تبع تابعین

امام فضیل بن عیاض مکی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

{
"arabic_name”: "أبو علي الفضيل بن عياض بن مسعود بن بشر اليربوعي التميمي”,
"kunya_titles”: "ابو علی، زاہدِ حرم، امام الحرم، شیخ الاسلام، القدواۃ”،
"tribe”: "بنو تمیم (یربوعی تمیمی الخراسانی ثم المکی)”,
"dates”: "105 ھ – 187 ھ / 723ء – 803ء”,
"age”: "82 سال”,
"burial_place”: "جنت المعلیٰ، مکہ مکرمہ، سعودی عرب”,
"battles”: "غزوات میں شرکت نہیں کی کیونکہ آپ تبع تابعی تھے، تاہم آپ نے جہادِ نفس اور علم و زہد کی ترویج میں عظیم ترین معرکے سر کیے۔”,
"hadith_count”: "کتبِ ستہ (صحاح ستہ) میں آپ کی متعدد مرویات موجود ہیں، آپ علمِ رجال میں متفقہ طور پر ثقہ اور حجت تسلیم کیے جاتے ہیں۔”,
"teachers_students”: "اساتذہ: جعفر الصادق، سلیمان الاعمش، منصور بن المعتمر، ہشام بن عروہ، عطاء بن السائب۔ | تلامذہ: امام شافعی، عبد اللہ بن المبارک، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید القطان، عبد الرحمن بن مہدی۔”,
"quotes”: "لوگوں کے خوف سے نیک عمل چھوڑ دینا ریا کاری ہے، اور لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنا شرک ہے۔ اخلاص یہ ہے کہ اللہ تمہیں ان دونوں بیماریوں سے نجات دے۔nاگر میری کوئی ایسی دعا ہوتی جو یقیناً مستجاب (قبول) ہوتی، تو میں اسے وقت کے حکمران کے حق میں کرتا، کیونکہ حکمران کی اصلاح سے پوری امت اور ملک کی اصلاح وابستہ ہے۔nجس قدر تم گناہ کو چھوٹا اور معمولی سمجھو گے، اللہ کے ہاں وہ اتنا ہی بڑا ہوگا، اور جس قدر تم گناہ کو بڑا اور ہولناک سمجھو گے، اللہ کے ہاں وہ اتنا ہی ہلکا اور معافی کے قریب ہو جائے گا۔”,
"html_content”: "

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام فضیل بن عیاض مکی رحمہ اللہ کی ولادت باختلافِ روایات 105 ہجری یا 107 ہجری میں خراسان کے مشہور شہر فاریاب میں ہوئی۔ آپ کا تعلق عرب کے نامور اور معزز قبیلے بنو تمیم کی شاخ یربوع سے تھا۔ آپ کا بچپن اور جوانی ابیورد (خراسان) کے علاقے میں گزری۔ اوائل زندگی میں آپ کے احوال عام لوگوں جیسے نہ تھے، بلکہ کتبِ سیرت کے مطابق آپ ایک طاقتور ڈاکو تھے جو مرو اور باورد کے درمیان مسافروں کے قافلے لوٹا کرتے تھے۔ تاہم، آپ کے اندر فطری طور پر ایک مروت اور شرافت موجود تھی؛ آپ خواتین کے سامان کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے اور غریبوں کا مال نہیں لوٹتے تھے۔

توبہ کا عظیم الشان واقعہ اور مکہ مکرمہ ہجرت

امام فضیل بن عیاض کی زندگی میں ایک ایسا موڑ آیا جس نے انہیں وقت کا سب سے بڑا زاہد بنا دیا۔ روایات کے مطابق، ایک رات آپ ایک دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ کسی پڑھنے والے کو قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کرتے سنا: "أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ” (کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھل جائیں؟)۔ یہ آیت سنتے ہی آپ کا دل لرز اٹھا اور آپ نے فوراً پکارا: "اے میرے رب! وہ وقت آ گیا ہے!”۔ آپ نے اسی وقت توبہ کی، لوٹا ہوا مال واپس کیا، اور علم دین حاصل کرنے نکل پڑے۔ توبہ کے بعد آپ نے مکہ مکرمہ ہجرت کی اور بیت اللہ کے سائے میں زہد و عبادت کی زندگی اختیار کر لی، جس کی وجہ سے آپ کو "زاہدِ حرم” کہا جانے لگا۔

علمی مقام، زہد و تقویٰ اور فضائل

توبہ کے بعد امام فضیل بن عیاض نے کوفہ اور مدینہ منورہ کا سفر کیا اور اپنے وقت کے عظیم ترین محدثین اور فقہاء سے علم حاصل کیا۔ آپ کا علمی مرتبہ انتہائی بلند تھا؛ امام سفیان بن عیینہ جیسے جلیل القدر محدث آپ کی بے حد تعظیم کرتے تھے۔ علمِ حدیث کے ائمہ کے نزدیک آپ "ثقہ، مامون، عابد، زاہد اور بکثرت رونے والے” تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید آپ کی مجالس میں حاضر ہوتا اور آپ کے وعظ و نصیحت سن کر زار و قطار روتا تھا۔ آپ دنیا سے اس قدر بے رغبت تھے کہ بڑے بڑے بادشاہوں کے تحائف کو ٹھکرا دیا کرتے اور روکھی سوکھی روٹی پر گزارہ کرتے تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام مکہ مکرمہ میں گزارے۔ آپ کا وصالِ مبارک ماہِ محرم الحرام 187 ہجری (بمطابق 803ء) میں مکہ مکرمہ میں ہوا۔ آپ کو مکہ کے تاریخی قبرستان "جنت المعلیٰ” میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی وفات پر پورے عالمِ اسلام میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی اور سفیان بن عیینہ نے فرمایا: "زمین کا سب سے بہترین انسان رخصت ہو گیا”۔ آپ کی زندگی آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے توبہ، اخلاص اور زہد و تقویٰ کا ایک روشن مینار ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام شمس الدین الذہبی، سیر اعلام النبلاء، جلد 8
  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد 8
  • ابو نعیم الاصبہانی، حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء
  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 10
  • ابن عساکر، تاریخ دمشق

”
}

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام فضیل بن عیاض مکی

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com