خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کی ولادت 33 ہجری میں خلیفہ سوم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے آخری دور میں بصرہ میں ہوئی۔ ان کے والد، سیرین، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے جنہیں جرجرايا کے معرکے یا عین التمر کی جنگ میں قیدی بنایا گیا تھا اور بعد میں انہوں نے کتابت کے ذریعے آزادی حاصل کی۔ ان کی والدہ، صفیہ، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آزاد کردہ کنیز تھیں جن کی شادی کے موقع پر امہات المؤمنین سمیت اٹھارہ اصحابِ بدر نے شرکت کی اور ان کے لیے برکت کی دعائیں کیں۔ ایسے مبارک اور علمی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے امام محمد بن سیرین بچپن ہی سے زہد و تقویٰ اور علم و فضل کا پیکر بن کر ابھرے۔
علمی مقام، تقویٰ اور تعبیرِ رویا میں مہارت
امام ابن سیرین رحمہ اللہ علمِ حدیث، فقہ اور خاص طور پر علمِ تعبیرِ رویا (خوابوں کی تعبیر) میں اپنے وقت کے سب سے بڑے امام تسلیم کیے جاتے تھے۔ خوابوں کی تعبیر میں ان کی بصیرت خداداد اور معجزاتی حد تک درست ہوتی تھی۔ وہ قرآن و حدیث کے اصولوں اور انسانی نفسیات کی روشنی میں خوابوں کی ایسی تعبیریں پیش کرتے تھے کہ عقل دنگ رہ جاتی۔ علمِ حدیث میں وہ انتہائی محتاط اور ثقہ راوی تھے۔ امام ذہبی لکھتے ہیں کہ ابن سیرین حدیث کے حروف کی من وعن روایت کرنے میں سخت ترین اصول رکھتے تھے۔ ان کا زہد و تقویٰ اور ورع (شبہات سے بچنا) ضرب المثل تھا۔ وہ دن کو روزے رکھتے اور رات کا بڑا حصہ عبادت و تلاوت میں گزارتے تھے۔ تجارت میں دیانت داری کا یہ عالم تھا کہ ذرا سے شک کی بنا پر لاکھوں کا منافع چھوڑ دیتے تھے، جس کی وجہ سے ایک مرتبہ وہ مقروض ہو کر قید خانے بھی گئے۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
امام محمد بن سیرین کا سب سے بڑا کارنامہ علمِ حدیث کی حفاظت اور تدوین کے لیے سخت ترین اصول وضع کرنا تھا۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "یہ علم دین ہے، پس دیکھو کہ تم اپنا دین کس سے لے رہے ہو”۔ اس اصول نے علمِ اسماء الرجال کی بنیاد رکھی۔ صحابہ کرام اور تابعین کے مابین علم کی منتقلی میں انہوں نے ایک پل کا کردار ادا کیا۔ معاصرین ان کی جلالتِ قدر کے معترف تھے۔ امام شعیبی فرماتے ہیں کہ "میں نے ابن سیرین جیسا علمِ فقہ و ورع میں کامل شخص نہیں دیکھا۔” ان کے اخلاقِ حمیدہ میں ان کا اپنی والدہ کے ساتھ انتہائی ادب و احترام اور حسنِ سلوک بھی شامل تھا، جب وہ اپنی والدہ کے سامنے ہوتے تو ان کی آواز اتنی دھیمی ہوتی جیسے وہ بیمار ہوں۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے 77 سال کی عمر میں 9 شوال 110 ہجری (729ء) کو بصرہ میں وفات پائی۔ یہ امام حسن بصری رحمہ اللہ کی وفات کے محض سو دن بعد کا واقعہ ہے، جس سے بصرہ اور پوری اسلامی دنیا بیک وقت دو عظیم علمی ستونوں سے محروم ہو گئی۔ ان کی نمازِ جنازہ میں جمِ غفیر نے شرکت کی اور انہیں بصرہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی علمی میراث، بالخصوص خوابوں کی تعبیر کا فن (جس سے منسوب کتب آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں) اور علمِ حدیث میں ان کی کڑی شرائط، رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 4)
- ابن حجر عسقلانی (تقريب التهذيب و تهذيب التهذيب)
- ابن سعد (الطبقات الکبرى، طبقات البصريين)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، واقعات سن 110 ہجری)
- امام ابن خلکان (وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان)
مبارک اقوال و ارشادات
إن هذا العلم دين، فانظروا عمن تأخذون دينكم (یہ علمِ حدیث دین ہے، پس اچھی طرح دیکھ لو کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کر رہے ہو)۔
اگر تم اپنے بھائی کے عیوب تلاش کرنے میں لگ جاؤ گے تو تم خود سب سے بڑے عیب دار بن جاؤ گے۔
میں نے کبھی کسی پر حسد نہیں کیا؛ کیونکہ اگر وہ جنتی ہے تو دنیا کی فانی چیز پر اس سے کیا حسد کرنا؟ اور اگر وہ دوزخی ہے تو اس کے برے انجام پر حسد کا کیا فائدہ؟
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
