صحابیات و امہات المؤمنین

ام المومنین حضرت سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

{
"arabic_name”: "جويرية بنت الحارث بن أبي ضرار بن حبيب بن جذيمة الخزاعية المصطلقية”,
"kunya_titles”: "ام المومنین، سیدہ”,
"tribe”: "بنو المصطلق، شاخ خزاعہ”,
"dates”: "ولادت: تقریباً 10 قبل ہجرت / 612ء nوصال: 50 ہجری / 670ء”,
"age”: "تقریباً 60 سال”,
"burial_place”: "جنت البقیع، مدینہ منورہ”,
"battles”: "غزوہ بنو المصطلق (اس میں اسیر ہوئیں اور پھر نکاح کا سبب بنیں)”,
"hadith_count”: "7 احادیث”,
"teachers_students”: "اساتذہ: نبی کریم ﷺ nتلامذہ: حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت جابر بن عبداللہ، طفیل بن حارث، کریب”,
"quotes”: "نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد مجھ سے فرمایا: کیا تم اسی جگہ رہی ہو جب سے میں نے تمہیں چھوڑا ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہارے بعد چار کلمات تین مرتبہ کہے ہیں، اگر ان کا موازنہ آج تم نے جو کچھ کہا ہے اس سے کیا جائے تو وہ زیادہ بھاری ہوں گے: سبحان الله وبحمده عدد خلقه، ورضا نفسه، وزنة عرشه، ومداد كلماته۔nنبی اکرم ﷺ نے میرا نام ‘برہ’ سے ‘جویریہ’ میں تبدیل کر دیا تاکہ تزکیہ نفس سے بچا جائے (برہ کا معنی نیک پرہیزگار ہے)۔”,
"html_content”: "

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

ام المومنین حضرت سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کا اصل نام ‘برہ’ تھا، جسے رسول اللہ ﷺ نے بعد میں ‘جویریہ’ میں تبدیل فرما دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا کا مکمل نسب جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار بن حبیب بن جذیمہ بن المصطلق الخزاعی تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ بنو المصطلق سے تعلق رکھتی تھیں جو کہ قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ تھی۔ آپ کے والد حارث بن ابی ضرار اپنے قبیلے کے سردار تھے۔ آپ کی ولادت ہجرت سے تقریباً 10 سال قبل (612ء) میں ہوئی۔

قبولِ اسلام سے قبل، آپ کی شادی اپنے ہی قبیلے کے ایک شخص مسافع بن صفوان (یا سلام بن صفوان) سے ہوئی تھی جو غزوہ بنو المصطلق کے دوران مارا گیا تھا۔ بنو المصطلق کے ساتھ جنگ (غزوہ مریسیع) پانچویں یا چھٹی ہجری میں ہوئی، جس میں بنو المصطلق شکست سے دوچار ہوئے اور ان کے بہت سے افراد قید کر لیے گئے، جن میں حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

غزوہ بنو المصطلق کے بعد، قیدیوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کیا گیا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ (یا ان کے چچا زاد بھائی) کے حصے میں آئیں۔ اپنی عالی نسبی اور سردار کی بیٹی ہونے کے ناطے، انہوں نے آزادی کے لیے ‘مکاتبت’ (آزادی کا معاہدہ جس میں رقم ادا کر کے آزاد ہوا جاتا ہے) کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے نو اوقیہ چاندی کے عوض خود کو آزاد کرانے کا ارادہ کیا۔

مدد کے لیے وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی صورتحال بیان کی۔ آپ ﷺ نے ان کی حالت زار پر رحم فرمایا اور انہیں پیشکش کی کہ وہ ان کی مکاتبت کی رقم ادا کر دیں اور ان سے نکاح فرما لیں۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے اس پیشکش کو بخوشی قبول فرما لیا۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہا مشرف بہ اسلام ہوئیں اور 5 ہجری میں رسول اللہ ﷺ کے حرمِ اطہر میں شامل ہو کر ‘ام المومنین’ کا رتبہ حاصل کیا۔

آپ کی یہ شادی ایک عظیم الشان خدمت کا سبب بنی۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو المصطلق کی ایک خاتون سے نکاح فرما لیا ہے، تو انہوں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ کے سسرالیوں کو غلام بنا کر رکھا جائے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بنو المصطلق کے تمام قیدیوں کو از خود آزاد کر دیا، جس کی تعداد تقریباً سو گھرانوں پر مشتمل تھی۔ اس واقعے کے سبب حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کو اپنی قوم کے لیے ‘باعثِ برکت’ قرار دیا گیا، کیونکہ ان کی شادی کی بدولت پورا قبیلہ آزاد ہو گیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نہایت عبادت گزار، پرہیزگار اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والی خاتون تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نفلی روزوں کا بہت اہتمام فرماتی تھیں۔ آپ کے فضائل میں سب سے نمایاں آپ کی وہ بابرکت شادی ہے جس کے نتیجے میں ایک پورا قبیلہ کفر سے اسلام میں داخل ہوا اور قید سے رہائی پائی۔

آپ رضی اللہ عنہا سے چند احادیث مروی ہیں، جن میں ایک مشہور حدیث یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں صبح کی نماز کے بعد ایک خاص ذکر سکھایا جس کی فضیلت بے پناہ ہے: "سبحان الله وبحمده عدد خلقه، ورضا نفسه، وزنة عرشه، ومداد كلماته” (اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں کے ساتھ، اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر، اپنی ذات کی رضا کے مطابق، اپنے عرش کے وزن کے برابر، اور اپنے کلمات کی سیاہی کے برابر)۔ یہ حدیث آپ کی ذکر و اذکار میں دلچسپی اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بہترین مثال ہے۔ آپ کو ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ ذکر کرنے والی خاتون میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

ام المومنین حضرت سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے تقریباً 60 سال کی عمر میں 50 ہجری (670ء) میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے طویل عمر پائی اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں رحلت فرمائی۔ آپ کی نماز جنازہ مروان بن حکم نے پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

آپ کی زندگی اسلام میں قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک، نبی اکرم ﷺ کی حکمت عملی اور آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک شادی نے قوموں کے دل بدل دیے اور انہیں اسلام کے قریب کر دیا۔ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا نے اپنی سادگی، تقویٰ اور عبادت گزاری کے ذریعے ازواج مطہرات میں ایک منفرد مقام حاصل کیا اور امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم مثال قائم فرمائی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • صحیح مسلم
  • سنن ابی داؤد

”
}

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ام المومنین حضرت سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com