبول کر لیا تھا۔ جب کفار قریش کا ظلم و ستم اپنی انتہا کو پہنچ گیا تو ان دونوں نے بھی دیگر مسلمانوں کے ساتھ حبشہ کی پہلی ہجرت فرمائی۔ یہ وہ وقت تھا جب مکہ میں مسلمانوں کی جان و مال محفوظ نہیں تھی۔ حبشہ سے واپسی کے بعد حضرت سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ کا انتقال مکہ مکرمہ میں ہو گیا۔ اس وقت حضرت سودہ رضی اللہ عنہا ایک بیوہ خاتون تھیں اور عمر رسیدہ بھی تھیں۔ اس غم کے سال میں (عام الحزن) جب حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گیا۔ حضرت خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے مشورے پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے 10 نبوی (تقریباً 620ء) میں نکاح فرمایا۔ یہ نکاح اس وقت ہوا جب آپ ﷺ مکہ میں ہجرت سے قبل موجود تھے۔ اس نکاح کا مقصد محض گھریلو ضرورتیں پوری کرنا نہیں تھا بلکہ یہ اس عظیم خاتون کے ایثار، اسلام کے لیے قربانیوں اور سکران رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کی بے سروسامانی کا پاس بھی تھا۔ نیز اس وقت رسول اللہ ﷺ کی چھوٹی صاحبزادیاں تھیں جن کی نگہداشت کے لیے ایک ماں جیسی ہستی کی ضرورت تھی۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت سودہ رضی اللہ عنہا ان عظیم ہستیوں میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں۔ آپ کا سب سے بڑا وصف تقویٰ، پرہیزگاری، سخاوت اور بلند اخلاق تھا۔ آپ نہایت خوش مزاج اور فراخ دل تھیں۔ آپ کو ایک طویل عرصے تک ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد رسول اللہ ﷺ کی واحد زوجہ ہونے کا شرف حاصل رہا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سودہ بنت زمعہ میری سہیلیوں میں سب سے محبوب تھیں جن کی طرح بننا مجھے بہت پسند تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنی بڑھتی عمر اور رسول اللہ ﷺ کی راحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک موقع پر اپنی باری کا دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخش دیا تاکہ رسول اللہ ﷺ کو کوئی بوجھ محسوس نہ ہو۔ یہ آپ کے ایثار اور قربانی کی عظیم مثال ہے۔ آپ کثرت سے صدقہ و خیرات کرتی تھیں اور مساکین کی مدد میں پیش پیش رہتی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی پانچ احادیث مبارکہ کتب میں مروی ہیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

ام المومنین حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 19 ہجری (640ء) میں مدینہ منورہ میں وصال فرمایا۔ بعض روایات میں ان کی وفات 23 ہجری کا ذکر بھی ملتا ہے تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وفات پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔ آپ کی زندگی ایثار، استقامت، اور صبر و شکر کی ایک درخشاں مثال ہے جس نے ابتدائی اسلامی معاشرے میں خواتین کے کردار کو اجاگر کیا۔ آپ کی ذات مبارکہ نے رسول اللہ ﷺ کو غم کے لمحات میں سہارا دیا اور آپ کی صاحبزادیوں کی پرورش میں بھی معاونت فرمائی۔ امت مسلمہ کو ہمیشہ آپ کے صبر و استقامت اور رسول اللہ ﷺ سے گہری محبت سے رہنمائی ملتی رہے گی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)

مبارک اقوال و ارشادات

یا رسول اللہ! میری باری کا دن حضرت عائشہ کو دے دیجئے، میں آپ کی ذات سے علیحدگی نہیں چاہتی۔

رسول اللہ ﷺ کی زوجیت میں رہنے کی مجھے جتنی بھی دیر ملے، وہ میرے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

میں نے کبھی ایسا نہیں چاہا کہ میری وجہ سے کسی کی دل شکنی ہو۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ام المومنین حضرت سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا

لقب و کنیت: ام المومنین، سیدہ سودہ
قبیلہ: قریش، بنو عامر بن لؤی
سن پیدائش و وفات: 70 ق ھ – 19 ھ / 555ء – 640ء
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com