خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام بدر الدین محمود عینی رحمہ اللہ 17 رمضان المبارک 762ھ کو شام اور اناطولیہ کے سرحدی شہر ‘عینتاب’ (موجودہ غازی انتیپ، ترکی) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا علمی گھرانہ تھا، آپ کے والد قاضی احمد بن موسیٰ ایک جید عالم دین اور منصف تھے۔ امام عینی نے بچپن ہی میں قرآن مجید حفظ کیا اور اپنے والد کے سائے میں ابتدائی اسلامی علوم، خاص طور پر فقہِ حنفی، عربی زبان و ادب اور تاریخ کی تعلیم حاصل کی۔ آپ کی ذہانت اور یادداشت بچپن ہی سے بے مثال تھی، جس کی بدولت آپ نے انتہائی کم عمری میں اپنے وقت کے مروجہ علوم پر دسترس حاصل کر لی۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
چونکہ امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ چودہویں اور پندرہویں صدی عیسوی (نویں صدی ہجری) کے جلیل القدر محدث اور فقیہ تھے اور پیدائشی مسلمان تھے، اس لیے ان کی ‘قبولِ اسلام’ سے مراد علومِ اسلامیہ کے تحفظ اور نشر و اشاعت کے لیے ان کی ابتدائی زندگی کی وقفیت اور خدمات ہیں۔ آپ نے عینتاب سے نکل کر حلب، دمشق، بیت المقدس اور آخر کار قاہرہ (مصر) کا سفر کیا جو اس وقت سلطنتِ مملوک کا علمی و سیاسی مرکز تھا۔ قاہرہ میں آپ نے تدریس، قضا اور احتساب کے اعلیٰ مناصب سنبھالے۔ آپ نے تصنیف و تالیف کے ذریعے دینِ حنیف کی وہ بے مثال خدمت کی جس نے رہتی دنیا تک مسلمانوں کو علمی طور پر سیراب کیا۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
امام عینی رحمہ اللہ کا سب سے بڑا اور جاویداں علمی کارنامہ ‘عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری’ ہے، جو صحیح بخاری کی عظیم ترین شروحات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں آپ نے علمِ حدیث، لغت، فقہ، تاریخ اور اسماء الرجال کے ایسے دریا بہائے ہیں کہ معاصر اور متاخرین ائمہ دنگ رہ گئے۔ اس کے علاوہ آپ نے فقہِ حنفی کی مشہور کتاب ‘الہدایہ’ کی عظیم الشان شرح ‘البناية في شرح الهداية’ لکھی۔ تاریخ میں آپ کی تصنیف ‘عقد الجمان في تاريخ أهل الزمان’ ایک مستند ترین ماخذ مانی جاتی ہے۔ آپ جود و سخا، تقویٰ، اور جراتِ رندانہ کے مالک تھے۔ مملوک سلاطین آپ کی علمی وجاہت کی وجہ سے آپ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ امام ابن حجر عسقلانی (شارحِ بخاری، فتح الباری) کے ساتھ آپ کے علمی مباحثے اور نوک جھونک اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا اور علمی باب ہے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے ایک طویل اور انتہائی بابرکت زندگی گزارنے کے بعد 4 ذوالحجہ 855ھ کو قاہرہ، مصر میں وفات پائی۔ آپ کی نمازِ جنازہ میں قاہرہ کے سلاطین، ائمہ، قضاۃ اور عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ آپ کو قاہرہ میں آپ کے اپنے قائم کردہ ‘مدرستہ العینی’ کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی تاریخی میراث آج بھی دنیا بھر کے مدارس اور اسلامی جامعات میں زندہ ہے، اور آپ کی کتب ‘عمدۃ القاری’ اور ‘البنایہ’ کے بغیر حدیث و فقہ کی تحقیق ادھوری تصور کی جاتی ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام سخاوی (الضوء اللامع لأهل القرن التاسع)
- ابن تغری بردی (النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة)
- جلال الدین سیوطی (حسن المحاضرة في تاريخ مصر والقاهرة)
- طاشکبری زادہ (الشقائق النعمانية في علماء الدولة العثمانية)
مبارک اقوال و ارشادات
علم حدیث تمام علوم کا سردار ہے، اور اس کی خدمت و شرح سے بڑھ کر کوئی سعادت نہیں۔
فقہ اور حدیث میں ظاہری تضاد نہیں، بلکہ فقہ اصل میں فہمِ حدیث کا ہی دوسرا نام ہے۔
حاسدین کی مخالفت علم کی راہ میں حائل نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انسان کو تحقیق اور حق بات پر ڈٹ جانا چاہیے۔
