مفسرین قرآن و متکلمین

امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی

« أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أبي بكر بن فَرْح الأنصاري الخزرجي الأندلسي القرطبي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاری الخزرجی الاندلسی القرطبی اندلس (موجودہ اسپین) کے تاریخی اور علمی شہر قرطبہ (Cordoba) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج کے انصاری خاندان سے تھا۔ ان کی تاریخِ ولادت کے بارے میں مستند اقوال کے مطابق وہ چھٹی صدی ہجری کے اواخر (تقریباً 590ھ) میں پیدا ہوئے۔ قرطبہ اس دور میں اسلامی دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی و ثقافتی مرکز تھا جہاں انہوں نے لغت، عربی ادب، فقہ مالکی، اور حدیث کی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ اوائل عمری میں ہی انہوں نے زراعت کے میدان میں اپنے والد کا ہاتھ بٹایا، لیکن والد کی شہادت کے بعد وہ مکمل طور پر حصولِ علم کے لیے وقف ہو گئے۔

علمی اسفار، اساتذہ اور علمی مقام

جب عیسائی افواج نے اندلس پر حملے تیز کیے اور 633ھ (1236ء) میں قرطبہ پر عیسائیوں کا قبضہ ہو گیا، تو امام قرطبی نے دیگر علماء کی طرح مشرقِ وسطیٰ کی طرف ہجرت کی۔ انہوں نے مصر کا رخ کیا جو اس وقت ایوبی اور مملوک دور میں علم کا گہوارہ بن چکا تھا۔ مصر پہنچ کر انہوں نے اسکندریہ اور قاہرہ میں قیام کیا اور اس دور کے نامور شیوخ سے علمِ حدیث، تفسیر اور اصولِ دین سیکھا۔ ان کے اساتذہ میں حافظ بہاء الدین بن عساکر، ابن رواج، اور ابن الجميزي جیسے جلیل القدر محدثین شامل ہیں۔ امام قرطبی زہد، تقویٰ، اور سادگی کی زندگی گزارنے کے لیے مشہور تھے اور ان کا زیادہ تر وقت علمی مصروفیات اور عبادت الٰہی میں گزرتا تھا۔

نمایاں کارنامے اور لازوال تصانیف

امام قرطبی کا سب سے عظیم اور لازوال علمی کارنامہ ان کی مایہ ناز تفسیر "الجامع لأحكام القرآن والمبين لما تضمنه من السنة وآي الفرقان” ہے، جسے دنیا "تفسیر قرطبی” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ تفسیر قرآن مجید کے احکام و مسائل اور فقہی استنباط کے حوالے سے اسلامی تاریخ کی جامع ترین اور معتبر ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ امام قرطبی نے اس تفسیر میں نہ صرف مالکی فقہ بلکہ تمام ائمہ مجتہدین (امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) کے دلائل کو انتہائی امانت داری اور علمی غیر جانبداری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دوسری مشہور ترین تصنیف "التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة” ہے، جو موت، برزخ، علاماتِ قیامت اور احوالِ آخرت پر لکھی گئی مستند ترین کتب میں شمار ہوتی ہے۔

وصالِ مبارک اور تاریخی میراث

امام قرطبی نے اپنی زندگی کے آخری ایام بالائی مصر (سعیدِ مصر) کے شہر ‘منية بني خصيب’ (موجودہ المنیا) میں گزارے۔ وہ تاحیات درس و تدریس اور زہد و قناعت کے ساتھ تصنیفِ کتب میں مصروف رہے۔ بالآخر 9 شوال 671ھ (بمطابق 29 اپریل 1273ء) کو یہ علم و حکمت کا آفتاب غروب ہو گیا۔ انہیں المنیا (مصر) میں ہی سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ان کا مزار آج بھی موجود ہے اور علماء و طالبانِ علم کے لیے زیارت گاہ ہے۔ امام قرطبی کی علمی میراث نے آنے والی صدیوں کے مفسرین، فقہاء اور محدثین کو بے حد متاثر کیا اور ان کی تصانیف آج بھی اسلامی جامعات کے نصاب کا حصہ ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • شمس الدین الذہبی (سیر أعلام النبلاء)
  • ابن فرحون المالکی (الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب)
  • جلال الدین السیوطی (طبقات المفسرين)
  • صلاح الدین الصفدی (الوافي بالوفيات)
  • داؤدی (طبقات المفسرين)

مبارک اقوال و ارشادات

قرآن مجید اللہ عزوجل کا ایسا کلام ہے جس کا ظاہر سراسر فصاحت و بلاغت اور باطن اتھاہ علم کا سمندر ہے۔

مفسر کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر کرتے وقت اپنے نفس کی خواہشات، تعصب اور فکری کجی سے کوسوں دور رہے۔

دنیا ایک عارضی مسافر خانہ ہے، پس عاقل و دانا وہ ہے جو آخرت کے لیے زادِ راہ جمع کرنے میں مگن رہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی

لقب و کنیت: ابو عبد اللہ، شمس الدین، امام قرطبی، صاحبِ تفسیرِ قرطبی، المفسر، المحدث
قبیلہ: الانصار (قبیلہ خزرج)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 590ھ – 671ھ / 1194ء – 1273ء
مقام تدفین: منية بني خصيب (موجودہ المنیا)، مصر
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com