خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام ضیاء الدین محمد بن عبد الواحد مقدسی رحمہ اللہ کی ولادت 569 ہجری میں فلسطین کے علاقے جماعیل (جبل نابلس) کے ایک انتہائی علمی، زاہد اور مجاہد خاندان میں ہوئی۔ صلیبیوں کے وحشیانہ مظالم اور بیت المقدس پر قبضے کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے دمشق آگیا اور وہاں صالحیہ کے علاقے میں آباد ہوا۔ آپ کا خاندان ‘آلِ قدامہ’ کے نام سے مشہور تھا، جو علم و عمل کا گہوارہ تھا۔ آپ کے ماموں اور چچا کبار ائمہ میں سے تھے، جن میں امام موفق الدین ابن قدامہ (صاحبِ المغنی) اور الحافظ عبد الغنی المقدسی (صاحبِ عمدۃ الاحکام) شامل ہیں۔ اسی علمی اور روحانی ماحول میں آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت ہوئی۔
علمی اسفار اور طلبِ حدیث
امام ضیاء الدین نے حصولِ علم اور سماعِ حدیث کے لیے دور دراز کے کٹھن اسفار کیے۔ انہوں نے دمشق کے بعد بغداد، اصفہان، ہمدان، ہرات، مرو، موصل، مصر اور بیت المقدس کا سفر کیا۔ ان اسفار کے دوران انہوں نے اپنے وقت کے نامور شیوخ، محدثین اور فقہاء سے علم حاصل کیا۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام ضیاء الدین نے علمِ حدیث کی تلاش میں اپنی جوانی اور تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں، یہاں تک کہ وہ اپنے عہد کے ممتاز ترین حافظِ حدیث، نقاد اور ثقہ امام تسلیم کیے گئے۔
نمایاں علمی کارنامے اور تصانیف (خصوصاً المختارہ)
امام ضیاء الدین کا سب سے بڑا علمی کارنامہ ان کی تصنیف ‘الأحاديث المختارة’ (المختارہ) ہے۔ یہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں انہوں نے ان صحیح احادیث کو جمع کیا جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود نہیں تھیں، لیکن وہ صحت کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں۔ امام ذہبی اور دیگر جلیل القدر محدثین نے اس کتاب کی صحت کو ‘مستدرک حاکم’ سے بھی برتر قرار دیا ہے کیونکہ امام ضیاء الدین نے اس میں انتہائی سختی سے ثقہ راویوں کی روایات کو ترجیح دی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دمشق میں ‘مدرسہ ضیائیہ’ قائم کیا جو صدیوں تک حدیث کا مرکز رہا۔ ان کی دیگر تصانیف میں ‘فضائل الاعمال’، ‘اتباع السنن’، اور ‘الاحکام’ شامل ہیں۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام ضیاء الدین مقدسی رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی تدریس، تصنیف اور دفاعِ سنت میں گزارنے کے بعد 28 جمادی الآخرہ 643 ہجری (بمطابق 1245ء) کو دمشق میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ میں کثیر تعداد میں علماء، مجاہدین اور عوام نے شرکت کی اور انہیں جبلِ قاسیون کے دامن میں واقع مقبرہ روضہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی علمی میراث، بالخصوص ان کی تصنیف ‘المختارہ’ اور ان کا قائم کردہ مدرسہ ضیائیہ، رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 23)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 13)
- ابن رجب الحنبلی (ذيل طبقات الحنابلة)
- جلال الدین سیوطی (طبقات الحفاظ)
- ابن عماد الحنبلی (شذرات الذهب)
مبارک اقوال و ارشادات
علم الحدیث کا حصول اور اس پر عمل کرنا قربِ الہی کا سب سے عظیم اور فضیلت والا راستہ ہے۔
راویوں کی جرح و تعدیل اور حدیث کی صحت کا دفاع غیبت نہیں بلکہ دینِ حنیف کی حفاظت کا فریضہ ہے۔
