تبع تابعین

امام عبد اللہ بن وہب مصری

« أبو محمد عبد الله بن وهب بن مسلم القرشي الفهري المصري بالولاء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو محمد عبد اللہ بن وہب بن مسلم القرشی الفہری المصری، دنیائے اسلام کے مایہ ناز محدث، فقیہ اور مجتہد تھے۔ آپ کی ولادتِ با سعادت سنہ 125 ہجری میں مصر کے تاریخی شہر فسطاط میں ہوئی۔ آپ قبیلہ قریش کی شاخ بنو فہر کے آزاد کردہ غلام (بالولاء) تھے، اسی نسبت سے آپ کو قرشی اور فہری کہا جاتا ہے۔ آپ کا گھرانہ علم و تقویٰ کا گہوارہ تھا، جس نے آپ کی اخلاقی اور علمی تربیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بچپن ہی سے آپ میں بیداریِ مغز، حفظ و اتقان اور فہم و فراست کے آثار نمایاں تھے، جس نے آگے چل کر آپ کو وقت کا امام بنا دیا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

چونکہ امام عبد اللہ بن وہب مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے، اس لیے ان کی تمام تر خدمات کا مرکز علمِ حدیث، فقہ اور تفسیر کی ترویج و تدوین تھا۔ انہوں نے جوانی کے آغاز ہی میں مصر کے جلیل القدر محدثین سے سماع کیا اور پھر مزید علمی پیاس بجھانے کے لیے حجازِ مقدس (مکہ و مدینہ) کا رختِ سفر باندھا۔ وہاں آپ نے امام دار الہجرۃ سیدنا امام مالک بن انس کی بیس سال تک شاگردی اختیار کی اور ان کے خاص ترین اور معتمد اصحاب میں شمار ہوئے۔ امام مالک کے علاوہ آپ نے لیث بن سعد، سفیان ثوری، اور سلیمان بن بلال جیسے عظیم اساتذہ سے علم حاصل کیا اور حجاز، مصر اور شام کے علمی ذخائر کو اپنے سینے میں سمو لیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

امام عبد اللہ بن وہب کا سب سے بڑا کارنامہ تدوینِ حدیث اور فقہِ مالکی کی تدوینی اشاعت ہے۔ انہوں نے مرویاتِ امام مالک کو مدون کیا اور ان کی مشہور کتاب ‘الجامع’ علمِ حدیث کا ایک بے مثال اور اولین شاہکار ہے۔ امام مالک آپ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور جب بھی آپ کو خط لکھتے تو ‘مفتیِ مصر’ کے لقب سے مخاطب فرماتے تھے۔ امام ذہبی فرماتے ہیں کہ ابن وہب حافظہ اور فقہ دونوں میں یکتا تھے۔ ان کی پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ عباسی خلیفہ کی طرف سے جب انہیں منصبِ قضا (چیف جسٹس) پیش کیا گیا، تو انہوں نے محض خوفِ خدا کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام عبد اللہ بن وہب کا وصال شعبان سنہ 197 ہجری (بمطابق 813ء) میں مصر میں ہوا۔ ان کی موت کا واقعہ انتہائی رقت انگیز اور ان کے خشیتِ الٰہی کا مظہر ہے۔ ہوا یوں کہ ان کے سامنے ان کی اپنی تصنیف کردہ کتاب ‘کتاب الاہوال’ (قیامت اور آخرت کے ہولناک احوال پر مبنی کتاب) پڑھی جا رہی تھی، جس کے مضامین اور عذابِ قبر و آخرت کے ذکر نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔ انہیں گھر لایا گیا، لیکن وہ اس صدمے سے جانبر نہ ہو سکے اور چند دنوں بعد داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کا جنازہ فسطاط میں نکالا گیا جس میں مصر کے جمِ غفیر نے شرکت کی اور انہیں باب القرافہ کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی علمی میراث آج بھی کتبِ حدیث و فقہ کی شکل میں زندہ ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (تہذیب التہذیب)
  • امام ذہبی (سیر أعلام النبلاء)
  • ابن کثیر (البدایہ والنہایہ)
  • ابن خلکان (وفیات الاعیان واَنباء ابناء الزمان)

مبارک اقوال و ارشادات

اگر اللہ تعالیٰ مجھے امام مالک اور امام لیث بن سعد کے ذریعے نہ بچاتا تو میں علمی طور پر گمراہ ہو جاتا۔

ہر وہ صاحبِ حدیث جس کا فقہ میں کوئی پیشوا نہ ہو، وہ گمراہ ہے۔

میں نے جو بھی حدیث لکھی، اس پر عمل کرنے کی نیت سے لکھی۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام عبد اللہ بن وہب مصری

لقب و کنیت: ابو محمد، فقیہِ مصر، حافظ الحدیث، الکاتب، صاحبِ امام مالک، مفتی
قبیلہ: قریش، بنو فہر (بالولاء)
سن پیدائش و وفات: 125 ھ – 197 ھ / 743ء – 813ء
مقام تدفین: مصر (قبرستان باب القرافہ، فسطاط / قاہرہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com