مفسرین قرآن و متکلمین

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی

« أبو عبد الله محمد بن عمر بن الحسن بن الحسين بن علي التيمي البكري الطبرستاني الرازي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام فخر الدین رازی 25 رمضان المبارک 544 ھ کو ایران کے مشہور شہر ‘رے’ (موجودہ تہران کے قریب) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو تیم سے تھا اور آپ کا سلسلہ نسب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والدِ گرامی ضیاء الدین عمر رازی اپنے وقت کے ممتاز عالم، فقیہ اور خطیب تھے، اسی وجہ سے امام رازی کو ‘ابن الخطیب’ بھی کہا جاتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی اور فقہ، اصول، علمِ کلام اور عربی ادب میں مہارت حاصل کی۔ والد کی وفات کے بعد آپ نے علم کے حصول کے لیے سمنان اور مراغہ کا سفر کیا اور اپنے وقت کے نامور علما سے اکتسابِ فیض کیا۔

علمی اسفار، مناظرے اور سیاسی اثر و رسوخ

امام فخر الدین رازی نے علم کی پیاس بجھانے اور دینِ اسلام کے دفاع کے لیے دور دراز کے سفر کیے۔ آپ نے خوارزم، ماوراء النہر، غزنی اور ہرات کا سفر کیا۔ خوارزم میں آپ کے معتزلہ اور دیگر باطل فرقوں کے ساتھ تاریخی مناظرے ہوئے، جن میں آپ نے اپنے قوی دلائل سے اہل سنت کے موقف کو غالب کیا۔ آپ کی علمی وجاہت اور بے مثل خطابت کی وجہ سے سلاطینِ وقت، بالخصوص غوری خاندان کے سلاطین (شہاب الدین غوری اور غیاث الدین غوری) اور خوارزم شاہی سلطنت کے حکمران آپ کی بے حد تعظیم کرتے تھے۔ آپ کی مجالس میں وزراء، امرا اور ہزاروں طلبہ شریک ہوتے تھے۔

نمایاں کارنامے، تصانیف اور فکری خدمات

امام فخر الدین رازی تاریخِ اسلام کے ان چند عبقری ذہنوں میں سے ہیں جنہوں نے اسلامی فکر پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد سو سے زائد ہے۔ آپ کا سب سے بڑا اور جاویداں کارنامہ آپ کی تفسیر ‘مفاتیح الغیب’ ہے، جو ‘تفسیرِ کبیر’ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تفسیر عقل و نقل کا ایک عظیم سنگم ہے جس میں قرآن کریم کے معانی و اسرار کو فلسفیانہ اور کلامی ابحاث کے ساتھ انتہائی اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ علمِ کلام میں ‘المطالب العالیہ’، ‘محصل افکار المتقدمین والمتاخرین’، اور اصولِ فقہ میں ‘المحصول’ آپ کی معرکہ آرا تصانیف ہیں۔ آپ نے نہ صرف یونانی فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا بلکہ اس پر نقد کر کے اسلامی عقائد کا مضبوط ترین دفاع کیا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام رازی نے عمر کا آخری حصہ ہرات (افغانستان) میں گزارا، جہاں آپ کے لیے ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا گیا تھا۔ آپ کے کلامی و فکری اثر و رسوخ کی وجہ سے بعض حاسدین اور کٹر فرقے (جیسے کرامیہ) آپ کے سخت مخالف ہو گئے تھے۔ مشہور روایات کے مطابق آپ کو زہر دیا گیا، جس کے نتیجے میں یکم شوال 606 ھ (عید الفطر کے دن) آپ اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ آپ کی وفات پر علمی دنیا یتیم ہو گئی۔ امام رازی نے وصیت کی تھی کہ ان کے جنازے پر صرف توحید اور عجز و انکسار کا اظہار کیا جائے۔ آپ کی علمی میراث نے آنے والی صدیوں میں مسلم کلامی فکر اور تفسیر نگاری کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام شمس الدین الذہبی (سیر اعلام النبلاء، جلد 21)
  • ابن خلکان (وفیات الاعیان، جلد 4)
  • تاج الدین السبکی (طبقات الشافعیہ الکبریٰ، جلد 8)
  • ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، جلد 13)
  • جلال الدین السیوطی (طبقات المفسرین)

مبارک اقوال و ارشادات

میں نے کلامی اور فلسفیانہ مناہج کو خوب پرکھا، لیکن انہیں نہ تو پیاس بجھاتے پایا اور نہ ہی کسی مریض کو شفا دیتے دیکھا۔ میں نے پایا کہ سب سے قریبی اور واضح راستہ قرآن کا راستہ ہے۔

عقل کے قدموں کی آخری حد حیرت اور عجز ہے، اور دنیا کے بیشتر لوگوں کی تگ و دو محض گمراہی ہے۔ ہماری روحیں ہمارے جسموں سے وحشت زدہ ہیں، اور ہماری دنیا کا حاصل سراسر وبال ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی

لقب و کنیت: ابو عبد اللہ، فخر الدین، ابن الخطیب، سلطان المتکلمین، امام المشککین، شیخ الاسلام
قبیلہ: قریش، بنو تیم (آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے)
سن پیدائش و وفات: 544 ھ – 606 ھ / 1149ء – 1209ء
مقام تدفین: ہرات، افغانستان (مزار کوہِ مزدور خان کے قریب واقع ہے)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com