محدثین کرام و ائمہ صحاح ستہ

امام محمد بن اسماعیل بخاری

« أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة بن بردزبه البخاري الجعفي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام محمد بن اسماعیل بخاری کی ولادت 13 شوال 194 ہجری کو بخارا (موجودہ ازبکستان) میں ہوئی۔ آپ کے والد اسماعیل بن ابراہیم خود ایک جلیل القدر محدث اور صاحبِ تقویٰ انسان تھے، جنہوں نے امام مالک اور حماد بن زید جیسے ائمہ سے علم حاصل کیا تھا۔ آپ کے والد کا انتقال آپ کے بچپن ہی میں ہو گیا تھا، جس کے بعد آپ کی پرورش آپ کی والدہ نے کی۔ بچپن میں آپ کی بینائی چلی گئی تھی، لیکن آپ کی والدہ کی شب بیدار دعاؤں اور گریہ و زاری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی بینائی معجزاتی طور پر واپس لوٹا دی۔ آپ نے دس سال کی عمر ہی سے بخارا کے شیوخ سے علمِ حدیث حاصل کرنا شروع کیا اور انتہائی کم عمری میں کتبِ حدیث حفظ کر لیں۔

تحصیلِ علم، حفظِ حدیث اور علمی اسفار

امام بخاری کا حافظہ تاریخِ انسانی کے حیرت انگیز ترین حافظوں میں شمار ہوتا ہے۔ سولہ سال کی عمر میں آپ نے عبد اللہ بن مبارک اور وکیع بن جراح کی کتب حفظ کر لیں۔ اس کے بعد آپ اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور وہیں مقیم رہ کر حجاز کے شیوخ سے علم حاصل کیا۔ آپ نے تحصیلِ علم کے لیے شام، مصر، عراق (کوفہ، بصرہ، بغداد)، حجاز اور جزیرہ کے طویل علمی اسفار کیے۔ آپ کا حافظہ اس قدر قوی تھا کہ ایک بار بغداد کے محدثین نے آپ کا امتحان لینے کے لیے سو احادیث کے متن اور اسانید کو خلط ملط کر کے آپ کے سامنے پیش کیا، لیکن آپ نے نہ صرف ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی بلکہ تمام احادیث کو ان کی اصل سندوں کے ساتھ ترتیب وار سنا کر سب کو حیران کر دیا۔

تدوینِ حدیث اور ‘صحیح بخاری’ کا عظیم کارنامہ

امام بخاری کا سب سے بڑا اور لازوال کارنامہ "الجامع الصحيح المسند المختصر من أمور رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه” کی تصنیف ہے، جسے عام طور پر ‘صحیح بخاری’ کہا جاتا ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں آپ کو سولہ سال کا عرصہ لگا۔ آپ نے چھ لاکھ احادیث کے ذخیرے سے انتہائی سخت اور کڑی شرائط کے تحت مستند ترین احادیث کا انتخاب کیا۔ آپ کا تقویٰ اس حد تک تھا کہ آپ ہر حدیث کو کتاب میں درج کرنے سے پہلے غسل کرتے، دو رکعت نمازِ استخارہ ادا کرتے اور مکمل شرحِ صدر کے بعد ہی اسے قلمبند کرتے۔ امتِ مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآنِ مجید کے بعد روئے زمین پر سب سے سچی اور مستند ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔

فتنہ خلقِ قرآن اور آخری ایام کی آزمائش

امام بخاری کو اپنے عہد کے سیاسی اور علمی فتنوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، جن میں فتنہ خلقِ قرآن سب سے نمایاں تھا۔ آپ نے قرآن کو اللہ کا کلام (غیر مخلوق) قرار دیا، جس پر آپ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ بخارا کے گورنر خالد بن احمد ذہلی نے آپ سے تقاضا کیا کہ آپ اس کے بیٹوں کو محل میں آ کر پڑھائیں، لیکن امام بخاری نے علم کی توہین محسوس کرتے ہوئے فرمایا: "میں علم کو سلاطین کے دروازوں پر ذلیل نہیں کروں گا، جسے پڑھنا ہے وہ میری مسجد یا گھر آئے۔” اس علمی وقار کے نتیجے میں آپ کو وطنِ عزیز بخارا سے جلاوطن ہونا پڑا اور آپ نے سمرقند کے قریب ‘خرتنگ’ نامی بستی میں پناہ لی۔

وصالِ مبارک اور تاریخی میراث

امام بخاری نے زندگی کے آخری ایام انتہائی کسمپرسی اور آزمائش میں گزارے، لیکن علمِ نبوی کی ترویج پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ بالآخر 256 ہجری کی عید الفطر کی رات (31 اگست 870ء) آپ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں خلقت کا بے پناہ ہجوم تھا اور آپ کو خرتنگ (سمرقند) ہی میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی قبرِ مبارک سے کئی دنوں تک مشک کی خوشبو آتی رہی، جو اللہ کی طرف سے آپ کی مقبولیت کا ایک نشان تھا۔ آپ نے صحیح بخاری کے علاوہ ‘الادب المفرد’، ‘التاریخ الکبیر’، ‘التاریخ الاوسط’ اور ‘خلق افعال العباد’ جیسی معرکہ آرا کتب علمی دنیا کے لیے وراثت میں چھوڑیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (ہدی الساری مقدمہ فتح الباری)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء – جلد 12)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية – جلد 11)
  • ابو بکر خطیب بغدادی (تاریخ بغداد – جلد 2)
  • امام تاج الدین سبکی (طبقات الشافعیہ الکبریٰ)

مبارک اقوال و ارشادات

1۔ میں نے الجامع الصحيح (بخاری شریف) میں کوئی بھی حدیث اس وقت تک درج نہیں کی جب تک غسل کر کے دو رکعت نماز (استخارہ) نہ پڑھ لی ہو۔

2۔ مجھے امید ہے کہ جب میں اللہ تعالیٰ سے ملوں گا تو میرا کوئی محاسبہ نہیں کرے گا کہ میں نے کسی کی غیبت کی ہے۔

3۔ علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ تم سردار بنا دیے جاؤ (تاکہ تکبر سے بچ سکو)۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام محمد بن اسماعیل بخاری

لقب و کنیت: کنیت: ابو عبد اللہ | القاب: امیر المؤمنین فی الحدیث، ناصر الحدیث، امام الدنیا، شیخ الاسلام، حافظ عصر
قبیلہ: بنو جعف (ولاء کے تعلق سے جعفی کہلاتے ہیں، اصل نسل عجمی/فارسی تھی)
سن پیدائش و وفات: 13 شوال 194 ھ – 1 شوال 256 ھ / 19 جولائی 810ء – 31 اگست 870ء
مقام تدفین: خرتنگ، نزد سمرقند (موجودہ ازبکستان)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com