تبع تابعین

امام ابو نعیم فضل بن دکین

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

{
"arabic_name”: "أبو نعيم الفضل بن دكين بن حماد بن واقد التيمي الطلحي الملائي الكوفي”,
"kunya_titles”: "ابو نعیم، الحافظ، الثقة، شیخ الاسلام، المُلائی (چادریں بیچنے کی نسبت سے)”
"tribe”: "بنو تيم بن مرہ (قریش) – ولاءً (خاندانِ طلحہ بن عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام ہونے کی وجہ سے)”,
"dates”: "130 ھ – 218 ھ / 747ء – 833ء”,
"age”: "88 سال”,
"burial_place”: "کوفہ، عراق”,
"battles”: "فتنہ خلقِ قرآن کے خلاف علمی جہاد اور عظیم نظریاتی استقامت”,
"hadith_count”: "ہزاروں احادیث (صحاح ستہ کے کبار شیوخ اور بنیادی راویوں میں سے ایک)”,
"teachers_students”: "اساتذہ: سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، امام مالک بن انس، شعبہ بن الحجاج، مسعر بن کدام، شریک بن عبد اللہ۔ | تلامذہ: امام محمد بن اسماعیل بخاری، امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، اسحاق بن راہویہ، ابو بکر بن ابی شیبہ، ابو خیثمہ زہیر بن حرب۔”,
"quotes”: "1۔ میں نے تیس سال تک ہر نماز کے بعد اپنے شیوخ کے لیے مغفرت کی دعا کی ہے۔n2۔ فتنہ خلقِ قرآن کے وقت جب کوڑے اور تلوار دکھائی گئی تو فرمایا: ‘میری گردن اڑا دو، تب بھی میں یہی کہوں گا کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور مخلوق نہیں ہے!’n3۔ میں نے کبھی کسی روایت کے بیان کرنے میں سستی نہیں کی جب مجھے اس کی صحت پر یقین ہو گیا۔”,
"html_content”: "

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو نعیم فضل بن دکین 130 ہجری میں عراق کے مشہور علمی مرکز کوفہ میں پیدا ہوئے۔ دکین ان کے والد کا لقب تھا جبکہ ان کا اصل نام حماد تھا۔ آپ کو ‘الملائی’ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ آپ ‘ملاء’ (یمنی چادریں) کی تجارت کرتے تھے۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو تیم سے ولاءً تھا، جو کہ صحابیِ رسول حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے۔ امام ابو نعیم نے ایک ایسے علمی ماحول میں آنکھ کھولی جہاں علمِ حدیث عروج پر تھا۔ انہوں نے بچپن ہی سے حفظِ حدیث کا آغاز کیا اور اپنی غیر معمولی یادداشت کی بدولت جلد ہی کوفہ کے ممتاز ترین حفاظِ حدیث میں شمار ہونے لگے۔

علمی اسفار اور حصولِ حدیث

امام ابو نعیم نے حصولِ علم کے لیے کوفہ کے علاوہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بغداد جیسے عظیم مراکزِ علم کا سفر کیا۔ انہوں نے اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین سے سماع کیا۔ ان کے اساتذہ میں سفیان ثوری، امام مالک بن انس، شعبہ بن الحجاج اور سفیان بن عیینہ جیسے اساطینِ علم شامل ہیں۔ ان کے پاس احادیث کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا اور وہ حدیث کی علتوں اور راویوں کے احوال کے بہت بڑے نباض تھے۔ انہوں نے اپنے شیوخ سے سنی ہوئی احادیث کو انتہائی اتقان اور ضبط کے ساتھ محفوظ کیا، جس کی گواہی ان کے معاصرین نے بھی دی۔

جرح و تعدیل میں مقام اور فضائل و مناقب

علمِ جرح و تعدیل اور اسما الرجال کے ائمہ نے امام ابو نعیم کی ثقاہت، دیانت اور امانت پر کامل اتفاق کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں: ‘ابو نعیم سچائی، امانت داری اور اتقانِ حدیث میں ایک روشن مینار ہیں، ان کے قلم سے نکلی ہوئی بات حجت ہے’۔ امام یحییٰ بن معین، جو خود جرح و تعدیل کے امام ہیں، فرماتے ہیں: ‘میں نے ابو نعیم سے بڑھ کر حدیث میں محتاط اور پختہ کار شخص نہیں دیکھا’۔ امام بخاری نے اپنی ‘صحیح البخاری’ میں ان سے کثرت سے احادیث روایت کی ہیں، جو ان کے بلند ترین علمی مرتبے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ وہ نہ صرف حافظِ حدیث تھے بلکہ تقویٰ اور زہد میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔

فتنہ خلقِ قرآن اور بے مثال استقامت

خلفائے عباسیہ کے دور میں جب ‘خلقِ قرآن’ کا فتنہ اٹھا اور محدثین پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیا گیا، تو امام ابو نعیم کو بھی امتحان کی گھڑی سے گزرنا پڑا۔ بغداد کے والی نے انہیں طلب کر کے عقیدہ خلقِ قرآن پر مجبور کرنا چاہا۔ امام ابو نعیم نے نہایت جرات اور بیباکی کے ساتھ اس باطل عقیدے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے جلادوں اور تلواروں کے سائے میں بھی برملا اعلان کیا کہ ‘قرآن اللہ کا کلام ہے اور وہ مخلوق نہیں ہے’۔ ان کی اس تاریخی استقامت نے امتِ مسلمہ کے عقیدہِ حقہ کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کیا اور وہ اس فتنے کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام ابو نعیم فضل بن دکین نے 88 برس کی طویل علمی اور بابرکت زندگی گزارنے کے بعد شعبان 218 ہجری (بمطابق 833ء) میں کوفہ میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی وفات سے دنیائے حدیث ایک عظیم محافظ اور معلم سے محروم ہو گئی۔ انہوں نے اپنے پیچھے شاگردوں کی ایک ایسی کھیپ چھوڑی جنہوں نے پوری دنیا میں علمِ حدیث کی ترویج کی، جن میں امام بخاری اور امام احمد بن حنبل سرفہرست ہیں۔ ان کے علمی فیصلے اور مرویات آج بھی کتبِ حدیث کی زینت ہیں اور رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 10)
  • ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب، جلد 8)
  • خطیب بغدادی (تاريخ بغداد، جلد 12)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 10)

”
}

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو نعیم فضل بن دکین

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com