خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام طاؤس بن کیسان رحمہ اللہ کا شمار تابعین کے مایہ ناز اور جلیل القدر ائمہ میں ہوتا ہے۔ آپ کا اصل نام ذکوان تھا، جبکہ ‘طاؤس’ آپ کا لقب تھا جو آپ کی خوبصورتی، علمی وقار اور حسنِ کلام کی وجہ سے مشہور ہوا۔ آپ کی ولادت خلیفہ سوم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں تقریباً 33 ہجری میں یمن کے علاقے ‘جند’ میں ہوئی۔ آپ کا تعلق نسلی طور پر ان فارسی الاصل لوگوں (ابناء فارس) سے تھا جنہیں نوشیروان نے یمن بھیجا تھا، اور یمن میں سکونت اختیار کرنے کی وجہ سے آپ یمانی کہلائے۔ آپ بنو حمیر کے حلیف اور آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے۔ بچپن ہی سے آپ کو علمِ دین کا بے پناہ شوق تھا، جس کے لیے آپ نے یمن اور حجاز مقدس کے طویل سفر کیے۔
علمی جلالت اور روایتِ حدیث
امام طاؤس رحمہ اللہ نے علم کا بڑا حصہ ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حاصل کیا۔ آپ ابن عباس کے ارشد تلامذہ میں شمار ہوتے تھے، یہاں تک کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ خود فرماتے تھے کہ ‘میں گمان کرتا ہوں کہ طاؤس اہل جنت میں سے ہے’۔ آپ نے کبار صحابہ کرام جیسے سیدنا ابو ہریرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہم سے براہِ راست احادیث روایت کیں۔ فنِ حدیث اور فقہ میں آپ کا مقام انتہائی بلند تھا۔ امام ابن شہاب الزہری جیسے جلیل القدر محدث بھی آپ کے علم کے معترف تھے۔ امام ذہبی نے آپ کو ‘عالم الجزيرة’ اور ‘قدوة المحدثين’ کا لقب دیا ہے۔ آپ کے درسِ حدیث میں حجاز اور یمن کے سینکڑوں طالبانِ علم شریک ہوتے تھے۔
زہد و تقویٰ اور خلفاء کے سامنے کلمہ حق
امام طاؤس رحمہ اللہ اپنی علمی جلالت کے ساتھ ساتھ بے مثال تقویٰ، زہد اور کلمہ حق کہنے میں بے باکی کے لیے مشہور تھے۔ آپ سلاطین اور امراء کے درباروں سے ہمیشہ دور رہتے اور ان کے تحائف قبول کرنے سے انکار فرما دیتے۔ جب اموی خلیفہ سلیمان بن عبد الملک یا ہشام بن عبد الملک نے آپ سے نصیحت کا مطالبہ کیا، تو آپ نے بلا خوف و لومۃ لائم انہیں عدل و انصاف کی تلقین کی اور ان کے مظالم پر ٹوکا۔ آپ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب خلیفہ نے آپ سے نصیحت چاہی تو آپ نے فرمایا: ‘اللہ سے ڈرو، کیونکہ اس کے ہاں ظلم کی سزا بہت سخت ہے’۔ آپ انتہائی کثرت سے عبادت کرنے والے تھے، راتوں کو جاگنا اور رو رو کر بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری کرنا آپ کا معمول تھا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام طاؤس بن کیسان رحمہ اللہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی پائی۔ آپ کا وصال سن 106 ہجری (کچھ روایات کے مطابق 105 ہجری) میں مکہ مکرمہ کے قریب مزدلفہ کے مقام پر اس وقت ہوا جب آپ حج کے ارادے سے آئے ہوئے تھے۔ آپ کی وفات کی خبر سن کر پورا مکہ سوگوار ہو گیا۔ خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے بھائی یا صاحبزادے سلیمان بن ہشام نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ کثرتِ اژدھام کی وجہ سے آپ کے جنازے کو اٹھانا مشکل ہو رہا تھا، اور لوگ آپ کی چارپائی کو چومنے اور برکت حاصل کرنے کے لیے ٹوٹ پڑے تھے۔ آپ کو مکہ مکرمہ کے تاریخی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ آپ کی تاریخی میراث میں زہد و ورع، جراتِ رندانہ اور حدیثِ نبوی کی مستند مرویات شامل ہیں جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب، جلد 5، صفحہ 8-10)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 5، سوانح طاووس بن كيسان)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، جلد 5، تذکرہ طبقات اہل الیمن)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 9، وفیات سنہ 106 ہجری)
مبارک اقوال و ارشادات
1. "لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اللہ کے احکام کی سب سے زیادہ تعظیم کرے اور سب سے زیادہ اس سے ڈرے۔"
2. "جو علم تم سیکھتے ہو، اسے اپنی ذات کی اصلاح کے لیے سیکھو، کیونکہ لوگوں میں سے اب امانت داری رخصت ہو چکی ہے۔"
3. "علماء کی تعظیم و توقیر کرنا سنتِ مؤکدہ میں سے ہے۔"
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
