خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

امیر البحر پیری رئیس (صاحب نقشہ عالم و امیر البحر)

« أحمد محي الدين بن حاجي محمد بيري رئيس »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امیر البحر پیری رئیس (احمد محی الدین) سلطنت عثمانیہ کے سنہری دور کے عظیم ترین بحری کمانڈر، کارٹوگرافر (نقشہ نویس) اور جغرافیہ دان تھے۔ ان کی ولادت 1465ء اور 1470ء کے درمیان گیلی پولی (Gelibolu) میں ہوئی، جو عثمانی بحریہ کا ایک اہم مرکز تھا۔ ان کے والد حاجی محمد اور چچا کمال رئیس تھے، جو اپنے وقت کے مشہور بحری غازی اور ملاح تھے۔ پیری رئیس نے بچپن ہی سے اپنے چچا کی سرپرستی میں بحری سفر اور جہاز رانی کے اسرار و رموز سیکھے اور الیونٹ (عثمانی ملاحوں) کی صف اول میں شامل ہوئے۔

بحری مہمات اور سلطنت عثمانیہ کی خدمت

پیری رئیس نے اپنے چچا کمال رئیس کے ہمراہ بحیرہ روم میں عیسائی بحری طاقتوں، خاص طور پر ہسپانوی اور وینس کے بحری بیڑوں کے خلاف متعدد معرکوں میں حصہ لیا۔ ان مہمات میں سب سے نمایاں ہسپانوی مسلمانوں (اندلس) کی عیسائی مظالم سے نجات اور انہیں بحفاظت عثمانی مقبوضات تک پہنچانا تھا۔ 1499ء سے 1500ء کے دوران ہونے والی جنگوں میں انہوں نے اپنی غیر معمولی بحری حکمتِ عملی کا لوہا منوایا۔ چچا کی وفات کے بعد وہ گیلی پولی واپس آئے اور علمی و تحقیقی کاموں میں مصروف ہو گئے۔

کتابِ بحریہ اور شہرہ آفاق نقشہِ عالم

پیری رئیس کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کا تیار کردہ ‘نقشہِ عالم’ (World Map) اور ان کی شہرہ آفاق تصنیف ‘کتابِ بحریہ’ ہے۔ انہوں نے 1513ء میں دنیا کا پہلا ایسا جامع نقشہ تیار کیا جس میں بحر اوقیانوس، براعظم امریکہ کے مشرقی ساحل، اور انٹارکٹکا کے کچھ حصوں کو حیرت انگیز درستگی کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ یہ نقشہ غزال کی کھال پر تیار کیا گیا تھا اور اس میں کولمبس کے گمشدہ نقشوں سمیت متعدد قدیم نقشوں سے مدد لی گئی تھی۔ ان کی ‘کتابِ بحریہ’ بحیرہ روم کے جزائر، بندرگاہوں اور بحری راستوں کی ایک بے مثال گائیڈ بک مانی جاتی ہے جو آج بھی قرون وسطیٰ کی نیویگیشن کا شاہکار ہے۔

آخری مہمات اور شہادت

عمر کے آخری حصے میں، سلطان سلیمان عالیشان کے دور حکومت میں، پیری رئیس کو بحر ہند میں عثمانی بحری بیڑے کا کمانڈر (امیر البحر) مقرر کیا گیا۔ انہوں نے پرتگالی سامراج کے خلاف بحرِ ہند اور خلیج فارس میں کڑے معرکے لڑے۔ انہوں نے عدن اور مسقط کو پرتگالیوں کے قبضے سے آزاد کروایا۔ تاہم، بصرہ کے گورنر کباط پاشا کی سازشوں اور غلط فہمیوں کے نتیجے میں، ان پر مہم ادھوری چھوڑنے کا الزام لگا۔ بالآخر، 1553ء میں قاہرہ میں انہیں سزائے موت دے دی گئی۔ ان کی شہادت سلطنت عثمانیہ کے بحری زوال کا ایک المناک باب تسلیم کی جاتی ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • کاتب چلپی (تحفۃ الکبار فی اسفار البحار)
  • پروفیسر ڈاکٹر افضال الرحمٰن (عثمانی بحریہ کا عروج و زوال)
  • آرچیبالڈ لیسلی (پیری رئیس کے نقشے کی تاریخ)
  • جدید عثمانی آرکائیوز، توپ قاپی محل (استنبول، ترکی)

مبارک اقوال و ارشادات

نقشہ سازی محض لکیریں کھینچنا نہیں، بلکہ سمندر کے راستوں پر آنے والی نسلوں کی رہنمائی کا ایک مقدس فریضہ ہے۔

بحری سفر میں اصل طاقت جہاز کی مضبوطی نہیں، بلکہ ملاح کا عزم اور سمندری لہروں کا گہرا فہم ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امیر البحر پیری رئیس (صاحب نقشہ عالم و امیر البحر)

لقب و کنیت: امیر البحر، غازی، پیری رئیس، صاحبِ نقشہِ عالم
قبیلہ: خاندانِ قرمان (عثمانی ترک)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 875ھ تا 961ھ / 1470ء تا 1553ء
مقام تدفین: قاہرہ، مصر
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com