تبع تابعین

امام یزید بن ہارون واسطی

« أبو خالد يزيد بن هارون بن زاذان بن ثابت السلمي بالولاء الواسطي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام یزید بن ہارون واسطی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت سنہ 118 ہجری میں عراق کے تاریخی شہر واسط میں ہوئی۔ ان کا خاندان اصلاً عجمی تھا جو بنو سلیم کی ولاء (وفاداری) میں شامل تھا۔ آپ کا شمار تبع تابعین کے سنہری دور کے جلیل القدر ائمہ میں ہوتا ہے۔ بچپن ہی سے ان کے دل میں علمِ حدیث کی تڑپ موجود تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے واسط کے کبار شیوخ سے اکتسابِ علم شروع کیا۔ وہ پیدائشی طور پر بصارت سے محروم نہیں تھے بلکہ کثرتِ عبادت، راتوں کو رونے اور مطالعہ کی کثرت کے باعث زندگی کے آخری حصے میں ان کی بینائی چلی گئی تھی۔

علمی سفر اور شیوخ و اساتذہ

امام یزید بن ہارون نے علمِ حدیث کی جستجو میں واسط، کوفہ، بصرہ، بغداد، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے کثیر اسفار کیے۔ انہوں نے اپنے وقت کے عظیم ترین محدثین سے سماع حاصل کیا۔ ان کے شیوخ میں حمید الطویل (انس بن مالک کے شاگرد)، سلیمان التیمی، یحییٰ بن سعید الانصاری، سعید بن ابی عروبہ، شعبہ بن الحجاج (امیر المؤمنین فی الحدیث) اور سفیان ثوری جیسے اساطینِ علم شامل ہیں۔ ان کی علمی ثقاہت، بے مثال حافظے اور تقویٰ کی وجہ سے پورے عالمِ اسلام سے تشنگانِ علم واسط کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔

مقام و مرتبہ، فضائل و مناقب اور حفظ و اتقان

امام یزید بن ہارون اپنے دور میں حفظِ حدیث اور اتقان (پختگی) میں بے نظیر مانے جاتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یزید بن ہارون حافظِ حدیث تھے، ان جیسا پختہ کار اور زبردست حافظہ رکھنے والا میں نے کوئی نہیں دیکھا۔” علی بن المدینی نے کہا کہ "ہم نے واسط میں یزید بن ہارون سے زیادہ کسی کو دین کا حامی اور صاحبِ تدبر نہیں پایا۔” وہ نہ صرف ایک عظیم محدث تھے بلکہ نہایت عبادت گزار، کثیر البکاء (اللہ کے خوف سے بہت رونے والے) اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ واسط کی جامع مسجد میں ان کا حلقہ درس سب سے بڑا ہوتا تھا جہاں وہ ہزاروں احادیث بغیر کسی کتاب کی مدد کے، خالص اپنے حافظے سے املا کرواتے تھے۔

فتنہ خلقِ قرآن اور حق گوئی

امام یزید بن ہارون واسطی اپنے دور میں باطل نظریات اور فتنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھے۔ جب عباسی خلافت کے بعض حلقوں میں فتنہ خلقِ قرآن سر اٹھانے لگا، تو امام موصوف نے پوری قوت سے اس کی تردید کی۔ ان کی جلالتِ علمی اور عوامی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ خلیفہ مامون الرشید اپنے جاہ و جلال کے باوجود ان کی زندگی میں فتنہ خلقِ قرآن کو سرکاری طور پر نافذ کرنے کی جرات نہ کر سکا۔ مامون الرشید نے خود اعتراف کیا تھا کہ "اگر یزید بن ہارون کا رعب و دبدبہ نہ ہوتا تو میں اسی وقت اس عقیدے کا اعلان کر دیتا۔”

وصال مبارک اور تاریخی میراث

علم و فضل کا یہ درخشندہ ستارہ سنہ 206 ہجری (بمطابق 821ء) میں اپنے آبائی شہر واسط، عراق میں غروب ہو گیا۔ ان کی وفات پر پورے عالمِ اسلام میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی اور ان کے جنازے میں خلقت کا بے پناہ ہجوم شریک ہوا۔ ان کی میراث علمِ حدیث کی کتب، مسانید اور ان کے جلیل القدر شاگردوں کی صورت میں آج بھی محفوظ ہے جنہوں نے آگے چل کر صحاحِ ستہ کی تدوین میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 9)
  • ابن حجر عسقلانی (تقريب التهذيب اور تهذيب التهذيب)
  • الخطیب البغدادی (تاريخ بغداد، جلد 14)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، واقعاتِ سنہ 206 ھ)
  • ابن الاثیر (الكامل في التاريخ)

مبارک اقوال و ارشادات

میں نے واسط کی مسجد میں بیس ہزار احادیث لوگوں کو اپنے حافظے سے املا کروائیں اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں۔

جو شخص یہ کہے کہ قرآن مخلوق ہے، وہ خدا کی قسم کافر اور زندیق ہے، اس سے توبہ کروائی جائے، اگر توبہ کر لے تو ٹھیک، ورنہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔

علم حاصل کرنا ایک فضیلت ہے، بشرطیکہ نیت خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام یزید بن ہارون واسطی

لقب و کنیت: ابو خالد، شیخ الاسلام، الحافظ الکبیر، امام واسط، امیر المؤمنین فی الحدیث
قبیلہ: بنو سلیم (بذریعہ ولاء/وفاداری)
سن پیدائش و وفات: 118 ھ – 206 ھ / 736ء – 821ء
مقام تدفین: واسط، عراق
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com