مفسرین قرآن و متکلمین

امام سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی

« سعد الدين مسعود بن عمر بن عبد الله التفتازاني الشافعي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام سعد الدین مسعود بن عمر بن عبد اللہ تفتازانی 722 ہجری (بمطابق 1322ء) میں خراسان کے ایک قصبے ‘تفتازان’ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا گھرانہ علم و تقویٰ کا گہوارہ تھا۔ بچپن ہی سے آپ میں غیر معمولی ذہانت اور علمی تڑپ موجود تھی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے مقامی شیوخ سے حاصل کی اور انتہائی کم عمری میں ہی مروجہ علومِ اسلامیہ، بالخصوص عربی زبان و ادب، فقہ، اور منطق میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ کا علمی انتساب شافعی مسلک سے تھا، اور علمِ کلام میں آپ اشعری مکتبِ فکر کے عظیم ترجمان مانے جاتے ہیں۔

تحصیلِ علم اور علمی اسفار

امام تفتازانی نے علم کی پیاس بجھانے کے لیے خراسان اور ماوراء النہر کے عظیم علمی مراکز کا سفر کیا۔ آپ نے اپنے وقت کے جلیل القدر ائمہ سے کسبِ فیض کیا۔ آپ کے ممتاز اساتذہ میں ‘شرح مواقف’ کے مصنف علامہ عضد الدین الآیجی اور قطب الدین الرازی شامل ہیں۔ ان عبقری شخصیات کی زیرِ نگرانی امام تفتازانی نے معقولات (منطق، فلسفہ، علمِ کلام) اور منقولات (تفسیر، حدیث، فقہ) میں وہ کمال حاصل کیا جس کی نظیر اس دور میں نہیں ملتی۔ علمی اسفار کے دوران آپ ہرات، غجدوان، اور سرخس جیسے شہروں میں مقیم رہے اور وہاں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔

نمایاں کارنامے، تصانیف اور علمی مناظرے

امام تفتازانی کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کی وہ تصانیف ہیں جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی مدارسِ اسلامیہ کے نصاب (جیسے درسِ نظامی) کا حصہ ہیں۔ آپ نے صرف سولہ سال کی عمر میں ‘شرح التصریف العزی’ تحریر کر کے اپنی علمی جولانی کا ثبوت دیا تھا۔ آپ کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:

  • شرح العقائد النسفیہ: علمِ کلام میں عقائدِ اہل سنت کی ترجمانی کرنے والی بے مثال کتاب۔
  • مطول اور مختصر المعانی: علمِ بلاغت و فصاحت میں تلخیص المفتاح کی ایسی شروحات جن کے بغیر عربی ادب کی تدریس ادھوری ہے۔
  • شرح التلویح علی التوضیح: اصولِ فقہ کے فن میں ایک معرکہ آرا تصنیف۔
  • مقاصد الطالبین: علمِ کلام اور اصولِ دین کا انسائیکلوپیڈیا۔

تیمور لنگ کے دور میں سمرقند میں آپ کی علمی جلالت کا ڈنکا بجتا تھا۔ وہاں آپ کے اور میر سید شریف جرجانی کے مابین ہونے والے علمی مناظرے تاریخِ اسلام کے سنہرے ابواب میں شمار ہوتے ہیں۔

وفات اور علمی میراث

امام سعد الدین تفتازانی نے اپنی زندگی کا آخری حصہ سمرقند میں گزارا، جہاں وہ تیمور لنگ کے دربار اور علمی حلقوں میں انتہائی معزز شمار ہوتے تھے۔ آپ کا وصال 22 محرم الحرام 792 ہجری (بمطابق 1390ء) کو سمرقند میں ہوا۔ بعد ازاں آپ کے جسدِ خاکی کو سرخس منتقل کیا گیا جہاں آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی وفات سے دنیائے اسلام ایک عظیم متکلم، فقیہ اور ادیب سے محروم ہو گئی۔ آپ کے علمی ورثے نے آنے والی نسلوں کے فکری و کلامی رخ کا تعین کیا، اور آج بھی دنیا بھر کے اسلامی جامعات آپ کی تحقیقات سے مستفید ہو رہی ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الدرر الکامنة في أعيان المائة الثامنة)
  • جلال الدین سیوطی (بغية الوعاة في طبقات اللغويين والنحاة)
  • طاشکبری زادہ (مفتاح السعادة ومصباح السيادة)
  • امام شوکانی (البدر الطالع بمحاسن من بعد القرن السابع)

مبارک اقوال و ارشادات

علم وہ ملکہ نہیں جو محض الفاظ کو رٹنے سے حاصل ہو، بلکہ یہ وہ نور ہے جس سے حقائق منکشف ہوتے ہیں۔

اصولِ دین (علمِ کلام) تمام علوم کا سرتاج ہے کیونکہ اس کا موضوع اللہ رب العزت کی ذات اور صفات ہیں۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی

لقب و کنیت: سعد الدین، علامہ تفتازانی، فقیہِ شافعی، متکلمِ اعظم، امامِ معقول و منقول
قبیلہ: خراسان (تفتازان سے منسوب)
سن پیدائش و وفات: 722ھ – 792ھ / 1322ء – 1390ء
مقام تدفین: سرخس (خراسان بزرگ، موجودہ ایران و ترکمانستان سرحد)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com