شارحین حدیث و ائمہ جرح و تعدیل

امام ابو سلیمان حمد بن محمد خطابی رحمہ اللہ (شارح سنن ابی داؤد)

« أبو سليمان حمد بن محمد بن إبراهيم بن الخطاب البستي الخطابي القرشي العدوي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

نسب، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو سلیمان حمد بن محمد بن ابراہیم بن خطاب البستی الخطابی رحمہ اللہ کی ولادت 319 ہجری میں افغانستان کے تاریخی شہر ‘بست’ میں ہوئی۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو عدی سے تھا اور آپ نسباً امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے برادرِ بزرگ حضرت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی نسل سے تھے۔ اسی نسبت سے آپ کو ‘الخطابی’ کہا جاتا ہے۔ آپ کا گھرانہ علمی و دینی لحاظ سے بلند مقام رکھتا تھا، جس نے آپ کی ابتدائی تربیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بچپن ہی سے آپ میں علمِ دین کے حصول کا بے پناہ شوق موجود تھا، جس کے لیے آپ نے اپنے آبائی شہر بست کے ائمہ سے مڈھلی تعلیم حاصل کی۔

تحصیلِ علم اور علمی اسفار

امام خطابی نے حصولِ علم کے لیے اسلامی دنیا کے متعدد بڑے علمی مراکز کا سفر کیا۔ انہوں نے نیشاپور، بغداد، مکہ مکرمہ، حجاز، بصرہ اور شام کے طویل اسفار کیے۔ ان اسفار کے دوران انہوں نے اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین، فقہاء اور ماہرینِ لغت سے سماع حدیث کیا اور فقہ شافعی میں مہارت حاصل کی۔ مکہ مکرمہ میں انہوں نے امام ابو سعید بن الاعرابی سے طویل عرصہ فیض حاصل کیا، جو تصوف اور حدیث کے بڑے شیخ تھے۔ بغداد میں انہوں نے علمِ کلام، نحو اور لغت کے اصول سیکھے، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف محدث اور فقیہ بنے، بلکہ عربی ادب اور لغت کے بھی بے تاج بادشاہ تسلیم کیے گئے۔

علمی مقام اور نمایاں کارنامے

امام خطابی رحمہ اللہ کا شمار چوتھی صدی ہجری کے مجددین اور مصلحین میں ہوتا ہے۔ وہ حدیث کے متون کے فہم اور ان کے غوامض و باریکیوں کو حل کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ انہوں نے فقہ، حدیث اور لغت کو یکجا کر کے اسلامی علوم کو ایک نئی جلا بخشی۔ امام خطابی کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ سنن ابی داؤد کی سب سے پہلی اور معرکۃ الآراء شرح ‘معالم السنن’ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حدیث کی فقہی شرح، ائمہ کے اختلاف، اور لغوی پیچیدگیوں کو احسن طریقے سے واضح کیا۔ اس کے علاوہ صحیح بخاری کی شرح ‘اعلام السنن’ (یا اعلام الحدیث) بھی ان کی مایہ ناز تصنیف ہے۔ لغتِ حدیث میں ان کی کتاب ‘غریب الحدیث’ علمِ لغت کا ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ عقائد کے باب میں انہوں نے ‘الغنیۃ عن الکلام واہلہ’ لکھ کر سلف صالحین کے عقیدے کا دفاع کیا۔

وفات اور علمی میراث

امام ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ زندگی کا ایک بڑا حصہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزارنے کے بعد اپنے وطنِ مالوف ‘بست’ واپس تشریف لائے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ صوفیاء کرام کے رنگ میں رنگ گئے اور گوشہ نشینی اختیار کر کے عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔ بالآخر 16 ربیع الآخر 388 ہجری کو تقریباً 69 برس کی عمر میں آپ نے وفات پائی اور بست ہی میں سپردِ خاک کیے گئے۔ آپ کی وفات پر علمی حلقوں میں شدید رنج و غم کا اظہار کیا گیا اور محدثین نے آپ کو ‘امامِ وقت’ اور ‘علم کا سمندر’ قرار دیا۔ ان کی تصانیف آج بھی اسلامی جامعات کے نصاب کا حصہ ہیں اور ائمہ حدیث کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

مستند تاریخی مراجع و مصادر

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 16، ترجمہ امام الخطابی)
  • تاج الدین السبکی (طبقات الشافعيۃ الکبریٰ)
  • ابن خلکان (وفیات الاعیان و انباء ابناء الزمان)
  • ابن العماد الحنبلی (شذرات الذھب فی اخبار من ذھب)
  • جلال الدین السیوطی (طبقات الحفاظ)

مبارک اقوال و ارشادات

علم کی دو قسمیں ہیں: ایک علمِ ابدان (طبی اصول) اور دوسرا علمِ ادیان (دینی احکام)، اور حقیقت میں علمِ ادیان ہی اصل شرف کا باعث ہے۔

حدیث کی شرح اور اس کے فقہی احکام کو سمجھے بغیر محض روایات کو کثرت سے جمع کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص دواؤں کے نام تو رٹ لے لیکن ان کی تاثیر اور علاج کے طریقے سے ناواقف ہو۔

ایمان کا کمال یہ ہے کہ انسان کا ظاہر اور باطن یکساں ہو جائے اور وہ اللہ کی رضا پر راضی رہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو سلیمان حمد بن محمد خطابی رحمہ اللہ (شارح سنن ابی داؤد)

لقب و کنیت: ابو سلیمان، الخطابی، البستی، امام المحدثین، شارحِ سنن ابی داؤد، الفقیہ الشافعی، ادیب و لغوی
قبیلہ: قریش (بنو عدی - حضرت عمر فاروق کے بھائی حضرت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی نسل سے)
سن پیدائش و وفات: 319 ھ – 16 ربیع الآخر 388 ھ / 931ء – 998ء
مقام تدفین: بست (موجودہ ہلمند، افغانستان)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com