شارحین حدیث و ائمہ جرح و تعدیل

امام یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ

« أبو سعيد يحيى بن سعيد بن قيس بن عمرو الأنصاري الخزرجي النجاري المدني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ مدینہ منورہ کے ایک انتہائی معزز اور جلیل القدر انصاری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا، جس نے ہجرت کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا تھا۔ آپ کی ولادت خلافتِ فاروقی کے چند دہائیوں بعد، تقریباً 70 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ نے ایک ایسے علمی اور ایمانی ماحول میں پرورش پائی جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور مدینہ منورہ علمِ حدیث اور فقہ کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ بچپن ہی سے آپ میں حفظ و اتقان اور علمی ذوق نمایاں تھا، جس کی بدولت آپ نے نہایت کم عمری میں ہی مدینہ کے کبار تابعین سے اکتسابِ علم شروع کر دیا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

چونکہ امام یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ کی ولادت عہدِ اسلام میں ہوئی اور آپ کے آباؤ اجداد انصارِ مدینہ تھے، اس لیے آپ پیدائشی مسلمان تھے۔ آپ کا شمار مدینہ کے ان کبار تابعین میں ہوتا ہے جنہوں نے جلیل القدر صحابی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زیارت کی اور ان سے براہ راست احادیث روایت کیں۔ آپ کی ابتدائی خدمات میں مدینہ منورہ کی علمی مجالس کو آباد کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کو جمع کرنا شامل تھا۔ آپ نے مدینہ منورہ کے قاضی کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں اور بنو امیہ کے آخری دور اور بنو عباس کے ابتدائی دور میں عدل و انصاف کی بالا دستی کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کے فیصلوں کو مدینہ کی فقہی تاریخ میں نمونہ مانا جاتا تھا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

امام یحییٰ بن سعید انصاری حدیث کے اس سنہری سلسلے (Golden Chain) کی ایک مضبوط کڑی ہیں جس پر امام مالک اور دیگر ائمہ کا دارومدار ہے۔ علمِ جرح و تعدیل کے امام سفیان ثوری آپ کو مدینہ منورہ کے سب سے بڑے حفاظِ حدیث میں شمار کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے آپ کے بارے میں فرمایا: "یحییٰ بن سعید انصاری اپنے دور میں سب سے زیادہ پختہ کار اور ثقہ راوی تھے۔” امام نسائی، یحییٰ بن معین اور دیگر ائمہ نے آپ کی عدالت اور حفظ پر کلام کرتے ہوئے آپ کو ‘ثقہ ثبت’ قرار دیا۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے تدوینِ حدیث کے ابتدائی دور میں احادیث کی چھان پھٹک کی اور اس فن کو باقاعدہ اصولوں پر استوار کیا۔ امام مالک بن انس رحمہ اللہ ان کے علمی رسوخ سے اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے موطا امام مالک میں کثرت سے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

عمر کے آخری حصے میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے آپ کی علمی جلالت اور امانت داری کے پیش نظر انہیں عراق بلایا اور ہاشمیہ کے مقام پر قاضی مقرر کیا۔ آپ نے زندگی کے آخری ایام وہیں گزارے۔ بالآخر سن 143 ہجری (بعض روایات کے مطابق 144 ہجری) میں آپ نے اس دارِ فانی سے کوچ کیا۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں کثیر تعداد میں فقہاء اور محدثین نے شرکت کی اور آپ کو عراق کے شہر ہاشمیہ میں دفن کیا گیا۔ آپ کی تاریخی میراث میں علمِ حدیث کے وہ انمول موتی ہیں جو آج بھی صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتبِ ستہ کی زینت ہیں اور جن کی بدولت امتِ مسلمہ سنتِ نبوی پر کاربند ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (تہذیب التہذیب، جلد 11، صفحہ 221)
  • امام ذہبی (سیر اعلام النبلاء، جلد 5، صفحہ 468)
  • ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، جلد 5، صفحہ 331)
  • امام المزی (تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جلد 31، صفحہ 329)

مبارک اقوال و ارشادات

١۔ مفتیانِ کرام ہمیشہ سے فتوے دیتے آئے ہیں؛ ایک اسے حلال کہتا ہے تو دوسرا حرام، لیکن کوئی دوسرے کو ہلاکت میں پڑا ہوا نہیں سمجھتا جب تک اجتہاد میں دیانت داری قائم رہے۔

٢۔ علم کی طلب میں عجلت سے کام نہ لو، کیونکہ پختہ علم وہی ہے جو وقت اور استقامت کے ساتھ حاصل کیا جائے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام یحییٰ بن سعید انصاری رحمہ اللہ

لقب و کنیت: ابو سعید، امام المحدثین، قاضیِ مدینہ، شیخ الاسلام، حافظ الحدیث
قبیلہ: انصار (قبیلہ خزرج، بنو نجار)
سن پیدائش و وفات: 70ھ – 143ھ / 690ء – 761ء
مقام تدفین: ہاشمیہ (عراق، نزدیک کوفہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com