شارحین حدیث و ائمہ جرح و تعدیل

امام ابو زرعہ عبید اللہ بن عبد الکریم رازی رحمہ اللہ

« أبو زرعة عبيد الله بن عبد الكريم بن يزيد بن فروخ بن داود المخزومي بالولاء الرازي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ کا نام عبید اللہ بن عبد الکریم تھا، اور ان کا تعلق ایران کے تاریخی شہر ‘رے’ سے تھا۔ آپ سنہ 200 ہجری کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان بنو مخزوم کا آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھا، اسی لیے آپ کو قرشی اور مخزومی بالولاء کہا جاتا ہے۔ بچپن ہی سے آپ میں غیر معمولی ذہانت اور حافظہ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ نے نہایت کم عمری میں قرآن مجید حفظ کیا اور پھر حصولِ علم کے لیے تڑپ نے انہیں اپنے وقت کے سب سے بڑے علمی مراکز کی طرف سفر کرنے پر ابھارا۔

علمی اسفار اور تحصیلِ علمِ حدیث

امام ابو زرعہ رازی نے حدیثِ رسول ﷺ کی تلاش میں مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بغداد، دمشق، حمص، کوفہ، بصرہ اور مصر جیسے دور دراز علمی شہروں کا سفر کیا۔ انہوں نے اپنے وقت کے مایہ ناز محدثین سے سماع کیا۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور بے مثال حافظے کے معترف تھے۔ بغداد میں قیام کے دوران امام احمد بن حنبل اکثر ان کے پاس بیٹھتے اور احادیث کا مذاکرہ کرتے تھے۔ امام احمد فرماتے تھے کہ ‘میں نے ابو زرعہ سے زیادہ مستحضر اور قوی الحفظ شخص نہیں دیکھا۔’

حفظ و اتقان اور جرح و تعدیل میں مقام

علمِ رجال اور جرح و تعدیل (راویوں کی جانچ پڑتال) میں امام ابو زرعہ کا مقام انتہائی بلند ہے۔ وہ اپنے دور کے امیر المؤمنین فی الحدیث سمجھے جاتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی اور امام ذہبی نے انہیں ‘سید الحفاظ’ کا لقب دیا ہے۔ امام ابو حاتم رازی فرماتے ہیں کہ میرے پاس علم کے جو خزانے ہیں، وہ ابو زرعہ رازی کے سامنے ہیچ ہیں۔ انہوں نے لاکھوں احادیث مع سند زبانی یاد کر رکھی تھیں، اور وہ صحیح اور ضعیف راویوں کے درمیان تمیز کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ ان کی آراء کو جرح و تعدیل کے باب میں حرفِ آخر مانا جاتا ہے۔

وصالِ مبارک اور آخری لمحات کا ایمان افروز واقعہ

امام ابو زرعہ رازی کا وصال ذوالحجہ 264 ھ میں رے شہر میں ہوا۔ ان کی وفات کا واقعہ تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی ایمان افروز واقعہ ہے۔ جب وہ بسترِ مرگ پر تھے، تو ان کے شاگرد اور دوست (جن میں ابو حاتم رازی اور محمد بن مسلم شامل تھے) ان کے پاس آئے۔ وہ چاہتے تھے کہ امام کو موت کے وقت ‘لا إله إلا الله’ کی تلقین کریں، لیکن ہیبت اور احترام کی وجہ سے براہ راست کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ چنانچہ انہوں نے آپس میں حدیثِ تلقین کی سند پڑھنا شروع کی۔

ابو حاتم نے سند بیان کرنا شروع کی لیکن وہ ہچکچائے، پھر ابو زرعہ رازی نے بسترِ مرگ پر آنکھیں کھولیں اور خود پوری سند بیان کرتے ہوئے کہا:
‘ہم سے بندار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہم سے عبد الحمید بن جعفر نے صالح بن ابی عریب سے، انہوں نے کثیر بن مرہ سے، اور انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من كان آخر كلامه لا إله إلا الله…’ اور ‘اللہ’ کا لفظ کہتے ہی امام ابو زرعہ کی روح پرواز کر گئی اور انہوں نے ‘دخل الجنة’ (وہ جنت میں داخل ہو گیا) کے الفاظ کے ساتھ اپنی جانِ جاں آفریں کے سپرد کی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 13)
  • ابن ابی حاتم رازی (الجرح والتعديل)
  • حافظ ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب)
  • امام خطیب بغدادی (تاریخِ بغداد)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)

مبارک اقوال و ارشادات

جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کی تنقیص (عیب جوئی) کر رہا ہے، تو جان لو کہ وہ زندیق (بے دین) ہے۔ کیونکہ قرآن، رسول اور جو کچھ آپ لائے وہ سب حق ہے، اور ہم تک یہ سب صحابہ ہی نے پہنچایا ہے۔

ہر وہ علم جس کی پشت پر کوئی صحیح سند یا دلیل قرآن و حدیث سے موجود نہ ہو، وہ علم نہیں بلکہ محض تکلف ہے۔

علمِ حدیث کا مقصد محض روایت کرنا نہیں، بلکہ سنتِ نبوی پر عمل اور احکامِ دین کی معرفت حاصل کرنا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو زرعہ عبید اللہ بن عبد الکریم رازی رحمہ اللہ

لقب و کنیت: ابو زرعہ، الحافظ، الإمام، سید الحفاظ، محدثِ رے، امامِ جرح و تعدیل
قبیلہ: قریش، بنو مخزوم (ولاءً یعنی آزاد کردہ غلام کے طور پر منسوب)
سن پیدائش و وفات: 200 ھ – 264 ھ / 815ء – 878ء
مقام تدفین: رے (موجودہ تہران کے قریب)، ایران
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com