{
"arabic_name”: "أبو عبد الله نافع بن هرمز المدني، مولى عبد الله بن عمر بن الخطاب”,
"kunya_titles”: "ابو عبد اللہ، فقیہ المدینہ، امام التابعین، شیخ المحدثین، صاحب السلسلۃ الذہبیۃ (رکنِ سلسلۂ ذہب)”,
"tribe”: "غیر عرب (اصل وطن کابل یا دیلم تھا)، ولاء کے اعتبار سے قریشی اور مدنی”,
"dates”: "حدود 30 ھ – 117 ھ / 650ء – 735ء”,
"age”: "تقریباً 85 سے 87 سال”,
"burial_place”: "جنت البقیع، مدینہ منورہ”,
"battles”: "دورِ تابعین سے تعلق رکھنے کی وجہ سے غزواتِ نبوی میں شریک نہیں ہوئے، تاہم علمی و فکری محاذ پر عظیم خدمات انجام دیں”,
"hadith_count”: "کتبِ ستہ اور بالخصوص موطا امام مالک میں سینکڑوں مرویات ہیں، ان کی روایت کردہ سند کو ‘اصح الاسانید’ (سب سے صحیح ترین سند) مانا گیا ہے”,
"teachers_students”: "اساتذہ: سیدنا عبد اللہ بن عمر، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید خدری، سیدنا رافع بن خدیج، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ | تلامذہ: امام مالک بن انس، ایوب سختیانی، عبید اللہ بن عمر العمری، یحییٰ بن سعید انصاری، ابن جریج، لیث بن سعد، امام زہری۔”,
"quotes”: "امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ‘جب میں نافع سے حدیث سن لوں تو پھر مجھے کسی اور سے اس حدیث کے سننے کی پرواہ نہیں ہوتی۔’nنافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ‘میں نے تیس سال تک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت کی اور انہی سے علم حاصل کیا۔’nامام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ‘زمین پر سب سے بہترین اور مستند ترین سند مالک عن نافع عن ابن عمر (سلسلۂ ذہبیہ) ہے۔'”,
"html_content”: "
خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام نافع رحمہ اللہ کا شمار تابعین کے اس مایہ ناز طبقے میں ہوتا ہے جنہوں نے مدینہ منورہ کی علمی فضاؤں میں تربیت پائی۔ ان کا اصل وطن کابل (موجودہ افغانستان) یا دیلم کا علاقہ تھا۔ وہ عہدِ فاروقی یا اوائل عہدِ عثمانی میں قیدی بنا کر مدینہ منورہ لائے گئے اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حصے میں آئے۔ امام نافع نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے زیرِ سایہ تربیت پائی اور جلد ہی اپنی غیر معمولی ذہانت، دیانت اور قوتِ حافظہ کی بنا پر ان کے دستِ راست بن گئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نافع سے اس قدر شدید محبت تھی کہ انہوں نے نافع کو محض غلام نہیں سمجھا بلکہ اپنی اولاد کی طرح پالا اور پڑھایا۔ ایک مرتبہ ابن عمر کو نافع کے بدلے تیس ہزار دینار کی خطیر رقم پیش کی گئی، لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ‘مجھے ڈر ہے کہ یہ فتنہ نہ بن جائے’ اور فوراً ہی نافع کو اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا۔ آزاد ہونے کے بعد بھی امام نافع نے اپنے محسن اور استاد کا دامن نہیں چھوڑا اور ان کی وفات تک ان کی خدمت اور علمی رہنمائی میں رہے۔
تحصیلِ علم اور اساتذہ و تلامذہ
امام نافع رحمہ اللہ نے علمِ حدیث اور فقہ کا بڑا حصہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مجالس سے حاصل کیا۔ انہوں نے تقریباً تیس سال کا طویل عرصہ ابن عمر کی خدمت میں گزارا، یہاں تک کہ وہ ابن عمر کے علم کے سب سے بڑے امین اور وارث قرار پائے۔ ابن عمر کے علاوہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید خدری، اور سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ کرام سے بلاواسطہ فیض حاصل کیا۔
امام نافع کی علمی جلالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے حلقۂ درس میں مدینہ، مکہ، شام اور مصر کے نامور علما اور فقہا شریک ہوتے تھے۔ ان کے ممتاز ترین تلامذہ میں امام دار الہجرت امام مالک بن انس شامل ہیں، جنہوں نے علمِ حدیث کا ایک بڑا حصہ امام نافع سے حاصل کیا۔ ان کے علاوہ ایوب سختیانی، عبید اللہ بن عمر العمری، حمید الطویل، لیث بن سعد اور ابن جریج جیسے نامور محدثین ان کے شاگردوں کی فہرست میں نمایاں ہیں۔
علمی مقام، جلالتِ قدر اور محدثین کی آراء
محدثین اور علمائے جرح و تعدیل کے نزدیک امام نافع کا مرتبہ نہایت بلند ہے۔ ان کی عدالت، ثقاہت اور ضبط پر پوری امت کا اجماع ہے۔ علمِ حدیث میں ان کی بیان کردہ اس سند کو جس میں ‘مالک عن نافع عن ابن عمر’ (مالک، نافع سے اور وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں) کو ‘سلسلۂ ذہبیہ’ (The Golden Chain) کہا جاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کائنات کی سب سے بہترین اور مستند ترین سند ہے۔
خلیفۂ عادل سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے دورِ خلافت میں امام نافع کو خاص طور پر مصر بھیجا تاکہ وہ وہاں کے لوگوں کو سنت اور فرائض کی تعلیم دیں۔ عمر بن عبدالعزیز فرماتے تھے: ‘اگر ہم نافع کو اہل سنت کا امام بنا دیں تو یہ بالکل بجا ہوگا’۔ امام نسائی، ابن سعد، اور امام ابن حبان نے ان کو ‘ثقہ ثبت’ (نہایت قابلِ اعتماد اور پختہ کار) قرار دیا ہے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام نافع رحمہ اللہ نے اپنی تمام عمر دینِ اسلام کی خدمت، حدیثِ رسول ﷺ کی اشاعت اور فقہِ مدینہ کی ترویج میں بسر کی۔ عمر کے آخری حصے میں ان کی بینائی چلی گئی تھی، لیکن ان کا درسِ حدیث آخری وقت تک جاری رہا۔ بالآخر سنہ 117 ہجری (بعض روایات کے مطابق 120 ہجری) میں مدینہ منورہ میں اس علم و فضل کے آفتاب کا غروب ہوا۔ انہیں مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی چھوڑی ہوئی علمی میراث موطا امام مالک اور کتبِ ستہ کی صورت میں آج بھی پوری امتِ مسلمہ کی رہنمائی کر رہی ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب، جلد 10)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 5)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، جلد 5)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 9)
- ابن خلکان (وفیات الاعیان، جلد 5)
”
}
”
}
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
