تبع تابعین

امام یحییٰ بن سعید القطان بصری

« أبو سعيد يحيى بن سعيد بن فروخ القطان التميمي البصري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام یحییٰ بن سعید القطان بصری رحمہ اللہ سن 120 ہجری میں عراق کے مشہور علمی مرکز بصرہ میں پیدا ہوئے۔ وہ نسباً بنو تمیم کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے، اسی لیے انہیں تمیمی اور بصری کہا جاتا ہے۔ ان کا لقب ‘القطان’ اس لیے پڑا کیونکہ وہ روئی کی تجارت یا کاروبار سے وابستہ تھے۔ بصرہ اس وقت علمِ حدیث، لغت اور فقہ کا گہوارہ تھا۔ امام یحییٰ نے بچپن ہی سے حصولِ علم کی طرف توجہ دی اور بصرہ کے عظیم شیوخ سے فیض حاصل کیا۔ ان کا حافظہ غیر معمولی تھا اور وہ لکھی ہوئی باتوں کے بجائے اپنے حافظے پر زیادہ بھروسہ کرتے تھے، جس کی وجہ سے وہ اپنے ہم عصروں میں ممتاز ہوئے۔

علمِ حدیث اور علم الجرح والتعدیل میں مقام

امام یحییٰ بن سعید القطان کو علمِ حدیث کا ‘تاجدار’ اور ‘امام الجرح والتعدیل’ مانا جاتا ہے۔ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے رواتِ حدیث کی جانچ پڑتال، ان کی ثقاہت (سچائی) اور ضعف (کمزوری) کو پرکھنے کے لیے باقاعدہ قواعد وضع کیے۔ ان سے پہلے یہ علم انفرادی کوششوں تک محدود تھا، لیکن انہوں نے اسے ایک باقاعدہ علم کی شکل دی۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: ‘میں نے اپنی آنکھوں سے یحییٰ بن سعید جیسا انسان نہیں دیکھا۔’ انہوں نے حدیث کی اسناد کو چھان پھٹک کر کھرے اور کھوٹے کو الگ کیا۔ ان کی جرح اتنی سخت اور محتاط ہوتی تھی کہ بڑے بڑے ائمہ ان کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے تھے۔

نمایاں علمی خدمات، اساتذہ و تلامذہ

امام یحییٰ بن سعید نے اپنے وقت کے جلیل القدر ائمہ سے علم حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں امام شعبہ بن الحجاج (جو ان کے اصل مربی تھے)، سفیان ثوری اور امام دار الہجرت مالک بن انس شامل ہیں۔ امام یحییٰ کے حلقہ درس میں تاریخِ اسلام کے وہ درخشندہ ستارے تیار ہوئے جنہوں نے آگے چل کر کتبِ حدیث مرتب کیں۔ ان کے ممتاز تلامذہ میں امام احمد بن حنبل (کتاب المسند کے مصنف)، یحییٰ بن معین (علمِ رجال کے امام) اور علی بن المدینی (امام بخاری کے استاد) شامل ہیں۔ یہ تینوں ائمہ فخر سے اعتراف کرتے تھے کہ انہوں نے جرح والتعدیل کا فن یحییٰ بن سعید القطان سے ہی سیکھا ہے۔

زہد و تقویٰ اور وصالِ مبارک

علمی جلالت کے ساتھ ساتھ امام یحییٰ بن سعید القطان زہد و تقویٰ کا مجسمہ تھے۔ معاصرین کا بیان ہے کہ انہوں نے چالیس سال تک بصرہ کی مسجد میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز ادا کی اور کبھی ان کی تکبیرِ اولیٰ فوت نہیں ہوئی۔ وہ روزانہ قرآن مجید کا ایک ختم فرماتے تھے اور اللہ کے خوف سے اکثر روتے رہتے تھے۔ انتہائی تدین اور احتیاط کی زندگی گزارنے کے بعد، سن 198 ہجری میں بصرہ میں علم و عمل کا یہ آفتاب غروب ہو گیا۔ ان کی وفات پر پورے عالمِ اسلام میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی اور ائمہ نے اسے علمِ حدیث کا عظیم نقصان قرار دیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ذہبی، سير أعلام النبلاء، الطبقة التاسعة، ترجمة يحيى بن سعيد القطان۔
  • ابن حجر عسقلانی، تہذيب التہذيب، جلد 11، مطبع دائرۃ المعارف العثمانیہ۔
  • ابن کثیر، البداية والنهاية، وفیات 198 ہجری۔
  • الخطیب البغدادی، تاريخ بغداد، ترجمة يحيى بن سعيد القطان۔

مبارک اقوال و ارشادات

میں نے عمر بھر میں سفیان ثوری سے بڑھ کر علمِ حدیث کا کوئی بڑا حافظ اور متقی نہیں دیکھا۔

لوگوں کا یہ سمجھنا کہ راویوں پر جرح کرنا ان کی غیبت ہے، سراسر غلط ہے؛ یہ دین کی حفاظت کا معاملہ ہے، اگر ہم سچ نہ بتائیں تو دین خلط ملط ہو جائے گا۔

اگر ہم صرف ایسے راویوں سے احادیث روایت کرنے پر اصرار کریں جن سے ہم سو فیصد راضی ہیں، تو علمِ حدیث کا ایک بہت بڑا حصہ ہم تک پہنچنے سے رہ جاتا۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام یحییٰ بن سعید القطان بصری

لقب و کنیت: ابو سعید، امام الجرح والتعدیل، امیر المؤمنین فی الحدیث، سید الحفاظ
قبیلہ: بنو تمیم (ولاءً یعنی الحاقی تعلق)
سن پیدائش و وفات: 120 ھ – 198 ھ / 738ء – 813ء
مقام تدفین: بصرہ، عراق
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com